ساجد گوندل کو شمالی علاقہ جات کی سیر پر کون لے کر گیا؟

3 ستمبر کو اسلام آباد سے نامعلوم افراد کے ہاتھوں اغوا ہونے کے بعد پانچ روز تک پراسرار طور پر لاپتہ رہنے والے ایس ای سی پی کے جوائنٹ ڈائریکٹر ساجد گوندل بھی اغوا کاروں سے رہائی ملنے کے بعد ماضی کے دوسرے مغویوں کی طرح خاموش ہو گئے ہیں اور کچھ بتانے کو تیار نہیں۔ انہوں نے 8 ستمبر کی رات روات کے قریب رہا کیے جانے کے بعد یہ ابتدائی بیان دیا تھا کہ وہ دراصل اپنے دوستوں کے ساتھ شمالی علاقہ جات کی سیر کو چلے گئے تھے اور اب واپس آ گئے ہیں۔ تاہم ان کے اس بیان کا سوشل میڈیا پر خوب ٹھٹھا لگ رہا ہے اور صارفین کا کہنا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسی سیر سے سب کو محفوظ رکھے۔
ساجد گوندل نے 9 ستمبر کے روز اسلام آباد کے سینئیر پولیس اہلکاروں سے اپنے گھر میں ملاقات کے باوجود زیر دفعہ 161 اپنے اغوا کے مقدمے میں پولیس کو بیان قلم بند نہیں کروایا۔ ایس پی رورل فاروق امجد بٹر نے بتایا کہ ساجد گوندل ایس ای سی پی کے افسران اور وکلا ء سے مشوروں میں مصروف ہے اور مشاورت کے بعد وہ مجسٹریٹ کے روبرو زیر دفعہ 164 میں اپنا بیان قلم بند کروائیں گے۔ ایس پی کا کہنا تھا کہ پولیس اسی بیان کی روشنی میں تفتیش کو منطقی انجام تک پہنچائے گی۔ پولیس کاکہنا یے کہ ابھی وہ کافی خوفزدہ ہیں اور یہ بتانے پر آمادہ نہیں کہ انہیں اغوا کے بعد کہاں لے جایا گیا تھا۔ تاہم ساجد گوندل کے لیے بڑی مشکل یہ بھی ہے کہ وہ ایک سرکاری افسر ہیں اور انہوں نے حکومت پاکستان کی نوکری بھی کرنی ہے لہذا اس بات کا امکان کم ہی ہے کہ وہ اپنے اغواکاروں کے بارے میں کوئی سچ بولیں گے۔
اس سےپہلے یہ اطلاعات تھیں کہ ایس ای سی پی کے جوائنٹ ڈائریکٹر ساجد گوندل نے پانچ روزہ گمشدگی کے بعد گھر پہنچنے کے فورا بعد پولیس کو دئیے گئے بیان میں حسب توقع یہ مضحکہ خیز دعویٰ کیا ہے کہ وہ محکمہ زراعت کے دفتر کے باہر اپنی گاڑی پارک کر کے دوستوں کیساتھ ناردرن ایریا کی سیر کیلئے چلے گئے تھے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ اپنا موبائل فون بند ہو جانے کی وجہ سے ان کا اہنے گھر رابطہ نہ ہو سکا۔ساجد گوندل کا یہی بیان اب مجسٹریٹ کے روبرو بھی قلم بند کروایا جائے گا۔ تاہم ساجد گوندل نے یہ وضاحت نہیں کی کہ جب انہوں نے محکمہ زراعت کے باہر اپنی گاڑی پارک کی تو چابی اس کے اندر کیوں چھوڑ گئے۔ ان کی طرف سے یہ وضاحت آنا بھی ضروری ہے کہ ان کا گھر تو محکمہ زراعت سے صرف ایک کلو میٹر دور ہے پھر انہوں نے گاڑی گھر میں پارک کر کے اپنی فیملی کو کیوں نہیں بتایا کہ وہ ناردن ایریاز کی سیر کرنے جا رہے ہیں۔ سوال یہ بھی ہے کہ وہ کون دوست تھے جو ساجد گوندل کو اچانک ناردرن ایریاز کی سیر پر آمادہ کر کے اپنے ساتھ لے گئے اور پھراگر ان کا موبائل فون بند ہو گیا تھا تو کیا انکے دوستوں کے فون بھی کام نہیں کر رہے تھے جن کے ذریعے وہ اپنے گھر والوں کو اپنی سیر کے پروگرام سے ہی آگاہ کر دیتے۔
دوسری طرف اسلام آباد پولیس کے ایس پی انویسٹی گیشن ملک نعیم نے 8 ستمبر کی رات میڈیا کو بتایا تھا کہ ساجد گوندل کو روات کے قریب سے بازیاب کروایا گیا۔ ملک نعیم کا کہنا تھا کہ پولیس کو ساجد گوندل کے اہل خانہ نے اطلاع دی تھی کہ انہیں اغوا کاروں نے روات کے قریب چھوڑا ہے۔ یہ اطلاع ملنے کے بعد پولیس کی ٹیمیں روات کی جانب روانہ ہوگئیں اور وہاں سے ساجد گوندل کو بازیاب کروا لیا۔ چنانچہ سوال یہ بھی ہے کہ اگر وہ شمالی علاقہ جات کی سیر کو گئے تھے تو روات کیسے پہنچ گئے۔ سوال یہ بھی ہے کہ اگر ساجد گوندل واقعی شمالی علاقہ جات کی سیر کو گئے تھے تو پھر 8 ستمبر کی رات انہوں نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر یہ پیغام کیوں ڈالا کہ میں گھر واپس آگیا ہوں اور محفوظ ہوں اور میں اپنے ان تمام دوستوں کا شکر گزار ہوں جو میرے لیے پریشان تھے۔
ان تمام سوالوں کا سیدھا جواب یہ ہے کہ ساجد گوندل محکمہ زراعت کی حراست میں تھے اور انھیں اس شرط پر رہا کیا گیا کہ وہ واپس جاکر یہی بیان دیں گے کہ وہ شمالی علاقہ جات کی سیر کو گئے ہوئے تھے۔ ظاہر ہے کہ جان ہے تو جہان ہے اور زندگی کس کو عزیز نہیں ہوتی۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے سینئر صحافی مطیع اللہ جان بھی اسلام آباد سے اچانک غائب ہو کر شمالی علاقہ جات کی جانب نکل گئے تھے لیکن جب گھر والوں نے شور مچایا تو رات ہی کو واپسی آگئے۔ مطیع اللہ جان کے گھر والوں کو بھی یہی فون گیا تھا کہ وہ روات کے قریب پائے گئے ہیں چنانچہ انکے بھائی نے بتائے گے مقام پر پہنچ کر ان کو وصول کرلیا۔
تاہم ساجد گوندل کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ انہیں خفیہ اداروں نے اغوا کیا تھا اور پانچ روز ان سے سینئر صحافی احمد نورانی کی اس خبر کے حوالے سے سوال جواب ہوتے رہے جس میں انہوں نے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم باجوہ کے خاندان کے بیرون ملک اربوں روپوں کے اثاثے ہونے کا الزام عائد کیا تھا۔ احمد نورانی نے اپنی رپورٹ میں یہ الزام بھی عائد کیا تھا کہ ان کی جانب سے جب عاصم باجوہ کا موقف جاننے کے لیے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ تاہم یہ ضرور ہوا کہ عید کے روز جب سارا پاکستان بند تھا، ایس ای سی پی کے اسلام آباد میں واقع دفتر کو کھلوا کر باجکو گروپ کی ملکیتی کمپنیوں کے ڈیٹا میں تبدیلیاں کی گئیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ شاید اسی وجہ سے ساجد گوندل کو اغوا کیا گیا جو کہ ای سی پی میں جوائنٹ ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز ہیں۔
یاد رہے کہ ساجد گوندل ایس ای سی پی میں تعیناتی سے قبل صحافت کے پیشے سے منسلک تھے اور انگریزی اخبار ڈان میں بحیثیت رپورٹر خدمات انجام دیتے رہے ہیں۔ چنانچہ ان کے لاپتہ ہونے کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیلی اور سوشل میڈیا پر خصوصاً صحافیوں کی جانب سے شدید ردعمل دیکھنے میں آیا۔ جبکہ ان کی بازیابی کی خبر بھی فوراً پھیلی۔ یاد رہے کہ ساجد گوندل کو اسی رات رہا کیا گیا جس دن ان کے بوڑھے والدین اوراہل خانہ نے وزیراعظم ہاؤس کے باہر احتجاج کیا تھا اور ان کی فوری بازیابی کا مطالبہ کیا تھا۔ اس احتجاج کے بعد وزیراعظم عمران خان نے ساجد گوندل کی بازیابی کے لیے ایک تین رکنی کمیٹی بھی تشکیل دی تھی۔ اس سے پہلے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ساجد گوندل کی گرفتاری کو حکومت کی نااہلی قرار دیتے ہوئے سیکرٹری داخلہ اور آئی جی پنجاب کو ہدایت کی تھی کہ وہ دس روز کے اندر مغوی کو بازیاب کرواکر عدالت میں پیش کریں۔
اسی طرح وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے بھی اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہا تھا کہ وزیر اعظم نے کابینہ اجلاس میں واضح کیا ہے کہ اسلام آباد سے مسلسل لوگوں کا ‘لاپتہ’ ہونا ناقابل قبول ہے کیونکہ تمام جرائم سے نمٹنے کے لئے قوانین موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر آئی جی اور وزارت داخلہ کو سخت احکامات دئیے گئے تھے اور ساجد گوندل کی محفوظ واپسی بہت اچھی بات ہے۔
لہذا ان تمام واقعات اور بیانات کے باوجود اگر ساجد گوندل یہ موقف اختیار کریں کہ وہ شمالی علاقہ جات کی سیر کے لیے گئے ہوئے تھے تو عقلمندوں کے لیے اشارہ کافی ہے کہ وہ محکمہ زراعت کے دفتر کے باہر اپنی گاڑی کھڑی کر کے دراصل کہاں گئے تھے۔
