خواجہ آصف کی گرفتاری حکومت اور اسٹیبلشمنٹ میں اختلاف کا شاخسانہ

قومی احتساب بیورو کی جانب سے نون لیگی رہنما خواجہ محمد آصف کی اچانک گرفتاری کو حکومت اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے مابین اختلافات کا شاخسانہ قرار دیا جا رہا ہے چونکہ خواجہ آصف نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کے لیے نواز لیگ میں سب سے اہم کردار ادا کیا تھا اور انہیں اسٹیبلشمنٹ کے قریب تصور کیا جاتا تھا۔
خواجہ آصف اور جنرل قمر باجوہ کے قریبی تعلقات کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب 2018 کے الیکشن میں خواجہ آصف کے حلقے میں گڑبڑ کے آثار نظر آئے تو انہوں نے فوری طور پر آرمی چیف سے رابطہ کیا تھا۔ یوں اپنی قومی اسمبلی کی نشست بچانے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ بعد ازاں جنرل قمر باجوہ کی توسیع کے معاملے پر خواجہ آصف نواز لیگ میں اس دھڑے کی قیادت کر رہے تھے جو کہ بوٹ کو عزت دینے کا بیانیہ لے کر چل رہا تھا۔ اس دھڑے کو شہباز شریف کا حامی خیال کیا جاتا تھا جو کہ پہلے ہی اپنا مفاہمتی بیانیہ ناکام ہونے کے بعد نیب کی حراست میں ہیں۔ یاد رہے کہ خواجہ آصف کے مفاہمتی بیانیے کی مخالفت میں نواز لیگ میں شاہد خاقان عباسی کی قیادت میں ایک دھڑا سرگرم عمل تھا جو نہیں چاہتا تھا کہ آرمی چیف کو توسیع دے کر نواز لیگ کے اسٹیبلشمینٹ مخالف بیانیے کا جنازہ نکالا جائے اور ووٹ کی عزت کا نعرہ لے کر چلنے والوں کا منہ کالا کیا جائے۔ تاہم آخری لمحات میں شہباز شریف اور خواجہ آصف نے نواز شریف کو منانے میں اہم ترین کردار ادا کیا جس کے بعد نون لیگ نے پارلیمنٹ میں جنرل قمر جاوید باجوہ کے عہدے میں توسیع کے بل کی حمایت کر دی۔ تاہم ایسا کرتے وقت فوجی قیادت کی جانب سے میاں صاحب نے کچھ یقین دہانیاں بھی حاصل کی تھیں جن پر بعد میں عمل درآمد نہ ہو سکا اور یوں آرمی چیف کی توسیع کے بعد نواز شریف اور اسٹیبلشمنٹ کے معاملات خراب تر ہو گئے۔
اندر کی خبر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر نیب نے فوجی اسٹیبلشمنٹ کے قریب سمجھے جانے والے شہباز شریف کو تو گرفتار کر لیا تھا لیکن اب انہیں خواجہ آصف کی طرف سے یہ خطرہ تھا کہ وہ ان کی حکومت کے خلاف اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر کوئی سازش کر سکتے ہیں۔ عمران خان کو شک تھا کہ سینیٹر محمد علی درانی کی شہباز شریف کے ساتھ جیل میں حالیہ ملاقات اسی سازش کا حصہ ہے کیونکہ اس سے پہلے خواجہ آصف بھی جیل میں شہباز شریف کے ساتھ ایک خفیہ ملاقات کر چکے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ عمران خان نے جیل میں شہباز شریف کے ساتھ ان دونوں ملاقاتوں کو رکوانے کی بھرپور کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہو پائے کیونکہ ملنے والے لوگ اسٹیبلشمنٹ کے طاقتور حلقوں کا پیغام لے کر گئے تھے۔
لہذا 29 دسمبر کی رات اسلام آباد میں ن لیگ کے پارلیمانی لیڈر خواجہ آصف کی گرفتاری کے بعد سیاسی حلقوں میں یہ چہ میگوئیاں ہو رہی ہے کہ نیب نے انہیں دراصل وزیراعظم عمران خان کے کہنے پر گرفتار چونکہ وہ اسٹیبلشمنٹ کے ذریعے نواز لیگ کے معاملات آگے بڑھا رہے تھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں اسٹیبلشمنٹ کے قاصد محمد علی درانی کی لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں نون لیگ کے صدر میاں شہباز شریف سے ملاقات کے بعد عمران خان کو لگتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ انہیں فارغ کرکے شہباز شریف گروپ کو اقتدار سونپنا چاہتی ہے۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کی آشیرباد سے درانی نے جیل میں شہباز شریف سے طویل ملاقات کرکے مقتدر قوتوں کی جانب سے مفاہمت کا پیغام پہنچایا۔درانی کی جیل میں شہباز شریف سے ملاقات کے حوالے سے حکومتی وزراء کا کہنا ہے کہ انہیں علم نہیں کہ اس ملاقات کے پیچھے کون ہے۔ تاہم خواجہ آصف نے اپنے ایک ٹویٹ میں بتا دیا تھا کہ درانی نے مقتدر حلقوں کے کہنے پر شہباز شریف سے ملاقات کرکے مفاہمت کا پیغام پہنچایا ہے۔
تجزیہ کاروں کے خیال میں وزیراعظم عمران خان کی جانب سے اپنی کرسی کے حوالے سے فکرمندی اس لیے واضح نظر آرہی ہے کیونکہ بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل گروپ حکومت سے الگ ہوکر اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم میں شامل ہو چکا ہے۔ دوسری جانب مسلم لیگ قاف کے بعد ایم کیو ایم پاکستان اور بلوچستان عوامی پارٹی بھی تحریک انصاف حکومت سے نالاں نظر آتی ہے۔ اب حال ہی میں محمد علی درانی کی اسٹبلشمنٹ کے ایماء پر جیل میں لیگی صدر شہباز شریف سے ملاقات کے بعد کپتان کو لگتا ہے کہ یہ سارا کھیل انہیں اقتدار سے فارغ کرنے کے لیے رچایا جا رہا ہے۔ ایسے میں عمران خان کو یہی مناسب لگا کہ خواجہ آصف کو جیل میں ڈال کر اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ان کے رابطے ختم کردیئے جائیں۔ یوں ان کا اقتدار وقتی طور پر محفوظ ہو جائے گا۔
یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ گرفتاری کے بعد خواجہ محمد آصف نے نیب کی حراست میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے یہ انکشاف کیا ہے کہ پچھلے دو سال سے ان پر یہ دباؤ ڈالا جارہا تھا کہ وہ نواز شریف کا ساتھ چھوڑ دیں۔ تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ ان پر دباؤ کس جانب سے ڈالا جارہا تھا۔ خواجہ آصف کی گرفتاری پر تبصرہ کرتے ہوئے ان کے قریبی رفقاء کا کہنا ہے کہ یہ تاثر بالکل غلط ہے کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کے بہت قریب ہیں اور انہیں مستقبل کے سیاسی سیٹ اپ میں کسی بہت بڑے حکومتی عہدے کی پیشکش کی گئی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ خواجہ آصف نے قومی اسمبلی اور پھر اپوزیشن اتحاد کے پلیٹ فارم سے حالیہ ہفتوں میں وزیراعظم عمران خان کے خلاف سخت الفاظ پر مبنی تقاریر کیں جس وجہ سے وزیراعظم سخت نالاں تھے اور شاید ان کی گرفتاری کی ایک وجہ یہ بھی ہو۔
