کیا کرونا کی صورت میں اللہ تعالیٰ نے عذاب نازل کیا ہے؟

جب سے کرونا وائرس نے دنیا میں تباہی مچانا شروع کی ہے غیر مسلموں نے بالعموم اور مسلمانوں نے باالخصوص توبہ استغار کا سلسلہ شروع کر رکھا یے کیوں کہ ان میں سے اکثر کا یہ خیال ہے کہ یہ وبا اللہ تعالیٰ کے عذاب کی صورت میں نازل ہوئی ہے۔ تاہم یہ بھی ایک سچ ہے کہ کسی بھی وائرس یا وبا کا کوئی دین یا مذہب نہیں ہوتا اور جب یہ لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لینا شروع کرتی ہے تو نہیں دیکھتی کہ کون غیر مسلم ہے اور کون مسلمان۔
کئی دہائیوں کے امن اور سکون کے بعد کرونا کی وبا آنے کے بعد چاند تک کو تسخیر کر لینے والا انسان ایک مرتبہ پھر خود کو بے بس محسوس کر رہا ہے۔ وبا بھی کسی بد دعا کی طرح نظر نہیں آتی مگر انسان کے چاروں اطراف موجود ہوتی یے۔ انسان اشرف المخلوقات ہونے کے ناطے بہت سی جان لیوا بیماریوں کا علاج دریافت کر چکا ہے اور یہ نتیجہ بھی نکال چکا ہے کہ کسی بھی وبا یا وائرس کو شکست دینے کا ایک ہی طریقہ ہے اور وہ ہے انسان کی ذاتی قوت مدافعت میں اضافہ۔ دراصل ہر وبا کی ویکسین بھی قوت مدافعت ہی کو بڑھانے کے لیے دی جاتی ہے۔ وائرس کی اس بے قابو فطرت کے باعث اس سے پھیلنے والی بیماریوں کے لیے بھی ماضی میں عجیب عجیب قیاس کیے جاتے رہے ہیں۔
یاد رہے کہ چیچک کی وبا کو کالی ماتا کا قہر سمجھا جاتا تھا بلکہ چیچک نکلنے کے لیے لفظ ہی فلاں کو ’ماتا‘ نکلی ہے، استعمال کیا جاتا تھا۔ دنیا کی بڑی وبائیں جب بھی پھیلیں، اعتقادات، سیاست، معیشت اور انسانی سماج کو بدل کر ہی گئیں۔ اجتماعی مدافعت یا ’ہرڈ امیونٹی‘ کی طرح انسانوں کے رویے بھی وباؤں کی روک تھام کے لیے بہت ضروری ہوتے ہیں۔
چھوت چھات کا تصور، تانبے کے برتنوں کو مانجھ کر استعمال کرنا اور سمندر پار جانے اور آنے والوں کو چنڈال سمجھنا، شاید وبائی امراض ہی سے بچنے کے کچھ سماجی رویے تھے جو وقت خے ساتھ پختہ ہو گئے۔
وضو کی عادت کے بارے میں بھی کئی ڈاکٹرز نے کہا کہ یہ کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کا ہی ایک طریقہ ہے۔ ناک منہ کو نقاب سے ڈھانپنا بھی جراثیم سے بچنے کا ایک طریقہ ٹھہرا۔ مگر کروا سچ تو یہ بھی ہے کہ وائرس یا وبا ہمیشہ اجتماعات سے پھیلتی ہے۔ ایران کی زیارتیں گزریں، رائیونڈ کا تبلیغی اجتماع گزرا، گڈ فرائیڈے گزرا اور شب برات اور ایسٹر بھی گزر گے۔ اب رمضان آنے والا ہے۔ دنیا بھر میں اجتماعی عبادت پر پابندی ہے۔ یہ بھی ثابت یو چکا کہ مذہبی اجتماعات کرونا کے پھیلاؤ کا ایک اہم سبب بنے ہیں۔ یہ بھی ثابت ہوگیا کہ کوئی وائرس یا وباء انسانوں کا مذہب دیکھے بغیر ان پر حملہ آور ہو جاتی ہے کیونکہ اسے ایک شخص سے دوسرے شخص میں جا کے خود کو زندہ رکھنا ہوتا ہے اور اپنی نسل بڑھانی ہوتی ہے۔
بھارت کے ہندوؤں، امریکہ کے عیسائیوں اور اسرائیل کے یہودیوں کی طرح پاکستان کے مسلمان بھی کرونا وائرس کے بارے میں کچھ زیادہ نہیں جانتے۔ ہاں اتنا ضرور جانتے ہیں کہ خدا غفور الرحیم ہے۔ وہ اپنے بندوں کو ہلاکت میں نہیں ڈالنا چاہتا۔ اسے اپنی مخلوق عزیز ہے۔ وہ اپنے حقوق تو معاف کر دے گا مگر حقوق العباد معاف نہیں کرتا۔ اور آج حقوق العباد کا تقاضا ہے کہ اجتماعی عبادات کی ضد کر کے ہم مسلمان انتظامیہ کے لیے، اپنے گھر والوں، محلے والوں اور دیگر شہریوں کے لیے مسائل میں اضافہ نہ کریں۔
کرونا وائرس افواہ نہیں، جھوٹ نہیں، یہ ایک وبائی مرض ہے اور اس سے بچنے کے لیے گھر بیٹھنا ہم سب کی قومی ذمہ داری ہے۔ گھر بیٹھ کر خدا کو یاد کیجیے وہ ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرنے والا اور شہ رگ سے بھی قریب ہے۔
اسے پکاریئے اور اسے صدق دل سے پکارنے کے لیے مسجد یا دیگر اجتماعی عبادت گاہوں میں جانے کی ضرورت نہیں۔
وبا کے ان دنوں میں جہاں بہت سے رویے تبدیل ہو رہے ہیں وہاں خدا کے نام پر لال مسجد کے مولانا عبدالعزیز کی طرح کے کچھ شرپسند عناصر فساد پھیلانے سے بھی باز نہیں آتے۔ ان جیسے نام نہاد ملا اگر ہر جمعے انتظامیہ کے لیے ایک نئی آزمائش کھڑی کرنے کی بجائے نماز گھر ہی پر ادا کر لیں تو کتنا بہتر ہو۔ ویسے بھی خدا اگر مسجد جانے والوں ہی کی سنتا تو مچھلی کے پیٹ میں یونس کی پکار نہ سنتا۔ اجتماعی عبادت کی فضیلت اپنی جگہ لیکن کیا آپ کی تنہائی حضرت یونس کی تنہائی سے زیادہ بڑی ہے؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button