شہزاد اکبر کی نیب معاملات میں مداخلت غیر قانونی قرار

اسلام آباد ہائی کورٹ نے شہزاد اکبر کی بطور مشیر وزیراعظم تعیناتی کیخلاف دائر کردہ درخواست تو مسترد کر دی ہے لیکن وزیر کی حیثیت کے ساتھ بطور مشیر تقرری کو 1973 کے طےکردہ رولز کے خلاف قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ شہزاد اکبر کے پاس بطور مشیر یہ اختیار نہیں کہ وہ قومی احتساب بیورو کے اختیارات میں براہ راست یا بلواسطہ مداخلت کریں، ہدایات جاری کریں یا کسی قسم کا کوئی حکم دیں۔
26 اگست کے روز چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ اطہر من اللہ نے شہزاد اکبر کی بطور مشیر اور حکومت پاکستان کے اثاثہ جات ریکوری یونٹ کے چیئرمین کے عہدے پر تعیناتی کے خلاف درخواست پر محفوظ کیا گیا فیصلہ سنادیا۔ ایڈووکیٹ پرویز ظہور نے شہزاد اکبر کے تقرر کے خلاف اپنی درخواست میں عدالت سے استدعا کی تھی کہ انکی تعیناتی کالعدم قرار دی جائے۔ یہ اعتراض بھی اٹھایا گیا تھا کہ سپریم کورٹ کے جج جسٹس عیسیٰ بھی وزیراعظم کے ساتھی کی اسناد اور ان کی بطور مشیر احتساب تقرر پر سوال اٹھا چکے ہیں۔
اس درخواست پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ شہزاد اکبر کا وزیر کی حیثیت کے ساتھ بطور مشیر تقرر انہیں 1973 کے رولز کے تحت وزیر کی حیثیت سے کام کرنے کا اختیار نہیں دیتا، 1973 کے رولز واضح طور پر سیکرٹری کو ڈویژن یا وزارت کا سربراہ قرار دیتے ہیں اور وہ ہی اپنی موثر انتظامیہ، نظم و ضبط اور وفاقی حکومت کی جانب سے کام کو صحیح انداز میں کرنے کا ذمہ دار ہیں۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ نیب قومی احتساب بیورو آرڈیننس 1999 کے تحت قائم کیا گیا اور آئین کے آرٹیکل 93 کے تحت تعینات ہونے والے والے مشیر کے پاس یہ اختیار نہیں کہ وہ 1999 کے آرڈیننس کے تحت بیورو کو جو اختیارات ہیں ان میں براہ راست یا بالواسطہ، ہدایات یا حکم دیں یا کسی قسم کی مداخلت کریں۔ فیصلے کے مطابق اسی طرح وفاقی تحقیقاتی ایجنسی کا قیام وفاقی تحقیقاتی ایجنسی ایکٹ 1974 کے تحت کیا گیا، لہٰذا یہ بھی مشیر کو یہ اختیار نہیں دیتا کہ وہ ایجنسی کے معاملات میں براہ راست یا بالواسطہ مداخلت کریں۔ عدالت کے مطابق 1973 کے قانون کی خلاف وزری میں مداخلت کالعدم ہوگی اور یہ مشیر کے اختیارات سے تجاوز ہوگا۔ عدالت عالیہ کے 9 صفحات پر مشتمل فیصلے میں چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ درخواست گزار کی جانب سے ایسا کوئی ریکارڈ پیش نہیں کیا گیا جو شہزاد اکبر کے قومی احتساب بیورو کے امور میں مداخلت کو ثابت کرے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ آئین پاکستان صدر مملکت کو وزیراعظم کے مشورے پر زیادہ سے زیادہ 5 مشیر تعینات کرنے کا اختیار دیتا ہے جبکہ یہ وزیراعظم کی صوابدید ہے کہ وہ اپنے لیے کس کو مشیر مقرر کریں، فیصلے کے مطابق وزیراعظم کے مشیر کے تقرر کے لیے اہلیت کا کوئی معیار مقرر نہیں۔
درخواست گزار کے اس اعتراض پر کہ مشیر وفاقی کابینہ یا پارلیمنٹ کے اجلاس میں بیٹھنے کے لیے ‘اہل نہیں ہیں’ پر عدالت عالیہ نے کہا کہ مشیر کو بولنے کا اختیار ہے اور وہ ایوان کے اجلاس کا حصہ بن سکتے ہیں لیکن وہ ووٹ نہیں دے سکتے۔ فیصلے میں مزید کہا گیا کہ مشیر وفاقی کابینہ کا حصہ نہیں ہے اور وہ اس کے اجلاس میں شرکت بھی نہیں کرسکتے سوائے تب جب وزیراعظم کو ان کی ضروت ہو اور اس کے لیے انہیں خصوصی دعوت دی گئی ہو۔ مزید برآں فیصلے میں کہا گیا کہ مشیر حکومت کے ترجمان کی حیثیت سے کام کرنے کا ‘مجاز’ نہیں ہے۔
اثاثہ جات برآمدگی یونٹ سے متعلق اپنے فیصلے میں عدالت نے کہا کہ شہزاد اکبر کی بطور سربراہ اثاثہ جات ریکوری یونٹ تعیناتی کا معاملہ یہاں نہیں دیکھا جاسکتا کیونکہ یہ معاملہ سپریم کورٹ میں اٹھایا جاچکا ہے اور اے آر یو کے معاملے پر سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ آنا باقی ہے۔ علاوہ ازیں عدالت نے کہا کہ توقع ہے کہ مرزا شہزاد اکبر بطور مشیر آئین و قانون کے تحت اپنی ذمہ داریاں ادا کریں گے، جس کے بعد عدالت عالیہ نے مرزا شہزاد اکبر کی تعیناتی کے خلاف درخواست کو آبزرویشنز کے ساتھ نمٹا دیا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کے روبرودرخواست گزار پرویز ظہور کی جانب سے وکیل امان اللہ کنرانی نے سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کی نقل پیش کرتے ہوئے اپنے دلائل میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ رولز آف بزنس کے تحت نیب ایک آزاد ادارہ ہے وہ کسی کے ماتحت نہیں ہے، شہزاد اکبر وفاقی کابینہ کا رکن ہے، غیر منتخب نمائندوں کی بطور رکن تعیناتی آئین اور قومی اسمبلی کے رولز کے بھی خلاف ہے،
واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان کی کابینہ میں اس وقت 5 مشیر اور 14 معاونین ہیں۔شہزاد اکبر پہلے وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب تھے لیکن رواں سال 22 جولائی کو وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر کا عہدہ تبدیل کرکے انہیں عمران خان کا مشیر برائے داخلہ و احتساب مقرر کیا گیا تھا۔ شہزاد اکبر کو ایک اور کیس میں بھی نامزد کیا گیا ہے جس میں 15 معاون خصوصی کی تقرریوں کو چیلنج کیا گیا ہے۔کیس کی سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ کے علیحدہ بینچ کی جانب سے کی جارہی ہے۔
یاد رہے کہ قانونی طور پر وزیر اعظم کے مشیر کا عہدہ وفاقی وزیر اور معاون خصوصی کا وزیر مملکت کے برابر ہوتا ہے۔وزیر اعطم کے معاون خصوصی مقرر ہونے سے قبل شہزاد اکبر قبائلی علاقوں میں امریکی ڈرون حملوں کے خلاف مختلف عدالتوں میں دائر کی جانے والی درخواستوں کی پیروی کرتے تھے جبکہ انہوں نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں نیب میں بطور معاون بھی کام کرتے رہے ہیں۔
