ریکوڈک کیس جرمانہ، پاکستان ریلیف لینے امریکی عدالت پہنچ گیا

پاکستان نے ریکوڈک کیس میں عائد 6 ارب ڈالر کے جرمانے کو روکنے کے لیے امریکی وفاقی عدالت سے رجوع کرلیا۔
ذرائع کے مطابق آسٹریلوی کاپر کمپنی تیتھیان کاپر کمپنی پرائیوٹ لمیٹڈ نے گزشتہ سال بلوچستان میں ریکوڈک مائیننگ کیس جیتا تھا جس کے بعد پاکستان کو 6 ارب ڈالر کمپنی کو ادا کرنے کا فیصلہ سنایا گیا تھا۔
پاکستان نے وفاقی عدالت میں موقف اپنایا کہ فیصلے پر عمل درآمد سے ان کی سیاسی و معاشی استحکام پر تباہ کن نتائج سامنے آئیں گے۔عدالت میں جمع کرائے گئے بریفنگ میں پاکستان کا کہنا تھا کہ ‘تیتھیان کو قانونی کارروائی کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔
واضح رہے کہ حکومت نے ریکوڈک کیس میں پاکستان پر عائدکردہ جرمانہ عالمی فورم پر چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ پاکستانی حکام کے مطابق ریکوڈک کیس میں پاکستان پر 6.2 ارب ڈالر اور کارکے کیس میں 1.2 ارب ڈالر جرمانہ ہوا، تاہم پاکستان پہلے ہی کارکے اور ریکوڈک کیس کے معاوضے کے سلسلے میں ایک ارب 20 کروڑ ڈالر کا نقصان برداشت کرچکا ہے۔ پاکستانی معیشت اتنے بڑے جرمانے ادا کرنا برداشت نہیں کر سکتی، اس لئے پاکستان نے عالمی عدالت کے فیصلے کو چیلنج کرنے کی بجائے عائد ہونے والے جرمانے کو چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
یاد رہے کہ بین الاقوامی عدالت کا درجہ رکھنے والی آئی سی ایس آئی ڈی سے پاکستان پر جرمانہ عائد کئے جانے کا یہ پہلا واقعہ نہیں بلکہ اس سے قبل 22اگست 2017ء کو ترکی کی ایک پاور کمپنی سے سے رینٹل پاور معاہدہ منسوخ کرنے پر پاکستان پر تقریباً 900 ملین ڈالر کا جرمانہ عائد کیا جبکہ اس سے پہلے 1997ء میں ترکی کی ایک تعمیراتی کمپنی نے اسلام آباد پشاور موٹر وے معاہدہ منسوخ کرنے پر 756ملین ڈالر کا کلیم دائر کیا تھا لیکن آئی سی ایس آئی ڈی نے تکنیکی بنیادوں پر اسے مسترد کردیا۔ حال ہی میں لندن کی ایک مصالحتی عدالت نے برطانیہ کی اثاثے ریکوری کرنیوالی کمپنی جس سے جنرل پرویز مشرف کے دور میں پاکستانی سیاستدانوں کے بیرون ملک غیر قانونی اثاثے دریافت کرنے کیلئے نیب نے معاہدہ کیا تھا، کو یکطرفہ طور پر منسوخ کرنے پر پاکستان پر 33ملین ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا۔ ان میں سے زیادہ تر معاہدوں کے منسوخ ہونے سے ملک کو نہ صرف ناقابل برداشت مالی نقصان پہنچا بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ شدید متاثر ہوئی جس سے پاکستان میں نئی سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی بھی ہوتی رہی۔
