رضا ربانی نے زیادتی کے ملزمان کی سرعام پھانسی کی مخالفت کردی

پیپلزپارٹی کے سینیٹر رضا ربانی نے زیادتی کے ملزمان کی سرعام پھانسی کی مخالفت کردی ۔ تفصیلات کے مطابق سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پھانسی کی سزا تو قانون میں موجود ہے، کہا جاتا ہے سرعام پھانسی دیں گے، ایسا کرنے سے پہلے آئین کا آرٹیکل 12 پڑھ لیں ، اس سے آپ نفرتوں کو مزید اجاگرکریں گے، سیاسی کارکنوں کو کوڑے مارنےسے کیا تحاریک ختم ہوگئیں؟ ۔
سینیٹر رضا ربانی نے کہا کہ خوشی سے کہا جار ہا ہے کہ اجتماعی زیادتی کے ملزم پکڑے گئے ہیں ، کراچی میں بچی کو زیادتی کا نشانہ بنا کر قتل کردیا گیا ، یہ ایک نا ختم ہونے والی کہانی ہے ، ریاست ماں جیسی ہوتی ہے لیکن اس ریاست میں بچیوں کی عزت محفوظ نہیں رہی ۔
واضح رہے کہ موٹر وے زیادتی کیس کے خلاف عوام کی طرف سے ناصرف واقعے کی شدید مذمت کی جارہی ہے بلکہ مطالبہ بھی سامنے آرہا ہے کہ زیادتی کا نشانہ بنانے والوں کو سر عام پھانسی دی جائے تاکہ معاشرے میں ناسور کی طرح پھیلنے والی اس گندگی کا ہمیشہ کیلئے خاتمہ کیا جاسکے، عوام کی طرف سے یہ مطالبہ اس لیے بھی زور پکڑ رہا ہے کیوں کہ ماضی میں بھی اس طرح کے کئی واقعات ہوچکے ہیں جہاں ناصرف خواتین بلکہ معصوم بچوں اور ننھی کلیوں کو بھی درندہ صفت لوگ اپنی جنسی ہوس کا نشانہ بناتے رہے ہیں جن میں سے قصور کا واقعہ تو سب کو یاد ہی ہوگا جہاں ایک بچی زینب کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کردیا گیا تھا۔
