دوبارہ دانت اگانے والی دوا جلد انسانوں پر آزمائی جائے گی

جاپانی سائنسدانون نے ایک بہت اچھی خبر کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی تیارکردہ دوا دانتوں سے محروم افراد میں دوبارہ نیا دانت اگاسکتی ہے۔ تجربہ گاہی آزمائش کے بعد اگلے سال یہ دوا انسانی آزمائش کا حصہ بن سکے گی۔اوساکا میں واقع ’میڈیکل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ برائے کِٹانو ہسپتال‘ کے سائنسدانوں نے کہا ہے کہ جانوروں پر آزمائش سے بہت حوصلہ افزا نتائج ملے ہیں۔ انسانوں پر فیزتھری ٹرائل اگلے سال جولائی سے شروع ہوسکتا ہے اور اس عشرے کے آخر تک یہ دوا مارکیٹ میں عام دستیاب ہوگی تاہم یہ انسانی تجربات اور ان کے نتائج سے مشروط ہوگی۔
یہ دوا بطورِ خاص یو ایس اے جی ون، نامی پروٹین کو روکتی ہے۔ انہوں نے چوہوں پرغور کیا تو معلوم ہوا کہ یوایس اے جی ون نامی پروٹین بنانے والے جین کی عدم موجودگی میں ان میں ایک اضافی دانت اگنے لگا۔ پھرمعلوم ہوا کہ یہ پروٹین دانتوں کی افزائش روکتا ہے۔ اسے بند کرنے کے لیے ایک اینٹی باڈی تیار کی گئی ہے جو کسی مضر اثر کے بغیر یوایس اے جی ون کا راستہ روکتی ہے۔
ماہرین کا خیال ہے تھوڑٰی تبدیلی کے بعد اسے ان بوڑھے افرادپرآزمایا جائے گا جو اپنے دانتوں کا دوسرا سیٹ بھی گنوادیتے ہیں۔
