خلائی مخلوق نے پولنگ اسٹاف کو کیوں اور کیسے غائب کیا؟

پاکستانی عوام پچھلے 70 برس میں الیکشن کے دوران جعلی ووٹ ڈالے جانے کا سنا کرتے تھے۔ وہ ووٹ چوری ہونے کا بھی سنا کرتے تھے۔ بہت ہی ننگی دھاندلی ہونے کی صورت میں عوام ووٹوں سے بھرے بکسے چوری ہونے کا بھی سنا کرتے تھے۔ لیکن اب نئے پاکستان میں تاریخ میں پہلی مرتبہ پولنگ اسٹاف خلائی مخلوق کے ہاتھوں ووٹوں سے بھرے تھیلوں سمیت چوری ہوگیا جس سے ثابت ہوا کہ کپتان کا نیا پاکستان واقعی تبدیل ہو چکا ہے۔ جی ہاں ہم بات کر رہے ہیں ڈسکہ میں قومی اسمبلی کے حلقے این اے 75 کی جہاں رات گئے مسلم لیگ نواز کی نوشین افتخار کی فتح کا غیر سرکاری اعلان ہو گیا تھا۔ تاہم الیکشن کمیشن نتائج کا اعلان اس لئے نہیں کر پا رہا تھا کہ اس کو بیس پولنگ اسٹیشنز سے نتائج کا انتظار تھا۔ لہذا جب رات کے بارہ بجے تک ان بیس پولنگ اسٹیشنز کا عملہ الیکشن کمیشن کے راستے میں نہ آ سکا تو چیف الیکشن کمشنر نے اپنے گمشدہ سٹاف کی تلاش کا عمل شروع کیا۔ بالآخر صبح 6 بجے الیکشن کمیشن کو پتہ چلا کہ گمشدہ پولنگ سٹاف ووٹوں سے بھرے بیٹوں سمیت برآمد ہو گیا ہے۔ انکی جانب سے جمع کروائے گے تھیلوں میں موجود ووٹوں کی تعداد یہ بتاتی ہے کہ این اے 75 کے ان 20 پولنگ اسٹیشنز پر 88 فیصد سے زیادہ ووٹ کاسٹ کیے گئے جو کہ ایک حیران کن بات تھی۔ جب عملے سے پوچھا گیا کہ "چن کتھاں گزاری آ ای رات وے” تو کسی نے بتایا کہ میں نیند کی شدت کی وجہ سے سو گیا تھا، کسی نے بتایا کہ میں دھند کی وجہ سے نتیجہ جمع کروانے نہیں پہنچ پایا، کسی کی گاڑی خراب ہوگئی تو کسی کی بیوی بیمار ہو گئی۔ تاہم حقیقت یہ تھی کہ ان لوگوں کو حکومت کے ایما پر خلائی مخلوق نے غائب کرلیا تھا اور پھر ان کے تھیلوں میں پی ٹی آئی کے ساجد ملہی کو جتوانے اور نواز لیگ کی نوشین افتخار کو ہرانے کے لیے مطلوبہ تعداد میں ووٹ بھر کے روانہ کر دیا تھا۔ چناچہ الیکشن کمیشن نے ان 20 پولنگ اسٹیشنز کے نتائج کو مشکوک قرار دے کر این اے 75 کا نتیجہ روک لیا ہے اور معاملے کی انکوائری کا حکم دے دیا ہے۔ دوسری جانب نواز لیگ نے ان 20 پولنگ سٹیشنز پر دوبارہ سے پولنگ کا مطالبہ کیا ہے اور سابق وزیر اعظم خاقان عباسی نے الزام لگایا ہے کہ ان پولنگ اسٹیشنز کے ریٹرننگ آفیسرز کو غیر زمینی مخلوق نے اغوا کر کے نتائج بدلنے کی خاطر اپنی تحویل میں لیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ووٹ کی عزت کو ایک مرتبہ پھر پامال کیا گیا ہے لیکن نواز لیگ کی ووٹ کو عزت دلوانے کی جدوجہد جاری رہے گی۔
ڈسکہ کے ضمنی الیکشن میں ہونے والی ننگی دھاندلی پر تنقید کرتے ہوئے سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس ایک حلقے میں دھونس اور دھاندلی کے زور پر الیکشن جیتنے کی خاطر عمران خان نے اپنی پوری حکومت کی سیاسی ساکھ کا جنازہ نکال کر رکھ دیا ہے جس کی تصدیق کے الیکشن کمیشن خود کر رہا ہے۔ الیکشن کمیشن نے اپنے ایک اعلامیے میں کہا ہے کہ این اے 75 کے 20 پولنگ سٹیشنز پر نتائج میں ردوبدل کا شبہ ہے۔ الیکشن کمیشن کے اعلامیے کے مطابق حلقہ این اے 75 کے 20 پولنگ سٹیشنز کے نتائج غیرضروری تاخیر کے ساتھ موصول ہوئے۔ 19 فروری کی رات الیکشن کمیشن کی ایک پریس ریلیز کے مطابق این اے 75 سیالکوٹ کے ضمنی الیکشن کے کل 360 پولنگ سٹیشنوں میں سے 340 کے نتائج اور پولنگ بیگز ریٹرننگ افسر کو موصول ہو چکے ہیں جبکہ بیس پولنگ اسٹیشنوں کا رزلٹ ریٹرننگ آفیسر کے پاس نہیں پہنچا۔ الیکشن کمیشن کے مطابق پولنگ کے بعد پولنگ اسٹاف اور پولنگ میٹریل کی ریٹرننگ افسر کے دفتر تک بحفاظت واپسی اور نتائج کی بروقت ترسیل پولیس اور مقامی انتظامیہ کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ پریس ریلیز کے مطابق چیف الیکشن کمشنر رات کے اس پہر بھی اپنے دفتر میں موجود ہیں۔ انہوں نے صوبائی الیکشن کمشنر پنجاب، چیف سیکرٹری اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر سے خود بات کی تاکہ لاپتہ پولنگ اسٹاف اور پولنگ میٹریل کا پتہ چل سکے۔ دونوں نے یقین دہانی کروائی کہ وہ پولنگ اسٹاف اور پولنگ میٹریل کی فوری اور بحفاظت واپسی کو یقینی بنائیں گے۔ اس سلسلے میں انسپکٹر جنرل پنجاب کمشنر گوجرانوالہ سیالکوٹ سے ان کے لینڈ لائن اور موبائل فونز پر کئی مرتبہ رابطے کی کوشش کی گئی لیکن کسی افسر نے ٹیلی فون اٹینڈ نہیں کیا۔ لہذا الیکشن کمیشن نے اس کوتاہی کا نوٹس لیتے ہوئے تنبیہہ کی ہے کہ اگر کسی پولنگ اسٹیشن کے رزلٹ یا پولنگ مٹیریل میں کسی قسم کی ردوبدل کا پتہ چلا تو تمام ذمہ داران افسران کے خلاف سخت کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔ الیکشن کمیشن نے یہ بھی حکم دیا ہے کہ انسپکٹر جنرل پنجاب پولیس اور چیف سیکرٹری پنجاب اس بات کو فوری یقینی بنائیں کہ پولنگ اسٹاف اور پولنگ میٹریل بحفاظت ٹریننگ افسر کے پاس پہنچ جائے۔
اسکے بعد 20 فروری کی صبح الیکشن کمیشن نے ایک اور پریس ریلیز جاری کی جس میں لکھا گیا کہ حلقہ این اے 75 سیالکوٹ کے نتائج غیر ضروری تاخیر کے ساتھ موصول ہوگے ہیں۔ پریس ریلیز کے مطابق صبح چھ بجے بیس پریذائیڈنگ آفیسر بمع پولنگ بیگ حاضر ہوئے لیکن ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسر اور ریٹرننگ آفیسر حلقہ این اے 75 سیالکوٹ نے اطلاع دی کہ ان بیس پولنگ اسٹیشنوں کے نتائج میں ردوبدل کا شبہ ہے لہذا مکمل انکوائری کے بغیر الیکشن کمیشن کا اس حلقے سے غیر ختمی نتائج جاری کرنا اب ممکن نہیں ہے۔ اس ضمن میں ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسر ایک تفصیلی رپورٹ الیکشن کمیشن کو ارسال کر رہا ہے۔ الیکشن کمیشن نے ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسر اور ریٹرننگ آفیسر سیالکوٹ کو این اے 75 کے غیر حتمی نتیجے کے اعلان سے روک دیا ہے اور اس معاملے کی مکمل انکوائری اور ذمہ داران کے تعین کے لیے ہدایات جاری کر دی ہیں۔
دریں اثنا مسلم لیگ ن کے سیکریٹری جنرل احسن اقبال نے وزیر آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ نواز لیگ نے عمران نیازی کو نہ صرف وزیر آباد اور ڈسکہ میں تاریخی شکست دی ہے بلکہ نوشہرہ میں بھی تحریک انصاف سے اسکے گھر کی نشست چھین لی ہے۔ لیکن اب حکومت دھونس اور دھاندلی کے زور پر ڈسکہ کے الیکشن نتائج کو تبدیل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’تحریک انصاف کو پہلے سندھ اور بلوچستان کے ضمنی الیکش میں بری شکست ہوئی، آج پنجاب اور خیبر پختونخوا کے عوام نے بھی اپنا فیصلہ دے دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نواز لیگ نے الیکشن نہ صرف حکومت سے جیتا ہے بلکہ بدترین انتظامیی دھاندلی کو بھی شکست دی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پی ٹی آئی کی شرمناک انتخابی شکست کے بعد عمران خان مستعفی ہوں، گھر جائیں اور نئے انتخابات کی راہ ہموار کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ضمنی الیکشن کے نتائج سامنے آنے کے بعد موجودہ حکمراں ہر قسم کا اخلاقی اور سیاسی جواز کھو چکے ہیں۔ عوام نے انہیں بڑی طرح مسترد کیا ہے یہ مسترد شدہ قیادت عوام کو قابل قبول نہیں ہے۔ احسن اقبال نے کہا کہ اگر عمران نیازی مستعفی نہں ہوں گے تو 26 مارچ کو عوام انکا استعفی لینے اسلام آباد پہنچیں گے۔
دوسری جانب این اے 75 کے ضمنی انتخاب میں تحریک انصاف نے اپنی جیت کا دعویٰ کر دیا یے حالانکہ 19 فروری کی رات 360 میں سے 340 پولنگ اسٹیشنز کے انتخابی نتائج کے مطابق نواز لیگ کی نوشین افتخار پی ٹی آئی کے امیدوار ساجد ملہی سے ہزاروں ووٹ آگے تھیں۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی روابط شہزاد گل نے ایک ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ ’اللہ کا شکر مریم اور ان کے پاپا کے بیانیے کو شکست ہوئی اور پی ٹی آئی این اے 75 کا الیکشن 7 ہزار 827 ووٹوں سے جیت گئی، جب آپ ریاست مخالف بیانیہ دیں گے، کرپشن کریں گے تو ہار آپ کا مقدر ہوگی‘۔
دوسری جانب مریم نواز نے اس حکومتی دعوے کو سختی سے رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پورے ڈسکہ کی عوام جانتی ہے کہ الیکشن نواز لیگ کی امیدوار نے جیتا یے۔ انہوں نے کہا کہ انکی جماعت کے کارکنوں نے پی پی51 وزیرآباد میں بھی پی ٹی آئی کے لیے ہونے والی ووٹ چوری کو رنگے ہاتھوں پکڑ لیا۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر مریم نواز نے کہا کہ ‘پی ٹی آئی کے لوگوں کی جانب سے کی جانے والیل ووٹوں کے بیگز کی چوری کو عطااللہ تارڑ نے رنگے ہاتھوں پکڑ لیا۔’ مریم نواز نے اپنی ایک اور ٹویٹ میں پیغام دیا کہ ‘میں ان سب کو خبردار کرنا چاہتی ہوں جو ڈسکہ سے نتائج تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہیں یہ کام مہنگا پڑے گا۔’ انھوں نے کہا کہ ‘یہ سرعام دھاندلی ہے’ اور دعویٰ کیا کہ یہ سب پی ٹی آئی کی ایما پر کیا گیا۔ مریم نوازنے ٹوئٹر پر کئی ویڈیوز بھی جاری کیں جن میں دھاندلی کرنے کے مناظر ہیں۔ مریم نے کہا کہ ہم اب ان حرکتوں کو ایسے نہیں جانے دیں گے، اور جو 2018 میں ہوا اب مزید نہیں ہوگا۔’ سینئیت صحافی حامد میر نے بھی اسی حوالے سے ٹویٹ کی اور لکھا کہ گمشدہ ہونے والے پولنگ افسران واپس آ گئے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ دھند کی وجہ سے گم ہو گئے تھے۔ اسی تناظر میں صحافی احمد نورانی نے ٹوئٹر پر سوال اٹھایا کہ ’جن جن پولنگ اسٹیشنز کا عملہ ’غائب‘ ہوا, صرف انھی کو دھند کا سامنا کرنا پڑا اور انھی کے موبائل بند ہوئے۔‘
