سانحہ APS طلبی پر وزیراعطم سپریم کورٹ میں پیش
آرمی پبلک سکول حملہ کیس میں طلب کیے جانے پر وزیراعظم عمران خان نے سپریم کورٹ میں پیش ہو کر ذمہ داروں کے تعین کی یقین دہانی کرا دی ، چیف جسٹس آف پاکستان گلزار احمد کی سربراہی میں جسٹس قاضی محمد امین احمد اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل تین رکنی بینچ نے وزیراعظم کو صبح 10 بجے کے قریب طلب کیا تھا۔وزیر اعظم تقریباً دو گھنٹے بعد کمرہ عدالت نمبر 1 میں پہنچے جہاں وکلا، سکیورٹی اہلکاروں اور اے پی ایس حملے کے متاثرین کے اہل خانہ کی بڑی تعداد کمرہ عدالت میں موجود تھی۔وزیر داخلہ شیخ رشید، وزیر اطلاعات فواد چوہدری سمیت چند وفاقی وزرا بھی سپریم کورٹ میں موجود ہیں۔
کیس کی سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو چیف جسٹس نے کہا کہ وزیر اعظم صاحب، آپ آئیں جس پر وزیر اعظم روسٹرم پر پہنچ گئے۔وزیراعظم عمران خان نے عدالت کے روسٹرم میں کھڑے ہو کر بیان دیا کہ جب اے پی ایس کا سانحہ ہوا تو خیبر پی کے میں ہماری حکومت تھی ، ملک میں کوئی مقدس گائے نہیں ہے ، آپ حکم کریں ، ہم ایکشن لیں گے ، میں خود ہسپتال جا کر سانحہ اے پی ایس کے زخمیوں سے ملا تھا ، سانحہ کے بعد نیشنل ایکشن پلان بنایا گیا تھا ، ہر روز خود کش حملے ہو رہے تھے ، اس موقع پر جسٹس قاضی فائز عیٰسی نے ریمارکس دیئے کہ آپ ہمارے وزیراعظم ہیں ، ہم آپ کا احترام کرتے ہیں ، سانحہ کے لواحقین والدین کو مطمئن کرنا ضروری ہے۔
چیف جسٹس نے وزیراعظم سے مخاطب ہوئے کہا کہ مسٹر پرائم منسٹر ہماری فوج دنیا کی چھٹی بڑی فوج ہے ، 2014 میں سانحہ ہوا ، سات سال گزر گئے ، کمیشن بنایا گیا جس کی رپورٹ بھی آ گئی ہے ، کیا ہم ایک مرتبہ پھر سرنڈر ڈاکومنٹس پر سائن کرنے جا رہے ہیں ، 20 اکتوبر کا ہمارا حکم ہے کہ ذمہ داروں کا تعین کر کے کارروائی کریں ، حکومت والدین کا موقف لے کر کارروائی عمل میں لائے ، آپ وزیراعظم ہیں جواب آپ کے پاس ہونا چاہئے ، آپ یہ بھی پتہ لگائیں کہ ملک میں ہونے والے 480 ڈرون حملوں کا ذمہ دار کون ہے؟
اس کے جواب میں وزیراعظم عمران خان نے بتایا کہ میں پہلے بھی سانحہ اے پی ایس کے لواحقین سے ملا تھا ، اب بھی ملوں گا ، بچوں کے والدین کو اللہ صبر دے گا ، ہم معاوضہ دینے کے لیے علاوہ اور کیا کر سکتے تھے ، 80 ہزار لوگوں کے مرنے کا ہم کو بھی دکھ ہے ، وزیراعظم عمران خان نے سپریم کورٹ کو اس سلسلے میں انصاف کے تقاضے پورے کرنے کی یقین دہانی کرائی۔
گزشتہ سماعت کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان گلزار احمد کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے اٹارنی جنرل کو ہدایت کی تھی کہ وہ عدالت کو حکومت کی جانب سے 16 دسمبر 2014 کو اے پی ایس پر حملے میں شہید ہونے والے بچوں کے والدین کی شکایات کے ازالے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات سے آگاہ کریں۔واضح رہے کہ تقریباً سات سال قبل پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر عسکریت پسندوں کے حملے میں کل 147 افراد شہید ہوئے تھے، جن میں سے 132 بچے تھے۔
آج دوران سماعت چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے سوال کیا کہ کیا وزیراعظم نے عدالتی حکم پڑھا ہے؟ اس پر اٹارنی جنرل نے انہیں بتایا کہ وزیراعظم کو عدالتی حکم نہیں بھیجا تھا انہیں اس سے آگاہ کروں گا۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اٹارنی جنرل صاحب یہ سنجیدگی کا عالم ہے، وزیراعظم کو بلائیں ان سے خود بات کریں گے، ایسے نہیں چلے گا۔
سپریم کورٹ نے سانحہ آرمی پبلک اسکول از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران وزیراعظم کو طلب کر لیا۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ انٹیلی جنس پر اتنا خرچ ہورہا ہے لیکن نتائج صفر ہیں، اپنے لوگوں کے تحفظ کی بات آئے تو انٹیلی جنس کہاں چلی جاتی ہے؟ بچوں کو اسکولوں میں مرنے کے لئے نہیں چھوڑ سکتے، چوکیدار اور سپاہیوں کے خلاف کارروائی کر دی گئی، اصل میں تو کارروائی اوپر سے شروع ہونی چاہیے تھی، اوپر والے تنخواہیں اور مراعات لے کر چلتے بنے، کیا سابق آرمی چیف اور دیگر ذمہ داران کے خلاف مقدمہ درج ہوا؟ جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ سابق آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کے خلاف انکوائری رپورٹ میں کوئی فائنڈنگ نہیں۔
جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیئے کہ اداروں کو معلوم ہونا چاہیے تھا کہ قبائلی علاقوں میں آپریشن کا رد عمل آئے گا، سب سے نازک اور آسان ہدف اسکول کے بچے تھے، یہ ممکن نہیں کہ دہشت گردوں کو اندر سے مدد نہ ملی ہو۔
دوران سماعت عدالت میں ٹی ٹی پی سے مذاکرات کا بھی تذکرہ ہوا۔ جسٹس قاضی امین نے ریمارکس دیئے کہ کیا اصل ملزمان تک پہنچنا اور پکڑنا ریاست کا کام نہیں؟ اطلاعات ہیں کہ ریاست کسی گروہ سے مذاکرات کررہی ہے۔
خیال رہے کہ سانحے میں شہید والے بچوں کے والدین نے گزشتہ سماعت میں ان عوامی اور فوجی عہدیداروں کے خلاف فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) کے اندراج کا مطالبہ کیا تھا جو ان کے خیال میں اسکول میں حفاظتی اقدامات کے ذمہ دار تھے۔
اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ہم اپنی تمام غلطیاں قبول کرتے ہیں، اعلی حکام کے خلاف کوئی ایف آئی آر درج نہیں ہو سکتی۔ان کا کہنا تھا کہ دفتر چھوڑ دوں گا مگر کسی کا دفاع نہیں کروں گا ‘چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’اپنے لوگوں کے تحفظ کی بات آئے تو انٹیلی جنس کہاں چلی جاتی ہے؟‘۔بعد ازاں سپریم کورٹ نے کیس میں وزیراعظم کو ساڑھے 11 بجے طلب کرلیا۔
دوران سماعت عدالت میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے مذاکرات کا بھی تذکرہ ہوا اور جسٹس قاضی امین نے کہا کہ اطلاعات ہیں کہ ریاست کسی گروہ سے مذاکرات کررہی ہے، کیا اصل ملزمان تک پہنچنا اور پکڑنا ریاست کا کام نہیں؟چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ بچوں کو اسکولوں میں مرنے کے لیے نہیں چھوڑ سکتے، یہاں چوکیدار اور سپاہیوں کے خلاف کارروائی کر دی گئی‘۔ان کا کہنا تھا کہ ’اصل میں تو کارروائی اوپر سے شروع ہونی چاہیے تھی مگر اوپر والے تنخواہیں اور مراعات لے کر چلتے بنے‘۔جسٹس اعجاز الاحسن نے مشاہدہ کیا کہ ’یہ ممکن نہیں کہ دہشت گردوں کو اندر سے سپورٹ نہ ملی ہو، اے پی ایس واقعہ سیکیورٹی کی ناکامی تھی۔
سپریم کورٹ نے اے پی ایس سانحہ کے متعلق کیس کی سماعت چار ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی۔
