ریحام خان اور زلفی بخاری کے درمیان میچ کون جیتے گا؟

کپتان کی سابقہ اہلیہ ریحام خان اور عمران خان کے قریبی ساتھی زلفی بخاری برطانیہ کی عدالتوں میں آمنے سامنے آ گئے، پی آئی اے کے ملکیتی ہوٹل روز ویلٹ کی فروخت کے حوالے سے ریحام خان کے انیل مسرت اور زلفی بخاری کو نوازنے کے دعوؤں کے بعد زلفی بخاری نے لندن ہائیکورٹ میں ہتک عزت کا دعویٰ دائر کرتے ہوئے ریحام کو قانونی نوٹس دیا ہے۔ جواب میں ریحام خان نے کپتان کے قریبی ساتھیوں کو لندن کی عدالتوں کے سامنے بے نقاب کرنے کا اعلان کرتے ہوئے عوام سے قانونی چارہ جوئی کیلئے مالی امداد کی اپیل کر دی ہے تا کہ وکلا کی فیس ادا کی جا سکے۔
ماضی میں حکومتی پالیسیوں اور فیصلوں پر کپتان سرکار کو مسلسل نشانے پر رکھنے والی ریحام خان نے وزیر اعظم کے قریبی ساتھیوں زلفی بخاری اور انیل مسرت پر قومی اثاثوں سے نوازشات لٹانے کا دعویٰ کیا ہے، یوٹیوب پر ایک لائیو سیشن کے دوران ریحام نے کہا کہ پاکستان کے قیمتی اثاثے امریکہ میں موجود پی آئی اے کے ملکیتی ہوٹل روز ویلٹ ہوٹل کو بیچ کر عمران خان کے قریبی دوست زلفی بخاری اورفنانسر انیل مسرت کو نوازنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ اس لیے روز ویلٹ ہوٹل کی نجکاری اور شفافیت کو یقینی بنانے کیلئے ٹھوس اقدامات کئے جانے چاہیں۔
ریحام خان کی طرف سےروز ویلٹ ہوٹل کی فروخت میں زلفی بخاری کا ذاتی مفاد وابستہ ہونے کا دعویٰ سامنے آنے کے بعد زلفی نے اپنے وکیل کے ذریعے لندن ہائیکورٹ میں ہتک عزت کا دعویٰ دائر کرتے ہوئے ریحام خان کو قانونی نوٹس بھجوادیا ہے۔ جس پرریحام خان نے مقدمہ لڑنے کیلئے عوام سے چندہ اکٹھا کرنے کی مہم شروع کردی۔ذرائع کے مطابق لندن ہائیکورٹ میں دائر ہتک عزت کے اس مقدمے میں ریحام خان کی بعض دیگر ٹوئیٹس اور ری ٹوئٹس بھی شامل کی گئی ہیں جن میں ان کی طرف سے حکومت پرکرپشن کے الزامات عائد کئے گئے تھے۔ واضح رہے کہ ہتک عزت کا یہ مقدمہ 6دسمبر 2019 کو مین ہٹن میں روز ویلٹ ہوٹل کی ممکنہ فروخت کے حوالے یوٹیوب پر ریحام خان کی آن لائن ایک ویڈیو کے بارے میں ہے، ریحام خان نے اپنی ٹوئیٹ میں کہا تھا کہ پاکستان کا قومی اثاثہ زلفی بخاری اورانیل مسرت جیسے لوگوں کی مدد کرنے کیلئے فروخت کیاجارہاہے اور اسے رہزنی قرار دیاتھا جبکہ ریحام خان کی طرف سے ٹوئیٹ میں یوٹیوب کی کمنٹری کا لنک بھی دیاگیاتھا۔
خیال کیاجاتاہے کہ عدالتی کارروائی شروع ہونے سے قبل ہی ٹوئیٹ اوریوٹیوب کالنگ ڈیلیٹ کردیاگیا۔ لندن ہائیکورٹ میں جمع کرائے گئے کاغذات میں زلفی بخاری نےریحام خان پر روز ویلٹ ہوٹل کی فروخت کے حوالے سے براہ راست ان کو نشانہ بنانے کاالزام عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ روزویلٹ کے حوالے سے اس ٹوئیٹ اور دیگر ٹوئیٹس اور ری ٹوئیٹس سے ان کی شہرت کو نقصان پہنچا ہے اور وہ بدنام ہوئے ہیں۔ زلفی بخاری کی طرف سے دائر ہتک عزت کے دعوے میں ریحام خان سے الزامات واپس لینے معافی مانگنے اورہرجانہ ادا کرنے کامطالبہ کیا گیا ہے
زلفی بخاری کے وکلا کا کہناہے کہ ریحام خان کی طرف سے ان کے موکل کو بدنام کرنے کیلئے ان پر کرپشن اوراقربا پروری کے الزاما ت عاید کئے گئے،پاکستان تحریک انصاف حکومت نے روز ویلٹ بارے ایک کمیٹی قائم کی تھی جو صرف مشاورتی نوعیت کی تھی جس کاکام قومی خزانے کو پہنچنے والے نقصان کو بچانے کیلئے آپشنز تلاش کرنا تھا۔
دوسری طرف لندن ہائی کورٹ کے ایک ترجمان نے بتایا کہ اس ہتک عزت کے دعوے کی ابتدائی سماعت تقریباً آٹھ ماہ بعد ہوگی۔ تاہم ریحام خان نے زلفی کے تمام الزامات کی تردید کی ہے اور اس دعوے کاسامنا کرنے کااعلان کیاہے۔ ریحام خان کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ عوام کے تعاون سے اس طرح کے تمام کرداروں کو بے نقاب کریں گی۔ ریحام کے مطابق انھوں نے اپنی گفتگو میں کسی پر کوئی الزام نہیں لگایا بلکہ انھوں نے عوام کی توجہ ملک کے قیمتی اثاثے کی فروخت کی طرف دلائی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ اس پورے پراسس میں کسی کو نوازنے کی بجائے شفافیت ہونی چاہیے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ زلفی بخاری نے نوٹس بھجوا کر انہیں بولنے کے حق سے محروم کیا تاہم انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ وہ اپنا بولنے کا حق لینا خوب جانتی ہیں، ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ کیس آزادی اظہار رائے اور مفاد عامہ کا معاملہ بن چکا ہے جس پر خاموش رہنا جرم ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ماضی میں ٹرولنگ، بیہودہ گوئی اور قتل کی دھمکیاں انھیں حق بات کہنے سے نہیں روک سکیں اس طرح کے نوٹسز سے مجھے خاموش کرانے والوں کو منہ مکی کھانی پڑے گی۔ ریحام خان کا مزید کہنا تھا کہ انہیں لندن ہائیکورٹ میں زلفی بخاری کے خلاف کیس لڑنے کیلئے اپنے تمام دوستوں اور فالوورز کے تعاون کی ضرورت ہے۔ ریحام خان نے اس موقع پر ایک لنک بھی شیئر کیا اور کہا عوام اس لنک پر جاکر انہیں چندہ دے سکتے ہیں۔
خیال رہے کہ زلفی بخاری وزیراعظم کے عمران خان کے سب سے زیادہ قریب سمجھے جاتے ہیں۔ ماضی قریب میں شاید ہی عمران خان سے جڑا کوئی ایسا اہم واقعہ ہو جس میں زلفی بخاری کا نام سامنے نہ آیا ہو۔ انہوں نے نہ صرف عمران خان کے ایما پر ان کی دوسری اہلیہ ریحام خان کو طلاق دینے کے بعد کے معاملات طے کیے بلکہ موجودہ اہلیہ بشریٰ بی بی سے نکاح میں بھی بطور گواہ دستخط کیے۔ کہا جاتا ہے کہ زلفی بخاری عمران خان کو سیاست میں آنے سے پہلے سے جانتے ہیں۔ زلفی بخاری برطانوی شہری ہیں اور وہ اپنی اہلیہ اور دو بیٹوں کے ہمراہ مستقل طور پر تو لندن میں رہتے ہیں تاہم ان کے والدین اور دیگر رشتہ دار پاکستان میں ہی ہیں۔ زلفی بخاری جائیداد کی خریدو فروخت کے کاروبار سے منسلک ہیں جو کہ برطانیہ میں ہے۔
برطانوی شہریت کے حامل سید ذوالفقار عباس بخاری المعروف زلفی بخاری وزیراعظم کے معاون خصوصی ہیں اور ان کا شمار عمران خان کے قریبی دوستوں میں ہوتا ہے، یہی تعلق اُن کی قابلیت اور پہچان ہے۔ زلفی بخاری وزیر اعظم کے ذاتی دوست تصور کئے جاتے ہیں جن کا عمران خان کی جمائما خان اور بشری بی بی سے شادی میں بھی اہم کردار رہا ہے۔
تاہم وزیراعظم کی بہنیں انہیں اچھی نظر سے نہیں دیکھتیں۔ حال ہی میں وزیراعظم کی بہن روبینہ خان نے زلفی بخاری کے بارے میں سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اس کے ماضی اور حال کی حرکتیں عمران خان کے لیے مسلسل شرمندگی کا باعث بن رہی ہیں۔ روبینہ خان نے لکھا کہ زلفی بخاری کا یہ دعویٰ ہے کہ وہ پاکستان کی مدد کرنے یہاں آئے ہیں بالکل کھوکھلا ہے کیوںکہ اسکے پاس ایسی کوئی مہارت نہیں سوائے اس کے جو کچھ اس نے اپنے باپ سے سیکھا۔ اتنا ہی نہیں، روببینہ خان نے مزید لکھا کہ اس وقت کئی معاونین خصوصی تو غیر ملکی ایجنسیوں کے لیے بھی کام کر رہے ہیں۔ روبینہ خان نے لکھا کہ زلفی بخاری کا بار بار یہ کہنا تضحیک آمیز ہے کہ وہ پاکستان کی مدد کرنے آئے ہیں۔
