ن لیگ کب تک منے کے ابا کا موڈ بدلنے کا انتظار کرے گی؟


پاکستانی سیاسی تاریخ کی ناکام ترین حکومت کی سربراہی کا اعزازرکھنے والے وزیر اعظم عمران خان کے خلاف اب بھی کوئی اپوزیشن جماعت خصوصا نون لیگ کسی قسم کی کوئی موثر عوامی تحریک چلانے کے موڈ میں اس لیے نہیں کہ وہ عوام کی طاقت کی بجائے "منے کے ابا” کو زیادہ طاقتور سمجھتی ہیں لہذا "منے” کے حوالے سے اسکے "ابا” کا موڈ بدلنے کے انتظار میں ہیں تاکہ گارنٹی کے ساتھ مکمل سیاسی تبدیلی آ سکے۔
موجودہ پارلیمانی ڈھانچے میں مسلم لیگ ن حزب اختلاف کی ایک اہم جماعت کے طور پر اپنا کردار ادا کر رہی ہے اور اس کا دعویٰ ہے کہ اگلی حکومت اسی کی ہو گی۔ تاہم اگلی حکومت حاصل کرنے کے لئے نون لیگی قیادت عوام کی طاقت پر بھروسہ کرتے ہوئے تبدیلی کی کوشش کرنے کی بجائے ایک مشرقی دوشیزہ کی طرح دوپٹے کا پلومنہ میں داب کر اس امید پر دروازے سے لگی کھڑی ہے کہ کبھی تو ساون آئے گا، منے کے ابا کا دل پسیجے گا اور اس سے رجوع کیا جائے گا۔
لیکن نون لیگ کی قیادت شاید اس بات کو فراموش کر چکی ہے کہ پارلیمانی طرز حکومت محض حزب اقتدار کی ترک تازی کا نام نہیں ہوتا، ایک باوقار اور ذمہ دار حزب اختلاف بھی اس کا ناگزیر جزو ہے۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ حزب اقتدار وضع داری سے بے نیاز ہے اور حزب اختلاف عزت نفس سے۔ اہل اقتدار اس کی توہین اور ہجو میں صبح سے شام کر دیتے ہیں اور حزب اختلاف بد مزہ نہیں ہوتی۔ یہ اس سوتن کی طرح صابر و شاکر ہے جو منے کے ابا کی بے وفائیوں پر آہ بھر کر سہیلیوں سے کہتی ہے کوئی بات نہیں ایک دن منے کے ابا کو میری محبت اور وفاداری کا یقین ہو جائے گا پھر اس موئی سوتن کو تو میں دیکھ لوں گی، لیکن بہن! ابھی میری وفا کا امتحان چل رہا ہے اور مجھے ہر قیمت پر اس امتحان میں سرخرو ہو کی اپنی تابعداری اور وفاداری ثابت کرنا ہے۔
ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگاتے ہوئے میاں نواز شریف نے جو مزاحمتی بیانیہ دیا تھا اس کا شہباز شریف کے بوٹ کو عزت دو والے مفاہمتی بیانیے سے اب تک ٹکراؤ جاری ہے۔ پچھلے دو برس سے نون لیگ کی سیاست پر شہباز شریف کا مفاہمتی بیانیہ غالب ہے۔ تاہم جب کپتان حکومت نے دوبارہ سے نواز شریف کو پاکستان واپس لانے کی باتیں شروع کیں اور نیب کے ذریعے مریم نواز کو طلب کیا تو ایک مرتبہ پھر سے مزاحمتی بیانیہ جاگ اٹھا۔ اب صورتحال یہ ہے کہ نون لیگ کے صدر شہباز شریف مفاہمتی بیانیے کے نقیب ہیں جبکہ نائب صدر مریم نواز کامیابی سے خود کو نواز شریف کے مزاحمتی بیانیے کی امین ثابت کر رہی ہیں۔ یعنی شریف خاندان وکٹ کے دونوں جانب کھیل رہا ہے۔ اگر حقیقت میں ایسا نہیں بھی ہے تو عمومی تاثر یہی ہے۔
اس وقت صورت حال یہ ہے کہ شریف خاندان اور نون لیگ کی قیادت بری طرح نیب کیسز کے شکنجے میں جکڑی ہوئی ہے اور اسے مزاحمتی بیانیہ تب ہی یاد آتا ہے جب نیب کا شکنجہ زیادہ کسا جاتا ہے، ورنہ تو نون لیگ پر زیادہ تر مفاہمت ہی طاری رہتی ہے۔ بلاول بھٹو اگر ہلکی سی چٹکی کاٹ لیں اور یہ کہیں کہ ہم باہر نکلیں گے اور شہباز شریف ہمارے قائد ہوں گے تو مفاہمتی بیانیہ ساون کے بادل کی طرح جھوم کر آتا ہے اور چھوٹا میاں یہ وضاحت کر دیتا ہے کہ ہم سے اس مشقت کی توقع نہ رکھی جائے، ہم امید سے ہیں اور منے کے ابا سے رجوع کی امید لگائے کواڑ کے پیچھے کھڑے ان کے بوٹ کی چاپ سننے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اسی طرح جب مولانا فضل الرحمٰن کپتان کے خلاف باہر نکلے تو بیانیہ یو ٹرن لے کر ڈی چوک کی بجائے ماڈل ٹاؤن چلا گیا۔ مولانا نیک آدمی ہیں گانے نہیں سنتے ہوں گے ورنہ انہیں نور جہاں کا یہ گانا ضرور یاد آتا کہ ’سانوں نہر والے پل تے بلا کے بیانیہ خورے کتھے رہ گیا۔‘ مولانا کے کارکن اسلام آباد کے یخ بستہ موسم میں بھیگتے رہے مگر بیانیہ ماڈل ٹاؤن کے کواڑ سے لگا یہ سوچتا رہا کہ 1973 کے آئین کی بات کرنے والے مولانا سے دغا کرنے کے عوض تو اب منے کے ابا سے رجوع ہو ہی جائے گا۔ منے کے ابا کا دل اب تو پسیجے گا اور انہیں مولانا سے اس دغا بازی کے عوض میری تابعداری اور وفاداری کا یقین ہو جائے گا۔
دوسری طرف پارلیمان کے اندر مسلم لیگ ن کا کردار عوام کے سامنے ہے۔ روز اس کی عزت افزائی ہوتی ہے، روز اس کی عزت کی دھجیاں اڑائی جاتی ہیں لیکن وہ مشرقی دوشیزہ کی طرح اپنے آنسو آٹے میں جذب کر کے وفا گوندھتی رہتی ہے کہ کیا ہوا اگر منے کے ابا ذرا لا ابالی اور سخت زبان ہیں، گھر بسانا تو خاتون خانہ کی ذمہ داری ہوتا ہے لہذا مزاحمت کی بجائے سر پھینک کر مفاہمت کے ساتھ ہی چلنا چاہیے وگرنہ منے کے ابا رام نہ ہوئے تو رجوع کیسے ہو گا؟ یعنی اس وقت نون لیگ کی ساری سیاست ان کوششوں پر مرکوز ہے کہ منے کے ابا کسی نہ کسی طرح رجوع کر لیں۔
اس دوران کپتان کی زیادتیوں کا بدلہ لینے کا موقع ملا بھی تو نون لیگ نے اسے جانے دیا اور فائدہ نہ اٹھایا۔ قانون سازی کے کتنے اہم مراحل آئے، بالعموم ایسے مراحل پر حکومت نرمی اور محبت کا رویہ اختیار کرتی ہے کیونکہ اسے حزب اختلاف کا ووٹ درکار ہوتا ہے لیکن یہاں عالم یہ ہوتا ہے کہ وزرا رجز پڑھتے رہتے ہیں کہ ہمت ہے تو ذراووٹ نہ دینا، وزیر اعظم ایک رسمی سی خیر سگالی بھی نہیں دکھاتے اور یہی دھمکی دیتے ہیں کہ حق میں ووٹ نہ دے کر دکھاؤ۔ این آر او نہیں دوں گا۔ لیکن پھر بھی حزب اختلاف ذرا سا بھی بد مزہ نہیں ہوتی اور جا کر چپ چاپ ووٹ دے آتی ہے۔ آرمی چیف کی توسیع کا معاملہ ہو یا ایف اے ٹی ایف کا حزب اختلاف خود ہی ووٹ دینے پہنچ جاتی ہے کہ کہیں آپ مجھے نکال کر پچھتا نہ رہے ہوں اس خیال سے میں محفل میں لوٹ آئی ہوں۔
مختصرآ یہ کہ پچھلے ایک برس سے نون لیگ کا بیانیہ ٹیبل ٹینس کا بال بنا ہوا ہے جو کبھی مریم کی مزاحمتی شاٹ سے میز کے ایک طرف اور کبھی شہباز کے مفاہمتی شاٹ سے میز کے دوسری طرف جا گرتا ہے۔ یعنی شریف خاندان اپنے حال اور مستقبل کے سیاسی بیانیے کے حوالے سے مسلسل کنفیوژن کا شکار ہے جس کا فوری خاتمہ ضروری ہے تا کہ نون لیگ کی ساکھ بحال ہو سکے اور اس کی سیاست آگے بڑھ سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button