سائیں بابا اور سائنسی بابا

تحریر:عطا الحق قاسمی۔۔۔۔۔۔بشکریہ:روزنامہ جنگ
ایک کالم نگار نے مجھے آج فون کیا اور کہا یہ جو آپ نے اپنے کالم میں ’’سائیں بابا کے فیوض و برکات گنوائے ہیں اگر آپ کے سائیں بابا اتنے ہی صاحب کرامات ہیں تو آپ ان کے ہاتھ پر بیعت کیوں نہیں کر لیتے ؟میں نے جواب دیا ‘‘یہ سوال آج خود سائیں بابا نے بھی مجھ سے کیا ہے میں آپ کو اور سائیں بابا کو اس کا جواب بعد میں دوں گا پہلے میں آپ کو سائیں بابا کے اور بھی بہت سے کمالات بتانا چاہتا ہوں کیونکہ جگہ کی کمی کی وجہ سے میں ان کا ذکر نہیں کر سکا تھا ۔

اور پھر میں نے بتایا کہ سائیں بابا کے کشف کا یہ عالم ہے کہ وہ پہلے سے بتا دیتے ہیں کہ کل بارش ہو گی کہ نہیں وہ اپنے علم کے ذریعے بتا سکتے ہیں کہ فلاں کے ہاں بچہ پیدا ہو سکتا ہے یا نہیں ؟انہیں یہ بھی علم ہوتا ہے کہ جو بچہ ماں کے پیٹ میں ہے وہ لڑکا ہے یا لڑکی؟انہیں سیلاب یا طوفان کے بارے میں پتہ چل جاتا ہے کہ وہ کب آئے گا اور اس کی شدت کتنی ہو گی؟میرے سائیں بابا زلزلوں کے بارے میں بھی پہلے سے بتا دیتے ہیں یعنی وہ جانتے ہیں کہ دنیا کے کون کون سے علاقے زلزلوں کی زد میں ہیں؟سائیں بابا تو اتنےپہنچے ہوئے ہیں کہ وہ بلڈ پریشر، ذیابیطس اور کئی دوسرے موذی امراض کو کنٹرول کرنا جانتے ہیں وہ تو دل کو سینے سے نکال کر اسے صاف کرکے دوبارہ واپس رکھ دیتے ہیں اور انسان بھلا چنگا ہو جاتا ہے ان کی ’’دعا‘‘ سے پوری دنیا میں چیچک کا خاتمہ ہو گیا ہے جو گھرانے سائیں بابا کا کہا مانتے ہیں ان کے ہاں معذور بچے پیدا نہیں ہوتے وہ لوگوں کو ہیپاٹائٹس (اے بی سی ) سے بھی بچاتے ہیں ان کے قبضے میں بہت سے ’’جن‘‘ ہیں ایسے جو آپ کی دستاویزات چند سیکنڈز میں ہزاروں میل دور پہنچانے پر قادر ہیں ۔سائیں بابا نے تو ایک ہی شکل اور ایک ہی جسامت کی بھیڑیں پیدا کرکے اپنے عقیدت مندوں کو حیران کر دیا تھا یہ تو سائیں بابا کے کمالات کی ایک معمولی سی جھلک ہے میں اگر تفصیل بیان کرنے پر آئوں تو اس کے لئے پورا دن بھی ناکافی ثابت ہوگا۔

اور جہاں تک اس سوال کا تعلق ہے کہ ان تمام کمالات کے باوجود میں نے آج تک سائیں بابا کے ہاتھ پر بیعت کیوں نہیں کی اور ان کو ہر معاملے میں اپنا ملجا و ماویٰ کیوں نہیں بنایا تو اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ میرا اپنا تعلق پیروں کے خاندان سے ہے لوگ صدیوں سے ہمارے خاندان کے بزرگوں کے ہاتھ پر بیعت کرتے رہے ہیں لہٰذا مجھ سےیہ توقع رکھنا کہ میں کسی اور کو مانوں گا یہ محض خام خیالی ہے دوسری وجہ یہ ہے کہ سائیں بابا نے جہاں لوگوں کی زندگیوں کو آسان بنایا ہے وہاں انہوں نے دنیا میں تباہی بھی بہت مچائی ہے ۔وہ گزشتہ سو سال کے عرصے میں کروڑوں لوگوں کو لڑائی جھگڑے کے دوران ہلاک کر چکے ہیں پہلے لوگ جھگڑے کے دوران ایک دوسرے پر تلواروں سے حملہ کرتے تھے اور یوں جانی نقصان بہت کم ہوتا تھا مگر اب سائیں بابا پھونک مارتے ہیں اور کشتوں کے پشتے لگ جاتے ہیں۔سائیں بابا مسلمانوں کے مقدس مقامات کو بھی نہیں بخشتے چنانچہ وہ اب تک سینکڑوں مسجدوں اور بزرگان دین کے مزاروں کو نشانہ بنا چکے ہیں مجھے ان کی یہ بات بھی پسند نہیں کہ وہ ہزاروں میل دور بیٹھ کر بھی لوگوں کی باتیں سنتےہیں اور انہیں جلوت میں بھی دیکھتے رہتے ہیں اس کے بعد وہ جسے تباہ کرنا چاہیں ایک پھونک مار کر تباہ کر دیتے ہیںچنانچہ میں جہاں سائیں بابا کی برکات کا بہت قائل ہوں وہاں ان کی لائی ہوئی آفات کی وجہ سے ان سے بہت دل برداشتہ بھی ہوں ۔میں نے یہ سب باتیں سائیں بابا سے بھی کہیں جب انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ تم میرے ہاتھ پر بیعت کیوں نہیں کرتے ؟ان کا جواب تھا کہ تم نے جن آفات کا ذکر کیا ہے میرا ان سے کوئی تعلق نہیں ۔یہ سب میرے ایک بدکردار بھائی کا کیا دھرا ہے جو کالے علم کا ماہر ہے وہی اپنے علم کے ذریعے دنیا کو مسلسل تباہی کی طرف لے جا رہا ہے لیکن یہ سب کچھ وہ صرف اس وقت تک کر سکے گا جب تک تم خود مضبوط نہیں ہوتے مگر تم صرف کڑھتے رہتے ہو یا ایسے معاملات میں الجھے ہوئے ہو جنہیں تم اپنی بقاسے زیادہ اہم سمجھتے ہو ۔میں سمجھتا ہوں کہ غسل اور طہارت کے مسئلے اپنی جگہ لیکن یہ ضرور سوچو کہ گزشتہ چھ سو برسوں میں تم نے اس کے علاوہ اور کیا کیا ہے؟سائیں بابا ٹھیک کہتے ہیں مگر میں ان کے ہاتھ پر بیعت نہیں کرسکتا وجہ میں ابتدا میں بیان کر چکا ہوں اور وہ یہیںکہ پدرم سلطان بود چنانچہ پیروں کے خاندان کا فرد کسی دوسرے کے ہاتھ پر بیعت کیسے کر سکتا ہے؟

Back to top button