رانا ثناءاللہ کیس میں شہریار آفریدی کا احتساب کیوں ضروری ہے؟


میدان صحافت سے میدان سیاست میں اترنے والے سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا ہے کہ نئی حکومت کو عمران خان دور میں اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف بنائے گئے جھوٹے کیسز کی تحقیقات کرنی چاہیے، خصوصاً اس بات کا تعین کرنا چاہیے کہ موجودہ وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ خان کے خلاف منشیات فروشی کا جھوٹا مقدمہ کس شخص کے ایما پر قائم کیا گیا کیونکہ اس میں انہیں موت کی سزا بھی سنائی جا سکتی تھی۔

اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں عرفان صدیقی کہتے ہیں کہ نوابزادہ شاہ زین بگٹی ایک بااصول اور دبنگ سیاستدان ہیں اور آج کل ان کے پاس انسدادِ منشیات کی وزارت کا قلمدان بھی ہے، یہ وہی وزارت ہے جس کا قلمدان گزشتہ دور حکومت میں شہریار آفریدی کے پاس تھا۔ اسی وزارت کے تحت انھوں نے عمران خان حکومت کے طاقت ور ناقد اور ن لیگ کے سینئر رہنما اور موجودہ وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کو ایک لائیو آپریشن کے ذریعے گرفتار کرایا اور ان کے خلاف 25 کلو گرام اعلیٰ معیار کی ہیروئن کی برآمدگی کا جھوٹامقدمہ بنایا۔ یہ ایک ایسا خطرناک الزام تھا کہ اگر ثابت ہوجاتا تو رانا ثناء اللہ کو سزائے موت یا عمر قید ہونا لازمی امر تھا۔ تب کے وزیر شہریار آفریدی نے پریس کانفرنسوں میں رانا ثناء اللہ کو منشیات کے عالمی گینگ کا رُکن ثابت کرنے کی کوشش کی اور اپنی بات کو با وزن بنانے کے لیے ’میں نے جان اللہ کو دینی ہے ‘ جیسے جذباتی نعرے بھی لگائے تاکہ پاکستانی قوم یقین کرسکے کہ رانا ثناء اللہ واقعی منشیات کے عالمی گینگ کے رکن ہیں، بہرحال میڈیا نے شورمچایا، اور رانا ثنا کی سی سی ٹی وی ویڈیوز سامنے آئیں، جن سے شہریار آفریدی اور اینٹی نارکوٹکس کے حکام کے قول و فعل میں کھلا تضاد سامنے آگیا، معاملہ عدالت میں گیا لیکن تب تک رانا ثناء کے خلاف حکومتی سرپرستی میں ظلم کا پہاڑ توڑا گیا، ان کے ساتھ نہ صرف حوالات بلکہ جیل میں بھی انسانیت سوز سلوک کیا گیا، کیس آگے بڑھا، حقائق سامنے آئے تو رانا ثنا بے قصور ثابت ہوئے اور ریاست کو انھیں رہا کرنا پڑا، لیکن ریاستی طاقت کو سیاسی مخالفین پر استعمال کرنے کی اس سے بھونڈی مثال نہیں ہوسکتی تھی۔

عرفان صدیقی کہتے ہیں کہ جس شخص نے بھی سابقہ حکومت کی مخالفت کی، تنقید میں شدت پیدا کی، اس کے ساتھ یہی سلوک ہوا، جن جن سیاسی رہنمائوں کو عمران دور حکومت میں مختلف کیسوں میں پھنسا کر پابند سلاسل کیا گیا ان میں نواز شریف، مریم نواز، شہباز شریف اور حمزہ شہباز، خواجہ سعد رفیق اور ان کے بھائی خواجہ سلمان رفیق سمیت بڑی تعداد میں ن لیگی رہنمائوں کو گرفتار کیا گیا۔ حکومتی نیت دیکھتے ہوئے بہت سے ن لیگی رہنمائوں کو جلاوطن بھی ہونا پڑا، صرف ن لیگ ہی نہیں بلکہ پیپلز پارٹی کے رہنمائوں کیساتھ بھی ایسا ہی سلوک ہوا اور عمران حکومت نے سابق صدر آصف زرداری، ان کی بہن فریال تالپور، آغا سراج درانی، شرجیل میمن سمیت بڑی تعداد میں پیپلزپارٹی کے رہنمائوں کو گرفتار کیا، یہاں تک کے بلاول بھٹو کو بھی قانونی شکنجے میں لینے کی کوشش کی گئی، تاہم کپتان حکومت ایسا کرنے میں ناکام رہی، جمعیت علمائے اسلام کے لیڈر مولانا فضل الرحمٰن کو بھی گرفتار کرنے کی کوشش کی گئی تاہم حکومت اس میں بھی ناکام رہی۔

عرفان صدیقی بتاتے ہیں کہ انہیں حال ہی میں عمران حکومت کے خاتمے کے بعد نوابزادہ شاہ زین بگٹی سے بات چیت کا موقع ملا۔ میں نے ان سے سوال کیا کہ کیا آپ رانا ثنا کے خلاف سابقہ حکومت کی جانب سے بنائے جانے والے ہیروئن برآمدگی کے کیس کی دوبارہ تفتیش کرائیں گے؟ تو ان کا جواب بڑا واضح تھا کہ ان کی حکومت کسی کیخلاف جھوٹے مقدمے قائم کرنے کی پالیسی نہیں رکھتی۔ تاہم بہتر یہی گا کہ رانا ثنا کے خلاف منشیات کیس کی دوبارہ سے تحقیقات کی جائیں اور شہریار آفریدی کو بھی ان میں شامل کیا جائے تاکہ ایک سیاسی مخالف کو منشیات فروشی جیسے قبیح الزام میں پھنسا کر اس کی زندگی تباہ کرنے کی سازش کے اصل ذمہ دار کو سامنے لایا جاسکے۔ امید ہے کہ جان اللہ کو کو دینے کے دعویدار شہریار آفریدی اس سازش کے اصل کردار کا چہرہ بے نقاب کرنے کے بعد ہی خدا کے حضور پیش ہوں گے۔

بقول عرفان صدیقی، حقیقت یہ ہے کہ سابقہ دور حکومت میں عمران نے اپنے ترجمانوں کی ایک فوج تیار کر رکھی تھی جن پر ان کے سچے اور جھوٹے بیانیے کو پھیلانے اور رائے عامہ کو اپنے حق میں ہموار کرنے کی ذمہ داری تھی، لیکن ایسے گھنائونے کھیل اب ختم ہونے چاہئیں، جھوٹے الزامات لگانے والوں کے لیے بھی سزا مقرر ہونی چاہیے تاکہ کسی کی زندگی تباہ ہونے سے بچائی جا سکے۔

Back to top button