نواز شریف کی دوبارہ فوجی قیادت کو سلیکٹرز قرار دے کر تنقید


سابق وزیر اعظم نواز شریف نے اپنا فوجی اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیہ دہراتے ہوئے کہا ہے کہ سلیکٹڈ اور سلیکٹرز دونوں کے احتساب کا وقت قریب ہے اور اب ان کے جانے کی نشانیاں سامنے آنا شروع ہوگئی ہیں۔
خواجہ آصف کی آمدن سے زائد اثاثوں کے کیس میں گرفتاری پر لندن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ ایسے الزامات ایک ڈراما ہیں اور پی ڈی ایم اس طرح کے ہتھکنڈوں سے کمزور نہیں ہوگی۔ نواز شریف نے کہا کہ آمدن سے زائد اثاثوں جیسے کیسوں سے بڑا ڈراما ہم نے کبھی زندگی میں نہیں دیکھا۔ جس کے خلاف کوئی کیس نہ ہو اس کو آمد سے زیادہ اثاثوں کے کھاتے میں گرفتار کر لیا جاتا ہے اور اب یہ سلسلہ ایک مذاق بن چکا ہے۔
نواز شریف نے کہا کہ ‘اگر ایسے ہتھکنڈے استعمال کرنے والا سلیکٹڈ اور سلیکٹرز سمجھتے ہیں کہ پی ڈی ایم کی تحریک کمزور پڑ جائے گی تو یہ ان نااہل لوگوں کی خام خیالی ہے’ ایسے ہتھکنڈوں سے تو اپوزیشن اور مضبوط ہوگی اور حکومت اور کمزور ہو گی۔ سابق وزیراعظم نے کہا کہ ‘انہیں سمجھ ہی نہیں ہے کہ ملک کیسے چلاتے ہیں یا ان کو سمجھ نہیں ہے احتساب کس کا نام ہے اور انہیں سمجھ نہیں ہے کہ پاکستان کو کس طرف لے کر جارہے ہیں’۔
نواز شریف نے کا کہنا تھا کہ سلیکٹڈ وزیر اعظم ملک کی تباہی و بربادی اور اپنی ناکامی کا اعتراف خود کر چکے ہیں، اور کہتے ہیں کہ ہمیں تجربہ اعر سوجھ بوجھ نہیں تھی۔ لیکن سوال تو یہ ہے کہ ان کو تو اقتدار میں آئے ڈھائی سال ہو چکے اور پھر بھی یہ ابھی سیکھنے کی بات کر رہے ہیں۔
نواز شریف نے کہا کہ ‘میرا خیال ہے ان سے بھی پوچھا جائے اور انکو لانے والوں سے بھی پوچھا جائے کے ملک کی تباہی اور بربادی کی ذمہ داری کس پر عائد ہونی چاہیے۔
نواز شریف نے کہا کہ خواجہ آصف کی گرفتاری حکومت کی پریشانی ظاہر کرتی ہے اور ان ہتھکنڈوں سے یہ اپنی فراغت کا عمل اور بھی تیز کر رہی یے۔ انہوں میں نے کہا کے اب سلیکٹرز اور سلیکٹ دونوں کے احتساب کا وقت قریب ہے اور عوام کو اپنی جدوجہد تیز کر دینی چاہیے۔
نواز شریف نے کہا کہ عمران کے ساتھ ہمارا کوئی مقابلہ نہیں ہے بلکہ ہمارا مقابلہ ان سے ہے جو کہ پہلے اسے حکومت میں لائے تھے اور اب اس کا اقتدار بچا رہے ہیں۔ تاہم ماضی کے برعکس نواز شریف نے تنقید کرتے وقت صرف سلیکٹرز کا لفظ استعمال کیا اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور آئی ایس آئی چیف لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کا نام لینے سے احتراز برتا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button