دارالامان میں آرزو راجا کی دیکھ بھال کیلئے سماجی بہبود کی نمائندہ مقرر کرنے کا حکم

سندھ ہائی کورٹ نے صوبائی حکومت کو کم عمر مسیحی لڑکی آرزو کی فلاح و بہبود کو یقینی بنانے کے لیے شیلٹر ہوم (دارالامان) میں ایک خاتون نمائندہ مقرر کرنے کی ہدایت کردی۔
خیال رہے کہ آرزو نے اسلام قبول کیا تھا اور مرضی سے شادی کی تھی۔ لڑکی کے ساتھ 2 دیگر درخواستوں کو نمٹاتے ہوئے جسٹس کے۔ کے آغا کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے 13 سالہ آرزو کو دوبارہ پناہ شیلٹر ہوم بھیج دیا کیوں کہ لڑکی نے اپنے والدین کے ساتھ جانے سے انکار کردیا تھا۔ کیس کی سماعت کے آغاز میں مقدمہ کے تفتیشی افسر نے چارج شیٹ کی ایک نقل بینچ کے سامنے رکھی جو بعد میں جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے پیش کی جائے گی۔ تاہم بینچ کی جانب سے پولیس کو ہدایت کی گئی کہ وہ مفروروں کا سراغ لگانے کےلیے اپنی ہر ممکن کوششیں بروئے کار لاکر انہیں انصاف کے کٹہرے میں لائے۔ دوران سماعت درخواست گزار لڑکی کی جانب سے ایک مرتبہ پھر اپنے والدین کے ساتھ جانے سے انکار کیا گیا جس پر بینچ نے یہ آبزرو کیا کہ چونکہ لڑکی صرف 13 سے 14 سال کی ہے تو اس کی شادی قانونی طور پر درست نہیں اور اسے مبینہ شوہر کے ساتھ نہیں بھیجا جاسکتا۔ بینچ نے کہا کہ لڑکی کی عمر اور صنف کی وجہ سے سیکریٹری داخلہ محکمہ سماجی بہبود سے ایک خاتون نمائندے کو مقرر کریں گے جو ہفتے میں کم از کم ایک بار شیلٹر ہوم کا دورہ کریں گی تاکہ جسمانی اور ذہنی صحت، اسکولنگ اور دیگر متعلقہ معاملات کے حوالے سے فلاح و بہبود کو یقینی بنایا جائے۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ دارالامان میں قیام کے دوران درخواست گزار اپنی زندگی کے انتخاب پر غور کرسکتا ہے جبکہ اسے اپنے مبینہ شوہر اور رشتے داروں کے علاوہ ان سے ملنے کی اجازت ہوگی جس سے وہ ملاقات کےلیے راضی ہو۔ اس موقع پر درخواست گزار کے وکیل نے دوبارہ اعتراض کیا کہ یہ شادی وفاقی حکومت کے شادیوں سے متعلق قانون کے تحت قانونی ہے تاہم بینچ کی جانب سے کہا گیا کہ یہ معاملہ کسی اور وقت کسی متعلقہ فورم پر اٹھایا جاسکتا ہے۔
علاوہ ازیں اسی بینچ نے مرضی کی شادی کرنے والی ایک اور کم عمر لڑکی لبنیٰ بی بی کو بھی شیلٹر ہوم بھیج دیا۔ لڑکی کی جانب سے سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے مؤقف اپنایا گیا تھا کہ انہوں نے فضل رشید سے شادی کی اور وہ تحفظ چاہتی ہیں۔ اس موقع پر عدالت کو میڈیکل بورڈ نے آگاہ کیا کہ درخواست گزار کی عمر 16 سے 17 سال کے درمیان ہے۔ دوسری جانب تفتیشی افسر انسپکٹر شارق احمد صدیقی نے اسپیشل پبلک پراسکیوٹر کے ساتھ آرزو کیس میں چارج شیٹ جمع کروائی تاکہ اس کی جانچ کی جائے۔ اس چارج شیٹ کو آج (منگل) کو جوڈیشل مجسٹریٹ (جنوبی) محمد علی ڈل کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ تفتیشی افسر آرزو راجا کی سید علی اظہر کے ساتھ کم عمری کی شادی کےلیے رسمی تقاضے پورے کرنے اور سہولت فراہم کرنے پر نے مولوی قاضی عبدالرسول، جنید علی صدیقی اور محمود حسن کو ملزم نامزد کیا ہے۔ یہ تمام افراد مذکورہ کیس میں گرفتاری سے بچنے کےلیے پہلے ہی عبوری ضمانت قبل از گرفتاری حاصل کرچکے ہیں۔ تفتیشی افسر نے جسٹس آف پیس اظہرالدین، محمد دانش اور حبیب کو سرخ سیاہی کے ساتھ مفرور ظاہر کیا جس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے خلاف ناقابل تردید ثبوت موجود تھے لیکن ابھی بھی بڑے پیمانے پر تھے اور ان کے ایک مرتبہ گرفتار ہونے کے بعد ہی ان کے خلاف مقدمہ چلایا جائے گا۔ تاہم تفتیشی افسر نے عدم ثبوتوں کی بنیاد پر سید علی اظہر کے 2 بھائیوں سید محسن علی اور سید شارق علی، ایک دورست دانش کے خلاف چارچ شیٹ نہیں دی۔
واضح رہے کہ مبینہ مرکزی ملزم سید علی اظہر اس وقت عدالتی تحویل میں ہیں جبکہ اس کے بھائی اور دوست ضمانت قبل از گرفتاری پر ہیں۔
چارج شیٹ میں تفتیشی افسر نے مقدمے کےلیے 8 افراد کو بطور گواہ درج کیا ہے، مزید یہ کہ اس نے دفعہ 364 اے (اغوا یا 14 سال سے کم عمر فرد کو اغوا کرنا) کو ہٹا کر اسے دفعہ 375 (4) سے تبدیل کردیا جو ریپ سے متعلق ہے۔
