خبردار! آلودہ فضا میں سانس لینا موذی مرض کا شکار کر سکتا ہے

آلودہ فضا نہ صرف انسان کو سانس کی بیماریوں میں مبتلا کرنے کا باعث بنتی ہے بلکہ اگر تین سال مسلسل اسی فضا میں سانس لیا جائے تو انسان پھیپھڑوں کے کینسر کے جیسے موذی مرض کا شکار ہو سکتا ہے۔
کل 33 ہزار افراد پر تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ہوا میں آلودگی کے باریک ذرات کی بہتات صرف تین برس کے مختصر عرصے میں پھیپھڑوں کے خلیات اور ٹشوز (بافتوں) میں جذب ہو کر جینیاتی تبدیلیوں کی وجہ بن سکتے ہیں اور اس کا نتیجہ کینسر کی صورت میں بھی برآمد ہو سکتا ہے یہاں تک کہ صحت مند پھیپھڑے مختصر مدت میں سرطان زدہ ہو جاتے ہیں۔
برطانیہ میں واقعہ فرانسس کرک انسٹی ٹیوٹ سے وابستہ چارلس سوینٹن اور ان کے ساتھیوں نے کہا ہے کہ نارمل حالات میں خلیات تندرست رہتے ہیں لیکن کئی طرح کے آلودگی کے ذرات انہیں سرطان زدہ کر سکتے ہیں اور جینیاتی تبدیلی کی جانب دھکیل سکتے ہیں۔
ہزاروں افراد کے مطالعے سے معلوم ہوا ہے کہ فضائی آلودگی کے ذرات ایپی ڈرمل گروتھ فیکٹر (ای جی ایف آر) کا خطرہ بڑھاتے ہیں یہاں تک کہ سگریٹ نہ پینے والے افراد بھی سرطان جیسے موذی میں مبتلا ہو سکتے ہیں۔
محتاط اندازے کے مطابق آلودگی میں موجود 2.5 مائیکرومیٹر جسامت کے ذرات بالخصوص سرطان کی وجہ بن سکتے ہیں لیکن انہی ذرات کے امراضِ قلب اور پھیپھڑوں کے سرطان پر اثرات بھی سامنے آ چکے ہیں اور مسلمہ ہیں۔ اس کی تصدیق چوہوں پربھی کی گئی ہے یعنی انہیں 2.5 مائیکرومیٹر جسامت کے ذرات کے سامنے سے گزارا گیا تو ان میں بھی پھیپھڑوں کے سرطان کا خطرہ بلند ہوگیا۔
دوسری جانب برطانیہ، جنوبی کوریا اور تائیوان کے 32,957 افراد کا طویل جائزہ لیا گیا تو جن جن افراد کو 2.5 مائیکرومیٹرذرات کا سامنا ہوا ان میں ای جی ایف آر میں تبدیلی دیکھی گئی جو بعد میں کینسر کی وجہ بنی۔ پھر اس کا موازنہ مزید 407,509 افراد کے ڈیٹا سے کیا گیا جن کے کوائف برطانیہ کے بایوبینک سے لیے گئے تھے۔
ماہرین صحت اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ آلودہ ہوا میں موجود 2.5 مائیکرو میٹر ذرات جینیات تبدیل کر کے کینسر کی وجہ بن سکتے ہیں جو ہزاروں افراد میں ثابت ہو چکی ہے، اس لیے آلودہ فضا سے بچائو کیلئے ماسک کا استعمال موذی مرض سے بچائو میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

Back to top button