سابق شوہر نے بدترین جنسی استحصال کا نشانہ بنایا، امبر ہرڈ کابیان حلفی ریکارڈ

ہالی ووڈ کی معروف اداکارہ امبر ہرڈ نے سابق شوہر نامور اداکار جونی ڈیپ کی جانب سے دائر ہتک عزت کے دعویٰ میں اپنا بیان ریکارڈ کر دیا ہے، جس میں انہوں نے کہا ہے کہ سابق شوہر نے شادی کے چند ماہ بعد ہی انہیں بد ترین جنسی استحصال کا نشانہ بنایا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ورجینیا کی کاؤنٹی فیئر فیکس کی عدالت میں امبر ہرڈ نے دوسرے روز بھی بیان حلفی ریکارڈ کروایا۔ انہوں نے 4 مئی سے بیان ریکارڈ کروانا شروع کیا تھا۔ پہلے روز بھی وہ سابق شوہر کے تشدد اور جنسی استحصال کا ذکر کرتے ہوئے کمرہ عدالت میں اشکبار ہوگئی تھیں۔ امبر ہرڈ نے 5 مئی کو بیان حلفی میں جیوری کو بتایا کہ سابق شوہر نے شادی کے چند ماہ بعد ہی آسٹریلیا کے دورے کے دوران انہیں بدترین جنسی استحصال کا نشانہ بنایا، اداکارہ کا کہنا تھا کہ 2015 کے آغاز میں جب وہ جونی ڈیپ کے ہمراہ آسٹریلیا گئیں تو اس وقت ان کی شادی کو کچھ ہی ماہ گزرے تھے اور انہیں اس طرح کے استحصال اور تشدد کی امید نہیں تھی۔
رائٹرز کے مطابق امبر ہرڈ نے روتے ہوئے بتایا کہ آسٹریلیا میں جونی ڈیپ کی فلم ’پائریٹس آف کیریبیئن 5‘ کی شوٹنگ جاری تھی، جہاں اس نے انہیں نشے کی حالت میں بدترین جنسی استحصال کا نشانہ بنایا،شوہر نے شراب پینے کے بعد کمرے میں رات کے کھانے سے قبل ان پر تشدد کیا، انہیں کھانا تک کھانے نہیں دیا، انہیں بے لباس کردیا جب کہ شراب کی بوتل سے ان کا بدترین جنسی استحصال کیا۔
اس موقع ہر جونی ڈیپ بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے۔
امبر ہرڈ کی جانب سے مزید کچھ دن تک بیان حلفی ریکارڈ کروائے جانے کا امکان ہے، جس دوران جونی ڈیپ کے وکلا ان سے جرح بھی کریں گے۔
اس سے قبل جونی ڈیپ نے بھی متعدد دنوں نے تک عدالت میں اپنا بیان ریکارڈ کروانے سمیت امبر ہرڈ کے وکلا کو جرح کے دوران جوابات بھی دیے تھے۔ انہوں نے جرح کے دوران امبر ہرڈ پر تشدد کےتمام الزامات مسترد کیے تھے اور دعویٰ کیا تھا کہ اُلٹا سابق اہلیہ ان پر تشدد کرتی تھیں۔
جرح کے دوران جونی ڈیپ نے اعتراف کیا تھا کہ وہ شراب نوشی سمیت دیگر نشہ کرتے رہے ہیں مگر اس سے ان کے کسی بھی رشتے دار یا دوست کو کبھی کوئی نقصان نہیں پہنچا۔
قبل ازیں جونی ڈیپ کے علاوہ ان کے چند گواہوں بشمول ان کی بڑی بہن اور ان کی جانب سے ملازمت پر رکھی گئی ایک نفسیاتی ماہر خاتون بھی عدالت میں پیش ہو چکی ہیں۔
یادر ہے کہ مذکورہ کیس کی سماعت 7 رکنی جیوری ارکان کر رہے ہیں جب کہ 4 اضافی ارکان بھی جیوری کا حصہ ہیں۔
واضح رہے کہ جونی ڈیپ کی جانب سے دائرہ کردہ مذکورہ کیس کا ٹرائل 13 اپریل سے ریاست ورجینیا کی کاؤنٹی فیئر فیکس کی عدالت میں شروع ہوا تھا۔ مذکورہ ٹرائل کی سماعتیں 6 سے 8 ہفتوں تک چلنے کا امکان ہے اور ممکنہ طور پر جولائی کے اختتام یا اگست 2022 کے وسط تک کیس کا فیصلہ سنایا جائے گا، مذکورہ کیس کا باضابطہ ٹرائل شروع ہونے سے قبل اس کی آخری سماعت 2020 کے اختتام میں ہوئی تھی، جس کے بعد کورونا کی وجہ سے اس کی سماعتیں ملتوی ہوتی رہیں۔
یاد رہے کہ جونی ڈیپ کی جانب سے 2019 میں سابق اہلیہ کے خلاف 5 کروڑ ہرجانے کا مقدمہ دائر کیے جانے کے بعد امبر ہرڈ نے بھی ان کے خلاف جوابی 10 کروڑ ڈالر کے ہرجانے کا دعویٰ دائر کیا تھا، جونی ڈیپ نے اس وقت سابق اہلیہ کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا جب کہ امبر ہرڈ نے واشنگٹن پوسٹ میں ایک مضمون لکھتے ہوئے انکشاف کیا تھا کہ وہ شادی شدہ زندگی میں گھریلو تشدد کا شکار رہی ہیں۔ انہوں نے مضمون میں سابق شوہر کا نام نہیں لکھا تھا مگر جونی ڈیپ کے مطابق امبر ہرڈ کا اشارہ ان کی جانب تھا، جس وجہ سے انہیں ذہنی اذیت کا سامنا کرنے سمیت بدنامی کو بھی برداشت کرنا پڑا۔

Back to top button