دو بڑوں کی ملاقات : کیا ڈیڈ لاک واقعی ٹوٹ گیا؟


باخبر سرکاری ذرائع نے عسکری اور حکومتی قیادت کے مابین نئے ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری پر پیدا ہونے والے ڈیڈ لاک کی تصدیق کرتے ہوئے کہا یے کہ سر توڑ کوششوں کے بعد دونوں سائڈز لچک دکھانے پر آمادہ ہو گئی ہیں اور مسئلہ حل ہونے کے قریب پہنچ گیا ہے جس کے بعد ندیم انجم بطور نئے ڈی جی آئی ایس آئی چارج سنبھال لیں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ فوجی اور عسکری قیادت کے مابین جمی برف کو توڑنے کے لئے ایک وفاقی وزیر نے اہم ترین کردار ادا کیا ہے۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے ساتھ جاٹ کنکشن رکھنے والے وفاقی وزیر کے حوالے سے بتایا جارہا ہے کہ انہوں نے دونوں شخصیات کے مابین پیغام رساں بن کر فائرفائٹر کا کردار ادا کیا جس کے بعد دو بڑوں کے مابین ایک خفیہ ملاقات بھی ہو گئی اور اس حوالے سے جلد خوش خبری آنے والی ہے۔

جب ذرائع سے سوال کیا گیا کہ کیا یہ خوشخبری کسی نوٹیفیکیشن کی صورت میں آئے گی تو انکا کہنا تھا کہ ماضی میں بھی آئی ایس آئی چیف کی تقرری کا اعلان اکثر فوج کے ادارے کی جانب سے ہی کیا جاتا ہے اور اسکا نوٹیفکیشن بھی پبلک نہیں کیا جاتا، لیکن کیونکہ اس مرتبہ معاملہ ذرا حساس ہو چکا ہے لہذا قوی امید ہے کہ ڈی جی آئی ایس آئی کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کا حکومتی اعلان بھی چند روز میں سامنے آ جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ نئے ڈی جی آئی ایس آئی کے نوٹیفیکیشن کا عمل شروع کر دیا گیا ہے جس میں چند روز لگیں گے۔ تاہم اندر کی خبر رکھنے والے غیر سرکاری ذرائع کا کہنا ہے ہے کہ دونوں اطراف کے مابین اختلافات ختم کرنے کی کوششیں تو ضروری ہے لیکن اب تک مکمل کامیابی حاصل نہیں ہو پائی کیونکہ جب تعلقات میں دراڑ آجائے تو پھر اسے بھرنا مشکل ہوتا ہے۔

یاد رہے کہ فوج کے ادارہ تعلقات عامہ کی جانب سے 6 اکتوبر کو نئے ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری کا اعلان کیا گیا تھا جسکا نوٹیفکیشن ابھی تک جاری نہیں ہو پایا۔ اعلیٰ سطحی تبادلوں میں سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو کور کمانڈر پشاور مقرر کر دیا گیا تھا جب کہ کور کمانڈر کراچی لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد انجم کو 25واں ڈی جی آئی ایس آئی مقرر کیا گیا تھا۔ واضح رہے کہ لیفٹینیٹ جنرل فیض حمید نے جون 2021 میں بطور ڈی جی آئی ایس آئی اپنے عہدے کی دو سالہ مدت پوری کرلی تھی جس کے بعد سے انکی تبدیلی متوقع تھی۔ تاہم حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان جنرل فیض حمید کو اپریل 2021 تک ڈی جی آئی ایس آئی برقرار رکھنا چاہتے تھے۔ تاہم کیا جاتا ہے کہ فیض حمید پر نواز لیگ کی جانب سے الزامات میں شدت آنے کے بعد فوجی قیادت نے ادارے کی ساکھ بچانے کے لیے انہیں ٹرانسفر کرنے کا فیصلہ کیا۔ تاہم وزیراعظم ہاؤس کے ذرائع کا کہنا ہے کہ مریم نواز کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطے میں جنرل فیض حمید کو چارج شیٹ کیے جانے کے چند ہی گھنٹوں بعد ان کے تبادلے کا اعلان ہونا عمران خان کے لیے لئے تکلیف دہ تھا اور اسی وجہ سے مسئلہ کھڑا ہوا۔

تاہم اب سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پرافواہوں اور قیاس آرائیوں کا سیلاب ختم کرنے کے حوالے سے اہم پیش رفت ہوتی نظر آرہی ہے اور بتایا جا رہا ہے کہ دونوں بڑوں کے مابین ایک خفیہ ملاقات کے بعد برف پگھلتی نظر آرہی ہے۔ یاد رہے کہ سول اور فوجی قیادت کے درمیان ڈیڈ لاک کے حوالے سے پھیلی افواہوں سے کراچی اسٹاک مارکیٹ بھی بیٹھ چکی ہے اور حکومتی حلقے بھی غیر یقینی صورت حال کا شکار ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سول اور فوجی قیادت کے درمیان حالیہ ملاقات سے آگے بڑھنے کا راستہ نظر آیا ہے جس پر چلتے ہوئے معاملات کو حل کیا جائے گا۔ حالانکہ دو بڑوں کی خفیہ ملاقات کا ابھی کوئی نتیجہ سامنے نہیں آیا لیکن امید کی جا رہی ہے کہ ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری کا نوٹیفکیشن جلد جاری ہوجائے گا جس سے افواہوں کا خاتمہ ہوپائے گا۔

اس سے پہلے 11 اکتوبر کے روز وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے دعویٰ کیا تھا کہ سب معاملات ٹھیک ہیں، اور عمران خان پانچ سال پورے کریں گے۔ اسلام آباد میں پھیلی افواہوں کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہیں انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے آپ کو فوادچوہدری سے پوچھنا چاہیے لیکن جب بھی فوج میں ٹرانسفرز ہوتی ہیں، ایسی باتیں چلتی ہیں، لیکن میرے خیال میں معاملات اب ٹھیک ہیں اور عمران خان اپنے اقتدار کے پانچ سال پورے کریں گے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس وقت حکومت اور فوجی قیادت کے مابین ڈیڈلاک کی بنیادی وجہ عمران خان کی جانب سے آئی ایس آئی کا مکمل کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش میں بظاہر ناکامی یے۔ کہا جاتا ہے کہ وزیراعظم مستقبل میں بھی آئی ایس آئی کے ادارے کو اپنے سیاسی مفادات کے تحفظ کے لیے استعمال کرنا چاہتے تھے اور اسی لیے وہ اپنی مرضی کا نیا ڈی جی لانے پر مصر تھے، تاہم ایسا نہ ہوا پایا اور فوجی قیادت نے ایک پروفیشنل سولجر کو اس عہدے پر لانے کا فیصلہ کیا تاکہ آئی ایس آئی کی ک ساکھ کو بحال کیا جا سکے۔ یاد رہے کہ آئین کے تحت تو آئی ایس آئی کا بنیادی فرض دشمن ممالک کی سازشوں کا سراغ لگا کر انہیں کاؤنٹر کرنا ہے، لیکن پاکستان میں بقول وزیراعظم عمران خان آئی ایس آئی سیاستدانوں کی کرپشن کا سراغ لگانے کا فریضہ سر انجام دے رہی ہے۔

ملکی دفاع کا کے لیے تشکیل کردہ ایجنسی عمران خان کے بقول سیاستدانوں کو مانیٹر کرتی ہے اور جانتی ہے کہ کونسا سیاستدانوں کتنا کرپٹ ہے۔ پچھلے تین برس سے اپوزیشن قیادت الزام لگا رہی ہیں کہ آئی ایس آئی ہی نیب کے معاملات بھی چلا رہی ہے اور عمران خان خود فیصلہ کرتے ہیں کہ کس سیاست دان کا کب اور کتنا احتساب ہونا ہے۔ لہذا یہ بات سمجھ آتی ہے کہ وزیراعظم اپنی مرضی کا ڈی جی آئی ایس آئی تعینات کرنے پر کیوں مصر تھے۔

Back to top button