روشنیوں کا شہرکراچی سٹریٹ کرائمز کی آماجگاہ کیوں؟


ایک زمانے میں روشنیوں کا شہر کہلانے والا کراچی اب سٹریٹ کرائمز کا گڑھ بن چکا ہے۔ ان جرائم کی وجہ غربت ہو، معاشی بحران ہو یا پھر بڑھتی مہنگائی، لیکن حقیقت یہ ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے پاکستان کے سب سے بڑے شہر میں سٹریٹ کرائمز کنٹرول کرنے میں مکمل طور پر ناکام نظر آتے ہیں۔ تین کروڑ سے زائد آبادی والے شہر کراچی کے باسی ڈاکوؤں کے رحم و کرم پر ہیں۔ شہر میں مسلح لٹیرے دندناتے پھرتے ہیں۔ بزرگ اور خواتین سمیت جس کو چاہتے ہیں، جب چاہتے ہیں اور جہاں چاہتے ہیں لوٹ لیتے ہیں اور مزاحمت پر قتل کرنے سے بھی دریخ نہیں کرتے۔ لیکن ماہرین معاشی صورت حال اور سماجی ناہمواریوں کو بھی شہر میں بڑھتے جرائم کی اہم وجوہات قرار دیتے ہیں۔

کراچی میں یومیہ ایک درجن سے زائد سٹریٹ کرائم رپورٹ ہوتے ہیں جبکہ ان کی اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے جنکی یا تو پولیس کرائم ریٹ کم دکھانے کیلئے رپورٹ درج نہیں کرتی یا پھر شہری خود پولیس کے پاس جانے سے کتراتے ہیں۔ کراچی کی تاجر برادری بھی امن و امان کی صورتحال خصوصاًسٹریٹ کرمنلز سے پریشان ہیں۔کراچی پولیس چیف کے مطابق شہر کی آبادی کا تناسب تبدیل ہوا ہے۔ پہلے شہر میں اردو بولنے والے آبادی کا 65 فیصد تھے لیکن اب یہ 35 فیصد رہ گئے ہیں جبکہ تقریباً اتنے ہی پشتون بھی شہر میں آباد ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کراچی میں 25 فیصد کے قریب سندھی اور بلوچ کراچی آکر آباد ہوئے ہیں جو زیادہ تر جرائم میں ملوث ہیں۔ پولیس چیف کے مطابق، "کراچی میں جرائم کی شرح کسی بھی ترقیاتی ملک کے شہریوں کے مقابلے میں کم ہے۔ تاجر برادری اپنی دشمن خود ہے۔ یہ لوگ واویلا کرتے ہیں اور بلاوجہ سنسنی پھیلاتے ہیں۔ ہر معاملہ میڈیا پر لے آتے ہیں اور پھر کہتے ہیں سرمایہ کاری نہیں آرہی۔ لاہور میں کرائم کراچی سے زیادہ ہے لیکن کبھی میڈیا پر نہیں آتا۔ نیویارک، لندن، ممبئی کے مقابلے میں کراچی میں جرائم کی شرح کم ہے۔ کراچی بنیادی طور پر جرائم پیشہ افراد کا شہر نہیں ہے۔”

پولیس چیف کے بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ممتاز تاجر اور کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے سرگردہ رکن زبیر موتی والا کا کہنا تھا کہ کراچی میں لاقانونیت اور اسٹریٹ کرائمز نے تاجروں کو خوف میں مبتلا کر رکھا ہے۔ اس صورتحال سے کاروباری سرگرمیاں بری طرح متاثر ہورہی ہیں۔ زبیر موتی والا نے کہا کہ فیکٹری ورکرز رات کے اوقات میں لٹنے کے ڈر سے کام پر آنے کو ہی تیار نہیں ہیں۔ پولیس چیف کا بیان حقیقت سے نظر چرانے کے مترادف ہے۔ دراصل اس شہر میں پولیس کی رٹ ختم ہوگئی ہے۔ اب رینجرز کو سڑکوں پر آنا ہوگا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کسی کو انکار نہیں کہ اسٹریٹ کرائم کی بڑی وجوہات مہنگائی اور بے روزگاری ہیں لیکن جرائم کنٹرول کرنا پولیس کا کام ہے۔ انہیں اس کیلئے اقدامات کرنا ہوں گے۔

Back to top button