مفتی منیب رمضان میں مساجد آباد کرنے پر مصر

رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین مفتی منیب الرحمان کی جانب سے کرونا وائرس کے حملے کے باوجود رمضان المبارک میں مساجد آباد کرنے کے اعلان کے بعد سوشل میڈیا پر ایک بحث چھڑ گئی جس میں صارفین اس فیصلے کے حق اور مخالفت میں بحث کرنے میں مصروف ہیں۔
سوشل میڈیا پر مفتی منیب کے فیصلے کی حمایت کرنے والے اسے ایک نڈر مسلمان کا دلیرانہ فیصلہ قرار دے رہے ہیں جبکہ اس کی مخالفت کرنے والوں کا کہنا ہے کہ اس نازک وقت میں عقل سے فیصلے کرنا ضروری ہیں نہ کہ جذبات اور اعتقاد کی بنیاد پر۔ دوسری طرف انتہا پسند مسلمان عقل کی بات کرنے والوں کو حسب معمول ملحد اور ملعون قرار دینے کے فتوے جاری کر رہے ہیں۔ غرض یہ کہ جتنے منہ اتنی باتیں۔
وزیراعظم عمران خان نے پہلے ہی قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس کے بعد لاک ڈاؤن میں دو ہفتے کی توسیع کا اعلان کرتے ہوئے کہہ دیا ہے کہ رمضان المبارک کے دوران باجماعت نماز، تراویح، نماز جمعہ ادا کرنے اور اعتکاف میں بیٹھنے سے متلعق فیصلہ مشاورت سے 18 اپریل کو کیا جائے گا۔ تاہم چیئرمین رویت ہلال کمیٹی مفتی منیب اور اسلام آباد اور کراچی سے تعلق رکھنے والے دیگر کئی مولوی حضرات نے جو خود کو علمائے دین کہتے ہیں، حکومتی لاک ڈاون توڑنے کا اعلان کرتے ہوئے ایک پریس کانفرنس میں یہ اعلان کر دیا ہے کہ رمضان میں مساجد میں لاک ڈاؤن نہیں ہو گا اور با جماعت نماز ادا کی جائے گی۔
مفتی منیب کے اس اعلان کے بعد سوشل میڈیا پر ایک بحث چھڑ گئی ہے جس میں کچھ صارفین اس فیصلے کو تنقید کا نشانہ بناتے نظر آئے تو کچھ نے ان کی حکمت سے اتفاق کیا۔ گذشتہ روز ٹوئٹر پر ہیش ٹیگ #Tarawee اور #Mullah #WeStandWith_MuftiMuneeb ٹرینڈ کرتے نظر آئے۔
فیصل محمد نامی صارف نے مفتی منیب کی جلد بازی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے لکھا: ’ابھی وزیراعظم نے اعلان کیا ہے کہ مساجد میں رمضان کے دوران نمازیوں کی تعداد بڑھانے کیلئے علما کرام سے مشاورت کے بعد فیصلہ کیا جائے گا لیکن مفتی منیب سے 10 منٹ بھی صبر نہیں ہوا اور انھوں نے از خود مساجد پر لاک ڈاون کی پالیسی ختم کرنے کا اعلان کردیا۔ علما حضرات میں افہام و تفہیم کے عنصر کا ختم ہونا قابل تشویش ہے۔‘
کئی ٹوئٹر صارفین نے خانہ کعبہ کی حالیہ تصاویر شیئر کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اگر سعودی عرب میں کرونا کے پھیلاو کو روکنے کے لیے مسجد الحرام اور مسجد نبوی میں باجماعت نماز پر پابندی عائد ہو سکتی ہے تو پاکستان کی مساجد میں کیوں نہیں۔ صارفین نے یہ موقف اختیار کیا کہ شدت پسند مولوی حضرات صرف اپنی دکانیں چمکانے کے لیے لوگوں کی زندگیاں داؤ پر لگانا چاہتے ہیں جو کہ قابل مذمت ہے۔ انہوں نے یہ موقف بھی اختیار کیا کہ عقل کی بجائے اعتقاد کی بنیاد پر فیصلے کیے جا رہے ہیں جو کہ نقصان دے ثابت ہوں گے۔
لیکن جہاں مفتی منیب کو لوگوں نے تنقید کا نشانہ بنایا وہیں جذباتی ٹوئٹر صارفین کی ایک بڑی تعداد نے ان کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا اور ان کے اعلان سے اتفاق بھی کیا۔ محمد منیب نے مفتی منیب پر تنقید کرنے والوں سے سوال کیا: ‘اگ دفاتر میں احتیاطی تدابیر کے ساتھ جا سکتے ہیں تو مساجد میں احتیاطی تدابیر کے ساتھ کیوں نہیں جاسکتے؟‘ سعودی عرب کی مثال دینے والوں کو جواب دیتے ہوئے حسیب اسلم کا کہنا تھا کہ ہم اسلام کی پیروی کرتے ہیں نہ کہ سعودی حکومت کی۔ اس لیے مجھے صرف اسلام کا حوالہ دیں۔ عثمان علی نے مفتی منیب کی بہادری کو سلام پیش کرتے ہوئے کہا: ‘یقین کرو اگر سعودی عرب میں مفتی منیب الرحمان جیسا بندہ ہوتا تو آج مکہ مکرمہ کا طواف بھی ہو رہا ہوتا۔‘
دوسری طرف یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستان میں آدھے سے زیادہ کرونا کے مریضوں کو یہ موذی وائرس مذہبی اجتماعات سے لگا۔ تاہم ملک کے مذہبی حلقے اس کے باوجود اس بات پر بضد ہیں کہ وہ رمضان کے مہینے کے دوران مساجد کو مکمل آباد کریں گے اور نماز اور تراویح کی ادائی پر کسی قسم کی حکومتی پابندی برداشت نہیں کریں گے۔
وفاق المدارس العربیہ سے تعلق رکھنے والے علما اور مختلف مدارس کی نمائندگی کرنے والی جماعتوں نے بھی یہ اعلان کیا ہے کہ وہ رمضان کے مقدس مہینے کے دوران ایسی کسی حکومتی پابندی کو برداشت نہیں کریں گے۔ راولپنڈی اور اسلام آباد کے 50 سے زائد جید علمائے کرام نے جامعہ دارالعلوم زکریا، ترنول میں ایک اجلاس منعقد کیا جس میں انہوں نے حکومت کو متنبہ کیا کہ رمضان کے اجتماعات کو محدود رکھنے کی سوچ کو آگے نہ بڑھایا جائے ورنہ اسے سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔
فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے صدر جامعہ دارالعلوم زکریا اور جمعیت علما اسلام اسلام آباد کے سرپرست پیر عزیز الرحمٰن ہزاروی کا کہنا تھا کہ جید علمائے کرام نے واضح کیا ہے کہ حکومت اور ریاستی اداروں کے ساتھ تصادم سے بچنے کے لیے تمام کوششیں کی جائیں گی‘۔
اجلاس میں کہا گیا کہ موجودہ صورتحال میں نماز ادائی کے لیے مزید وقت کا مطالبہ کیا گیا اور اعلان کیا گیا کہ پانچ نمازوں کے علاوہ جمعہ اور تراویح اجتماعات لازمی احتیاطی تدابیر کے ساتھ جاری رکھیں گے۔ احتیاطی تدابیر میں سینیٹائزر کا استعمال، قالینوں کو ہٹانا، فرش کی صفائی کرنا، صابن سے ہاتھ دھونے اور معاشرتی فاصلے کو برقرار رکھنا شامل ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button