شہری لاپتہ کیس: وزیر داخلہ اعجاز شاہ اسلام آباد ہائی کورٹ طلب

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس محسن اختر کیانی نے لاپتا شہری کی بازیابی سے متعلق کیس میں ریمارکس دیے کہ گرین نمبر پلیٹ والی گاڑیوں میں شہری اغواء ہورہے ہیں وفاقی حکومت شہریوں کا تحفظ کرنے میں ناکام ہوچکی ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے شہری کی عدم بازیابی پر وفاقی وزیر داخلہ اعجاز شاہ اور سیکرٹری داخلہ کو عدالت میں طلب کرلیا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ میں وفاقی دارالحکومت کے شہری عبدالقدوس کی گمشدگی کے حوالے سے کیس کی سماعت ہوئی، اسٹیٹ کونسل حسنین حیدر تھہیم جے آئی ٹی کے سربراہ ایس پی انویسٹی گیشن ملک نعیم کے ہمراہ پیش ہوئے، ایس پی انویسٹی گیشن ملک نعیم نے عدالت کو بتایا کہ 50 لاپتہ افراد کی جے آئی ٹی کی سربراہی میں کر رہا ہوں۔ شہری کی عدم بازیابی پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے شدید برہمی کا اظہار کیا، جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیئے کہ شہریوں کا تحفظ کرنے میں وفاقی حکومت ناکام ہو چکی ہے، گرین نمبر پلیٹ والی گاڑیوں سے شہری اغوا ہو رہے ہیں، اسلام آباد پولیس ناکام ہو چکی ہے تو کیا تفتیش کرنے کے لیے سندھ پولیس کو لکھیں؟ کبھی کسی پولیس والے نے کسی ایجنسی والے کے خلاف نہ لکھا نہ ہی ملزم بنایا ہے، اٹارنی جنرل صاحب کو بتا دیں آنکھیں بند کرنے سے معاملات حل نہیں ہوں گے۔گرین نمبرپلیٹ والی گاڑیوں سے شہری اغوا ہورہے ہیں، اسلام آباد پولیس ناکام ہوچکی ہے توکیا تفتیش کرنے کےلیے سندھ پولیس کولکھیں؟معزز جج نےکہا کہ کبھی کسی پولیس والے نے کسی ایجنسی والے کے خلاف لکھا نا ہی ملزم بنایا۔ دورانِ سماعت جے آئی ٹی کے سربراہ ایس پی انویسٹی گیشن ملک نعیم نے عدالت کو بتایا کہ تھانہ کراچی کمپنی میں عبدالقدوس کے اغواء کی ایف آئی آر یکم جنوری 2020 کو درج ہوئی تھی، 50 لاپتا افراد کی جے آئی ٹی کی سربراہی میں کررہا ہوں۔ جسٹس محسن اختر نے کہا کہ اگر آئندہ سماعت پر جواب نہ دے سکے تو پھر وزیراعظم کو بلائیں گے۔
عدالت نے وزیر داخلہ اعجاز شاہ اور سیکرٹری داخلہ کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا، جب کہ اٹارنی جنرل خالد جاوید خان بھی آئندہ سماعت پر عدالتی معاونت کے لیے طلب کرلئے گئے، عدالت نے ریمارکس دیئے کہ اگر وزیر داخلہ آئندہ سماعت پر جواب نہ دے سکے تو پھر وزیراعظم کو بلایں گے، عدالت نے کیس کی سماعت 16 ستمبر تک ملتوی کردی۔
