سابق پرنسپل سیکرٹری فواد حسن فواد پر فرد جرم عائدکردی گئی

احتساب عدالت نے آمدن سے زائد اثاثہ کیس میں بیوروکریٹ فواد حسن فواد پر فرد جرم عائد کر دی ہے۔ احتساب عدالت لاہور میں آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس کی سماعت ہوئی عدالت نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کے سابق پرنسپل سیکرٹری فواد حسن فواد کے اہلخانہ پر بھی فرد جرم عائد کی۔ ملزمان میں فواد حسن فواد، رباب حسن، وقار حسن اور انجم حسن شامل ہیں عدالت نے آئندہ سماعت پر ملزمان کے خلاف بیانات ریکارڈ کرنے کےلیے گواہان کو طلب کرلیا ہے عدالت نے بریت کی درخواستیں واپس لینے پر ملزمان پر فرد جرم عائد کی۔
رواں سال کے آغاز پر لاہور ہائی کورٹ نے کوئی بھی غیر قانونی پراپرٹی ثابت نہ ہونے پر فواد حسن فواد کی ضمانت منظور کر لی تھی لاہور ہائی کورٹ کے ججز جسٹس طارق عباسی اور جسٹس چوہدری مشتاق کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے فواد حسن فواد کی ضمانت کا چار صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا تھا۔ تحریری فیصلے میں کہا گیا تھا کہ فواد حسن فواد 1 سال اور 7 ماہ جیل میں قید رہے فواد حسن فواد سمیت دیگر ملزمان پر ابھی تک فرد جرم بھی عائد نہیں کی گئی اور نہ ہی فواد حسن فواد کے خلاف جاری کیس میں ابھی تک کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔
عدالت نے فیصلے میں کہا تھا کہ ملزم کے خلاف کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا گیا کہ اس نے پراپرٹی خریدی، فروخت یا منتقل کی ہو عدالت کا کہنا تھا کہ جن لوگوں کے نام پر جائیدادیں ہیں ان کو گرفتار ہی نہیں کیا گیا جن کے نام پر اثاثے ہیں، انہیں ریفرنس میں نامزد کیا گیا ریفرنس میں کوئی بھی ثبوت فراہم نہیں کیا گیا کہ اثاثے فواد حسن فواد کے ہیں۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف کے پرنسپل سیکرٹری فواد حسن فواد کے خلاف مبینہ کرپشن کا دوسرا ریفرنس مارچ 2019 میں نیب لاہور نے دائر کیا تھا ریفرنس مبینہ طور پر آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں داخل کیا گیا تھا ریفرنس میں نیب نے کہا تھا کہ فواد حسن فواد نے مبینہ طور پر ایک ارب 9 کروڑ روپے مالیت کے غیر قانونی اثاثے بنائے نیب نے ریفرنس میں کہا تھا کہ ان کے مبینہ آمدن سے زائد اثاثہ جات میں راولپنڈی کے علاقے صدر میں 5 کنال رقبے کا کمرشل پلاٹ بھی شامل ہے جس کی موجودہ مالیت لگ بھگ 50 کروڑ روپے ہے۔ ریفرنس میں فواد حسن فواد پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ ان کے صدر میں واقع 3 ارب 85 کروڑ روپے مالیت کے 15 منزلہ کمرشل پلازے میں حصص بھی ثابت ہوئے ہیں۔
یاد رہے کہ نیب لاہور کی جانب سے 12 اکتوبر 2018 کو فواد حسن فواد کے خلاف انکوائری کو تحقیقات کے مرحلے میں داخل کیا گیا تھا، جب کہ آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں ان کی گرفتاری پر 3 اگست 2018 کو عمل درآمد کیا گیا تھا۔
فواد حسن فواد پہلے ہی آشیانہ ہاﺅسنگ کے 14 ارب روپے کے مقدمے میں نیب ریفرنس کا سامنا کررہے ہیں جس میں سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور دیگر شریک ملزم بھی شامل ہیں۔ نیب کے مطابق فواد حسن فواد نے وزیراعلیٰ پنجاب کے عمل درآمد سیکرٹری کی حیثیت سے آشیانہ اقبال ہاﺅسنگ منصوبے میں مبینہ طور پر اختیارات کا غلط استعمال کیا۔ فواد حسن فواد کو جولائی 2018 میں عام انتخابات سے قبل گرفتار کیا گیا تھا اور ان پر اربوں روپے کے اثاثہ جات بنانے کا الزام عائد کیا گیا تھا جس کے اگلے روز نیب نے ان کی رہائش گاہ پر چھاپہ مار کر الیکٹرانک ڈیوائسز اور اہم دستاویزات بھی تحویل میں لے لی تھی، دسمبر 2018 میں نیب نے فواد حسن فواد اور شہباز شریف سمیت دیگر کے خلاف سپلیمنٹری کیس دائر کر دیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button