شدت پسندوں کے لیے بزور بازو مطالبات منوانے کا راستہ ہموار


ریاست پاکستان کی جانب سے تحریک لبیک پر عائد پابندی ’قومی مفاد‘ کے نام پر ہٹانے سے ملک میں بزور بازو مطالبات منوانے کی روش کا راستہ مکمل ہموار کر دیا گیا ہے جس کا فائدہ اسٹیبلشمنٹ کو ہوگاجبکہ نقصان سیاسی حکومتوں کو ہوگا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ تحریک لبیک پر پابندی اسی وسیع تر قومی مفاد میں اٹھائی گئی ہے جس مفاد کے نام پر اپریل 2021 میں اس پر پابندی لگائی گئی تھی۔ یعنی پاکستان میں بدلتے ہوئے حالات کے ساتھ قومی مفاد بھی تبدیل ہوتا رہتا ہے اور یہ فیصلہ بنیادی طور پر طاقتور فوجی اسٹیبلشمنٹ کرتی ہے کہ کس وقت کون سا فیصلہ قومی مفاد میں ہے اور کب اسے وسیع تر قومی مفاد میں واپس دینا ہے۔
حکومت پاکستان اور تحریک لبیک کے درمیان طے پانے والا معاہدہ خفیہ رکھا گیا لیکن گذشتہ چند روز میں اس کو ملنے والے سرکاری ریلیف نے جہاں اس معاہدے کے نکات سے پردہ اٹھا دیا وہیں اس سارے عمل میں حکومتی عجلت پر سوالات بھی اٹھا دیے ہیں کیونکہ شدت پسندوں کے ساتھ معاہدے کرنے سے ملک کے سیاسی اور سماجی مستقبل پر بھی دور رس نتائج مرتب ہوتے ہیں۔
وفاقی حکومت کی جانب سے تحریک لبیک کا نام کالعدم تنظیموں کی فہرست سے نکالے جانے کے بعد حکومت نے ٹی ایل پی کو رعایت دینے کی جو وجوہات گنوائیں ان میں وسیع تر قومی مفاد سر فہرست تھا لیکن تلخ سچ یہ ہے کہ اس حکومتی فیصلے نے دیگر شدت پسند تنظیموں کے لیے بھی بزور بازو اپنے مطالبات منوانے کا راستہ ہموار کر دیا ہے۔
اہم ترین سوال یہ ہے کہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ ہمیشہ مذہبی شدت پسندوں کے سامنے ہی گھٹنے کیوں ٹیکتی ہے اور قوم پرستوں کو اس طرح کی رعایت کیوں نہیں دی جاتی؟ یہ پہلا موقع نہیں کہ ریاست نے کسی پرتشدد جتھے کے سامنے ’قومی مفاد‘ کی آڑ میں سرنڈر کیا ہو۔ ہمارا ماضی بھی ایسے واقعات سے بھرا پڑا ہے جہاں شدت پسند تنظیموں کے ساتھ معاہدے کیے گئے۔ دفاعی امور پر نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستانی ریاست مذہبی تنظیموں کی شدت پسندی کے سامنے اس لیے سرنڈر کرتی ہے کہ انہیں نظریہ پاکستان کا محافظ سمجھا جاتا ہے جبکہ خود فوج اپنے آپ کو ملک کی نظریاتی سرحدوں کا محافظ سمجھتی ہے۔ لہذا اس معاملے میں پاکستانی اسٹیبلشمنٹ اور مذہبی جماعتوں کا ایک محافظ کنکشن نظر آتا ہے جس کے نام پر عوام کو الو بنایا جارہا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بدلتے ہوئے سیاسی حالات میں پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کو ایک ایسے پریشر گروپ کی ضرورت تھی جسے وہ بوقت ضرورت استعمال کر سکے۔ لہذا تحریک لبیک پر عائد پابندی ہٹانا ضروری تھا تاکہ اسے اگلے الیکشن میں استعمال کیا جاسکے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ہو سکتا ہے کہ مستقبل میں ہونے والے عام انتخابات میں تحریک لبیک کا کسی بڑی سیاسی جماعت کے ساتھ انتخابی اتحاد بنوا دیا جائے۔ یوں اگلے الیکشن میں اگر کپتان اور انکی تحریک انصاف اقتدار سے باہر بھی ہو جاتی ہے تو اسٹیبلشمنٹ کے پاس لبیک کی صورت میں اپنا ایجنڈا آگے بڑھانے کے لئے ایک پریشر گروپ موجود ہو گا جسے وہ وقت ضرورت استعمال کر سکے گی۔
تجزیہ نگار افتخار احمد کا کہنا ہے کہ حکومت کی طرف سے جب تحریک لبیک کے ساتھ معاہدہ کیا گیا تو قوم کو بتایا گیا کہ یہ معاہدہ ’قومی مفاد‘ میں کیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ابھی تک وہ قومی مفاد کی تعریف سمجھنے سے قاصر ہیں۔ ماضی میں جب سپریم کورٹ کی طرف سے فوجی مارشل لاز کو جائز قرار دیا گیا تو اس وقت بھی قومی مفاد میں نظریہ ضرورت اتحاد ہوا تھا۔ انھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کی نظر میں قومی مفاد کی تعریف الگ ہے اور قوج کی نظر میں قومی مفاد کی کوئی اور تعریف ہے۔
افتخار احمد کا کہنا تھا کہ آرمی پبلک سکول کے واقعہ کے بعد کالعدم تنظیم تحریک طالبان کے خلاف سکیورٹی فورسز برسرپیکار رہی ہیں اور اب اس جماعت کے ساتھ ڈائیلاگ کرنے کی باتیں سامنے آ رہی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان میں جس نقطے پر فوری اور کم طاقت صرف کر کے عمل درآمد ہو سکتا ہے وہ لاؤڈ سپیکر کے استعمال پر پابندی تھی لیکن اس پر بھی آج تک عمل درآمد نہیں ہوا۔ افتخار احمد کا کہنا تھا کہ اگر حکومت نے تحریک لبیک کے ساتھ معاہدہ کرنا اور پھر اس معاہدے کی روشنی میں اس کو کالعدم جماعتوں کی فہرست سے نکالنا ہی تھا تو حکومت کو یہ کام اسی وقت ہی کرنا چاہیے تھا جب شاہدرہ کے قریب تحریک لبیک کے کارکنوں نے ایک پولیس اہلکار کو ہلاک کر دیا تھا۔ انھوں نے کہا اگر ایسا ہو جاتا تو ہو سکتا ہے سادھوکی کے قریب نہ پولیس اہلکاروں کی جانیں جاتیں اور نہ ہی پولیس اہلکار وہاں سے بھاگتے جو کہ ادارے کی بدنامی کا باعث بنا۔
دوسری جانب تحریک لبیک کی مجلس شوری کے رکن پیر عنایت الحق شاہ کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت نے حکومت سے جو معاہدے کیے تھے وہ پورے کر دیے ہیں اور اب یہ حکومت پر ہے کہ وہ تحریک لبیک کے ساتھ کیے گئے معاہدوں کو پورا کرے۔
پیرعنایت الحق شاہ کا کہنا تھا کہ اگرچہ حکومت نے ان کی جماعت کا نام کالعدم جماعتوں کی فہرست سے نکال دیا ہے لیکن ابھی تک ان کی جماعت کے آٹھ سو کے قریب کارکنوں کے نام فورتھ شیڈول میں موجود ہیں اور پولیس اہلکار ان کارکنوں کو تھانوں میں بلوا کر حاضری لگوا رہے ہیں۔ حکومت کی طرف سے تحریک لبیک کو کالعدم جماعتوں کی فہرست سے نکالنے کے بارے میں جو نوٹیفکیشن جاری ہوا ہے اس کی کاپی گورنر سٹیٹ بینک کو بھی بھیجی گئی ہے تاہم پیر عنایت الحق شاہ کا کہنا ہے کہ ان سمیت جتنے بھی کارکن فورتھ شیڈول میں ہیں ان کے بینک اکاؤنٹس ابھی تک بحال نہیں کیے گئے۔
دوسری جانب سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تحریک لبیک کو کالعدم جماعتوں کی فہرست سے نکالنے کے بعد دوسری جماعتوں کی طرف سے انھیں کالعدم جماعتوں کی فہرست سے نکالنے کا مطالبہ ایک فطری عمل ہے۔
واضح رہے کہ تحریک لبیک پاکستان کو کالعدم جماعتوں کی فہرست سے نکالنے کے حکومتی فیصلے کے بعد کالعدم سپاہ صحابہ اور ایم کیو ایم سمیت چند دیگر چند تنظیموں نے بھی اپنا نام اس فہرست سے خارج کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ تجزیہ کاروں کہتے ہیں کہ جہاں ریاست اپنی عملداری پر سمجھوتہ کرے گی وہاں ایسے حالات تو پھر پیدا ہو ہی جاتے ہیں۔ تاہم دنیا پاکستان کے موجودہ حالات بغور دیکھ رہی ہے اور وہ حکومت وقت سے ضرور سوال کرے گی کہ کچھ عرصہ پہلے جن شدت پسند جماعتوں کو پاکستان کے مفاد میں کالعدم قرار دے کر ان کے خلاف کارروائی عمل میں لائی گئی اب ان پر عائد پابندی کیوں واپس لے لی گئی ہے؟
دفاعی تجزیہ کار عامر رانا کا کہنا ہے کہ سپاہ صحابہ کی جانب سے بھی خود پر عائد پابندی اٹھانے کا مطالبہ کوئی انھونی بات نہیں بلکہ اس طرح کا مطالبہ دیگر تنظیموں کی طرف سے بھی آ سکتا ہے جنھیں کالعدم جماعت قرار دیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ مذہبی جماعتوں کے بارے میں بطور ریاست پاکستان کا رویہ دوسری جماعتوں سے ہٹ کر رہا ہے۔ حکومت کو اس بارے میں اپنی پالیسیوں کو از سر نو مرتب کرنے کی ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں اگر کسی جماعت کو کالعدم جماعتوں کی فہرست میں شامل کیا گیا جائے تو اس کو اس فہرست میں شامل کرنے کے لیے ٹھوس شواہد موجود ہوں اور محض وقتی قومی مفاد کے تحت کسی جماعت کا نام کالعدم جماعتوں کی فہرست میں شامل نہ کیا جائے۔

Back to top button