کپتان حکومت کی میڈیا مخالف مہم اور تیز ہو گئی

حالیہ دنوں میں چئیرمین سی پیک اتھارٹی جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم باجوہ کے خاندان کے اثاثوں کا سکینڈل منظر عام پر آنے کے بعد ریاستی اداروں کی جانب سے صحافیوں کے خلاف انتقامی کارروائیوں میں تیزی آ گئی ہے اور کم و بیش تین سینئیر صحافیوں کیخلاف غداری کے مقدمات درج کئے گئے ہیں جن میں ابصار عالم، بلال فاروقی اور اسد علی شامل ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جب سے کپتان سرکار نے اقتدار سنبھالا ہے پاکستانی میڈیا شدید جبر اور پابندیوں کا شکار ہے۔ پہلے پہل تو ٹی وی چینلز پر صحافیوں کی زبان بندی کی گئی، بعد ازاں ان کو دن دیہاڑے اغواء کرنے کے واقعات رونما ہوئے جبکہ اب سوشل میڈیا پر اپنی رائے کا اظہار کرنے پر صحافیوں کے خلاف غداری کی ایف آئی آرز درج کروائی جا رہی ہیں۔
آزاد صحافت کو پابند سلاسل کرنے کا سلسلہ صرف مقدمات درج کرنے تک محدود نہیں رہا۔ 15 ستمبر کو ایک تازہ ترین واقعے میں سینئر تجزیہ نگار اور صحافی سہیل وڑائچ کی حال ہی میں شائع ہونے والی کتاب "یہ کمپنی نہیں چلے گی” کو بھی اس کے ٹائٹل کی وجہ سے ضبط کر لیا گیا ہے اور مارکیٹ سے بہت بحکم سرکار تمام کاپیاں اٹھا لی گئی ہیں۔
یہ کتاب سہیل وڑائچ کے مختلف اخبارات میں شائع ہونے والے کالمز کا مجموعہ ہے اور اسکے ٹائٹل میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور وزیراعظم عمران خان کو دکھایا گیا ہے جسے سرکار نے قابل اعتراض قرار دے دیا ہے۔ سہیل وڑائچ کے بقول اس کتاب میں جو مواد موجود ہے وہ انکے پہلے سے شائع شدہ کالمز ہیں البتہ اس کے سرورق پر کچھ حلقوں کو اعتراض ہے، سہیل وڑائچ کے مطابق مجھے پیغام بھجوایا گیا ہے کہ کتاب کے کور پر جو کارٹون ہے وہ وزیراعظم کے وقار میں کمی لاتا ہے۔
اس سے پہلے 3 ستمبر کے روز الجزیرہ ٹی وی کو دئیے گئے ایک انٹرویو میں وزیر اعظم عمران خان نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کے برسراقتدار آنے کے بعد سے جتنی آزادی میدیا کو ملی ہے پہلے کبھی نہیں ملی اور ان کے دور حکومت میں کوئی صحافی اغواء نہیں ہوا۔ تاہم ان کے آزادی اظہار کے بلند و بانگ دعوؤں کی قلعی اس وقت کھل کر سامنے آ گئی جب ان کایہ انٹرویو نشر ہونے کے چند گھنٹے بعد ہی ڈان سے وابستہ سابق صحافی اور ایس ای سی پی کے جوائنٹ ڈائریکٹر ساجد گوندل کواغواء کر لیا گیا۔ اس سے قبل سینئیر صحافی مطیع اللہ جان کو بھی شہر اقتدار سے اغواء کیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ کے احکامات کے باوجود تاحال ان کے اغواء کاروں کو قانون کے کٹہرے میں نہیں لایا جا سکا۔
حالیہ دنوں میں پنجاب پولیس نے ابصار عالم کے خلاف بھی ’سنگین غداری‘ کا مقدمہ درج کیا ہے۔ ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ابصار عالم نے افواج پاکستان اور وزیر اعظم پاکستان کے خلاف سوشل میڈیا پر ’انتہائی نامناسب زبان‘ استعمال کرکے ’دستور پاکستان کے آرٹیکل چھ کے تحت سنگین غداری‘ کا ارتکاب کیا ہے۔ یہ مقدمہ حکومتی جماعت تحریک انصاف کے حامی انصاف لائرز فورم کے ایک عہدیدار کی درخواست پر دینہ پولیس نے درج کیا ہے، جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ سابق چیئرمین ابصار عالم نے ٹوئٹر اور دیگر سوشل میڈیا پر افواج پاکستان اور وزیر اعظم پاکستان کے خلاف انتہائی گھٹیا زبان استعمال کی ہے۔ ابصار عالم کیخلاف درج ایف آئی آر میں لکھا گیا ہے کہ ابصارعالم فوج اور وزیر اعظم پر تنقید اور گھٹیا زبان استعمال کر کے غداری کر مرتکب ہوئے حالانکہ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک ایماندار اور دیانتدار وزیر اعظم اس قوم کو نصیب ہوا ہے جو دن رات ایک کرکے اس قوم و ملک کی خاطر اقدام کر رہا ہے اور اس ملک کو بحرانوں سے نکالنے کےلیے تگ و دو کر رہا ہے جبکہ افواج پاکستان دنیا کی واحد ایسی فوج ہے جس پر ساری دنیا فخر کرتی ہے۔ دوسری طرف غداری کے مقدمے بارے ابصار عالم کا کہنا ہےکہ غداری کا مقدمہ ان کیلئے ایک تمغہ ہے تاہم وہ آزادی اظہار رائے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے اور اس کا ہر صورت دفاع کریں گے۔
کپتان حکومت نے ایک اور مقدمہ ایکسپریس ٹربیون سے وابستہ سینئیر صحافی بلال فاروقی کے خلاف درج کیا ہے جس میں پاک آرمی کے خلاف بغاوت پر اکسانے اور مذہبی منافرت پھیلانے کے الزامات عائد کئے گئے ہیں۔ ان کیخلاف مقدمہ 500 اور 505 پی پی سی کے تحت پاکستان فوج کے خلاف عوام کو بھڑکانے کے الزام میں درج کیا گیا ہے۔ ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ بلال نے پاکستان ’آرمی سے بغاوت کرنے کا مواد شائع کیا‘ جبکہ وہ پہلے سے ہی ’تواتر سے اشتعال انگیز مواد اور تصاویر شائع کرتے رہے ہیں‘۔ ایف آئی آر کے مطابق بلال نے اپنی پوسٹس کے ذریعے ’پاکستان کی افواج کو بدنام کیا اور یہ پوسٹس وطن دشمن اپنے ناجائز مقاصد کےلیے استعمال کرسکتے ہیں، ایف آئی آر میں بلال فاروقی کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی استدعا کی گئی تھی۔ ایف آئی آر کے اندراج کے بعد بلال فاروقی کو حراست میں بھی لیا گیا تھا تاہم صحافتی و سماجی حلقوں کی طرف سے صدائے احتجاج بلند کرنے پر ان کو رہا کر دیا گیا۔‘
عاصم سلیم باجوہ اثاثہ جات سکینڈل سامنے آنے کے بعد حالیہ دنوں میں سینئیر صحافیوں کیخلاف تیسری ایف آئی آرراولپنڈی پولیس نے سوشل میڈیا پر پاکستانی اداروں بالخصوص فوج کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے، پوسٹس اور تبصرہ کرنے کے الزام میں صحافی اسد طور کے خلاف درج کی ہے۔ اسد طور کے خلاف یہ مقدمہ راولپنڈی کے نواحی علاقے تھانہ جاتلی میں نصیرآباد کے رہائشی حافظ احتشام کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔ اسد طور کے خلاف راولپنڈی میں مدعی مقدمہ نے متعلقہ تھانے میں درخواست دی کہ اسد طور نامی شخص جس کا سوشل میڈیا پر اکاونٹ ہے، کچھ عرصے سے پاکستانی اداروں اور بالخصوص ’فوج کے خلاف منفی پروپگینڈہ‘ کر رہا ہے۔ اور اس شخص نے سوشل میڈیا پر ان اداروں کے خلاف ’نازیبا‘ الفاظ استعمال کیے ہیں۔ اس درخواست پر پولیس نے اسد طور کے خلاف تعزیرات پاکستان کی وفعہ 499،500 اور 505 کے علاوہ پریونشن آف الیکٹرانک کرائم ایکٹ کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔ اندراج مقدمہ بارے صحافی اسد طور کا کہنا ہے کہ’من گھڑت الزامات‘ پر مقدمہ درج کر کے اُنھیں ’ہراساں کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے‘۔اس طرح کے اقدامات آزادی اظہارِ رائے کو دبانے کی ایک کوشش ہے۔ وہ اس مقدمے کے خلاف عدالتوں میں جائیں گے جہاں سے اُنھیں انصاف ملنے کی امید ہے۔واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ نے جب سوشل میڈیا پر اپنے شوہر کے خلاف ’نازیبا زبان‘ کے استعمال پر رپورٹ درج کروانے کے لیے اسلام آباد کے تھانہ سیکریٹریٹ میں درخواست دی تھی تو پولیس نے یہ کہہ کر مقدمہ درج کرنے سے انکار کردیا تھا کہ چونکہ یہ سوشل میڈیا کا معاملہ ہے اس لیے ایف آئی اے کا سائبر کرائم ونگ ہی مقدمہ درج کرنے کا مجاز ہے۔ تاہم دوسری طرف ریاستی اداروں کے دباؤ پر صحافیوں کیخلاف پولیس کی طرف سے ہی مقدمات کےاندراج کا سلسلہ جاری ہے۔
