خبردار! اب اراکین اسمبلی کی توہین پر بھی سزا ہو گی

توہین پارلیمنٹ کا بل قومی اسمبلی کے بعد گزشتہ روز سینیٹ میں بھی منظور کرلیا گیا۔ پارلیمنٹ کی جانب سے توہینِ پارلیمنٹ بل کی منظوری کا معاملہ سیاسی اور عوامی حلقوں میں موضوعِ بحث بنا ہوا ہے۔ بعض حلقے اس بل کو پارلیمان کی بالادستی کے لیے ضروری قرار دے رہے ہیں جب کہ بعض مبصرین کہتے ہیں کہ اس سے اداروں کے درمیان محاذ آرائی مزید بڑھے گی۔خیال رہے کہ رواں برس مئی میں قومی اسمبلی سے منظور ہونے والا ’توہین پارلیمنٹ بل‘ ایک ضمنی ایجنڈے کے طور پر سینیٹ میں پیش کیا گیا، سینیٹ سے بل کی منظوری کے بعد اب اس مجوزہ قانون کو صدر کی منظوری کے لیے بھیجا جائے گا تاکہ اسے پارلیمنٹ کا ایکٹ بنایا جا سکے۔خیال رہے کہ توہین پارلیمنٹ کا بل ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پارلیمنٹ اور عدلیہ کے درمیان بالادستی کی جنگ جاری ہے، اراکین اسمبلی عدلیہ پر پارلیمنٹ کے دائرہ کار میں مداخلت اور ماضی میں فوجی حکومتوں کی توثیق کا الزام عائد کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ قومی اسمبلی کے بعد سینیٹ سے پاس ہونے والے اس بل کے تحت مجلسِ شوری یعنی پارلیمنٹ یا اس کی کسی کمیٹی کی تحقیر یا کسی ایوان یا رکن کا استحقاق مجروح کرنے پر سزا ہو گی۔ایوان یا ایوان کی کسی کمیٹی کے احکامات یا ہدایات کی خلاف ورزی کرنے والے پر کسی رکن، ایوان یا کمیٹی کا استحقاق توڑنے پر یہ قانون لاگو ہوگا۔مجوزہ قانون کے تحت اسپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے تشکیل دی جانے والی توہین پارلیمنٹ کمیٹی میں 5 ارکان شامل ہوں گے جن میں سے 3 قومی اسمبلی اور 2 سینیٹ سے ہوں گے۔سیکریٹری قومی اسمبلی، توہین پارلیمنٹ کمیٹی کے سیکریٹری کے طور پر کام کریں گے، مجوزہ قانون اسپیکر کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ اس ایکٹ کے نافذ ہونے کے 30 روز کے اندر توہین پارلیمنٹ کمیٹی تشکیل دے سکتا ہے۔قومی اسمبلی اور سینیٹ سے 2، 2 ارکان کے نام دونوں ایوانوں میں قائد حزب اختلاف اور پارلیمانی لیڈر تجویز کریں گے، جبکہ قومی اسمبلی کے ایک رکن کو اسپیکر اسمبلی نامزد کریں گے، کمیٹی کو اکثریتی فیصلے سے سزائیں دینے کا اختیار حاصل ہوگا۔بل میں کہا گیا ہے کہ جو بھی اس قانون کے تحت توہین پارلیمنٹ کا ارتکاب کرے گا اسے قید کی سزا دی جائے گی جو 6 ماہ تک ہو سکتی ہے یا جرمانہ عائد کیا جائے گا جو کہ 10 لاکھ روپے تک ہو سکتا ہے یا دونوں سزائیں دی جائیں گی۔

بل کے مطابق توہین پارلیمنٹ کمیٹی کو ’کوڈ آف سول پروسیجر 1908‘ کے تحت سول عدالتوں کو دیے گئے اختیارات حاصل ہوں گے، جس کے تحت کمیٹی کسی بھی شخص کو حاضری اور دستاویزات پیش کرنے کا پابند کرسکے گی۔کمیٹی کے سامنے تمام کارروائی نیم عدالتی ہو گی اور کمیٹی کی جانب سے ریکارڈ کا حصہ بنائی گئی کوئی بھی دستاویز یا ثبوت کسی بھی عدالت میں بطور ثبوت قابل قبول نہیں ہوں گے۔بل کے سیکشن 10 میں کہا گیا ہے کہ ایوان کا کوئی بھی فیصلہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے ذریعے عمل میں لایا جائے گا، اس قانون کے تحت فیصلے کے خلاف کوئی بھی اپیل 30 دن کے اندر اسپیکر یا چیئرمین کے سامنے دائر کی جا سکتی ہے۔قومی اسمبلی یا سینیٹ کی استحقاق کمیٹی 60 روز کے اندر پارلیمنٹ کے استحقاق کی خلاف ورزی یا پارلیمنٹ کی توہین کے معاملے پر سفارشات کے ساتھ ایک رپورٹ تیار کرے گی اور اس کی رپورٹ متعلقہ ایوان میں رکھ دی جائے گی تاکہ اس معاملے کو توہین پارلیمنٹ کمیٹی کو بھیج دیا جائے۔

بل کے مطابق اس ایکٹ کے تحت ایسا کوئی بھی شخص توہین پارلیمنٹ کا مجرم ہوگا، اگر اس نے جان بوجھ کر کسی رکن، ایوان یا کمیٹی کے استحقاق کی خلاف ورزی کی، اراکین کے استثنیٰ یا مراعات کی ضمانت دینے والے کسی قانون کی خلاف ورزی کی، ایوان یا کمیٹی کے کسی حکم یا ہدایت کو ماننے میں ناکام رہا یا انکار کیا، ثبوت دینے سے انکار کیا یا کمیٹی کے سامنے جھوٹا بیان ریکارڈ کرایا، کسی گواہ کو ثبوت فراہم کرنے، دستاویزات پیش کرنے یا کمیٹی کے سامنے پیش ہونے سے روکنے کی کوشش کی، کوئی بھی دستاویزات فراہم کرنے میں ناکام رہا یا ایوان/کمیٹی کے سامنے ترمیم شدہ دستاویزات جمع کرائے۔

واضح رہے کہ پاکستان میں حالیہ عرصہ میں پارلیمنٹ کی طرف سے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے اختیارات اور بالخصوص ازخود نوٹس کے حوالے سے رولز میں تبدیلی کے لیے پریکٹس اینڈ پروسیجر بل لائے جانے اور اس پر عدالتی حکم امتناع کے بعد یہ بحث جاری ہے کہ عدلیہ اور پارلیمان ایک دوسرے کی حدود میں کیسے مداخلت کرسکتے ہیں۔عدلیہ پاکستانی پارلیمان کی طرف سے اس بل کو اپنی حدود میں مداخلت سمجھتی ہے جب کہ پارلیمان اس بل پر عدالتی حکم امتناع کو پارلیمنٹ کو زیراثر لانے کا اقدام سمجھتی ہے۔اس بل کے وقت پارلیمنٹ میں یہ تجویز بھی سامنے آئی تھی کہ ججز کو پارلیمنٹ کی استحقاق کمیٹی کے سامنے بلایا جائے لیکن اس تجویز پر عمل درآمد نہ ہوسکا ۔خیال رہے کہ ماضی میں کئی ارکان پارلیمنٹ، وزرا اور وزرائے اعظم عدالتوں کے سامنے پیش ہوکر اپنے عہدوں سے محروم ہوتے رہے ہیں ۔ حالیہ دنوں میں حکومت کی طرف سے عدلیہ کے خلاف سخت موقف کو دونوں اداروں کے درمیان ٹکراؤ قرار دیا جارہا ہے

Back to top button