عثمان بزدار کے خلاف فارورڈ بلاک بنانے کی تیاریاں

باخبر حکومتی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ پنجاب کے وزیر اعلی عثمان بزدار کے خلاف صوبائی اسمبلی سے تعلق رکھنے والے 20 حکومتی اراکین نے اپنے مطالبات پورے نہ ہونے کی صورت میں فارورڈ بلاک بنانے کی دھمکی دی ہے جس کے بعد کپتان کے وسیم اکرم پلس کی پریشانی میں اضافہ ہوگیا ہے.
ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو تمام تر ناکامیوں اور نااہلی کے باوجود بار بار وسیم اکرم پلس قرار دئیے جانے کے باوجود حقیقت یہی ہے کہ پنجاب میں گورننش نام کی کوئی چیز نظر نہیں آتی اور بیوروکریٹس کی پوری ٹیم تبدیل کردینے کے باوجود صوبے کے انتظامی معاملات میں بہتری نہیں آسکی۔ ملکی اسٹیبلشمنٹ کا بھی یہی موقف ہے کہ اگر ٹیم کا کپتان ہی نکما ہو گا تو ٹیم کیسے پرفارم کرے گی۔ تاہم کپتان کا یہ خیال ہے کہ انکے باربار بزدار کو وسیم اکرم قرار دینے سے شاید وہ کبھی وسیم اکرم بن ہی جائیں۔
پنجاب کی گورننس کا برا حال تو ایک طرف، اب تو پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے ممبران صوبائی اسمبلی بھی عثمان بزدار سے نالاں نظر آتے ہیں۔ ان کی کارکردگی سے مایوس 20 حکومتی ارکان پنجاب اسمبلی نے مبینہ طور پر ایک فارورڈ بلاک بنانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق جیسے ہی وزیر اعلیٰ کو یہ اطلاع ملی تو نے انہوں نے ناراض ممبران اسمبلی سے ملاقات کی کوشش شروع کر دی تاہم اطلاع یہ ہے کہ ان ناراض ممبران نے ملنے سے صاف انکار کردیا۔ ان کا مطالبہ ہے کہ یا تو وزیراعلی بدلا جائے یا ان کے مطالبات مانے جائیں۔
ناراض ارکان کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ انہیں بھی مختلف طرح کے اداروں میں الیکشن ھارے ہوئے ابرارالحق کی طرح تعینات کیا جائے۔ ابرارالحق پچھلے الیکشن میں نون لیگ کے احسن اقبال کے ہاتھوں بری طرح شکست کھا گئے تھے۔ تاہم وزیراعظم عمران خان نے ابرار کو ہلال احمر کا چیئرمین مقرر کر دیا تھا۔ ناراض ممبران پنجاب اسمبلی کا یہ موقف ہے کہ وہ اسمبلی میں لاکھ روپیہ تنخواہ حاصل کرنے کی خاطر نہیں آئے تھے۔ انہیں طاقت اور اختیار چاہیے تاکہ وہ کچھ کر سکیں ورنہ وہ حکومت سے علیحدہ ہو جائیں گے۔
واضح رہے کہ صوبہ پنجاب میں پی ٹی آئی کی حکومت محض چند ووٹوں کی اکثریت کی بنیاد پر قائم ہے ایسے میں اگر تحریک انصاف کے 20 ارکان بغاوت کرتے ہیں تو پنجاب میں حکومت کا قائم رہنا ممکن نہ رہے گا۔ چنانچہ ناراض ارکان کو منانے اور ان کے تحفظات دور کرنے کے لیے ایک صوبائی وزیر کے ذریعے رابطہ کیا گیا۔ تاہم تحریک انصاف کے ارکان نے نہ صرف وزیراعلیٰ پنجاب سے ملنے سے انکار کیا بلکہ اپنے مطالبات میں مزید اضافہ بھی کر دیا۔ ناراض ارکان کا کہنا ہے کہ وہ وزیر اعلی سے مل کر دوبارہ وعدے نہیں لینا چاہتے اور جب تک ان کے مطالبات پر عملدرآمد کے نوٹیفکیشن جاری نہیں کیے جاتے وہ وزیراعلی سے نہیں ملیں گے۔ ناراض ارکان کا کہنا ہے کہ پہلے بھی کئی بار یقین دہانیاں اور وعدے کئے گئے لیکن ان پر عملدرآمد نہیں ہوا۔
ناراض ارکان نے حکومتی شخصیت کو صاف بتا دیا کہ تحفظات کے دور ہونے اور وعدوں کی تکمیل تک ملاقات نہیں کر سکتے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومتی شخصیت کی جانب سے ناراض ارکان کو وزیراعلیٰ پنجاب سے ملاقات کے لیے قائل کرنے میں ناکامی کے بعد یہ ٹاسک اب کسی مرکزی پی ٹی آئی رہنما کے ذمہ لگایا جائے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button