سرکار کے ماؤتھ پیس PTV کا مزید بوجھ عوام پر لاد دیا گیا

مالی مسائل کے شکار سرکاری ٹیلی ویژن پی ٹی وی کو سہارا دینے کیلئے حکومت کی طرف سے بجلی کے بلوں میں ڈالی جانے والی لازمی ٹی وی فیس 35 روپے سےبڑھا کر100 روپے کرنے اور مجموعی طور پر عوام سے سات ارب روپے بٹورنے کے حکومتی فیصلے کے بعد سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے اور صارفین نے سرکار کی اس حرکت کو خوب آڑے ہاتھوں لیا ہے۔
سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ یہ فیس ان نالائق اور ناکام حکومتی لوگوں سے چارج کرنی چاہیے جن کی ناقص کارکردگی کو پی ٹی وی سارا دن بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے۔ ان کا کہنا یے کہ جہاں تک عوام کا تعلق ہے تو شاید ہی ایک لاکھ لوگوں میں کوئی ایک فرد کسی وقت پی ٹی وی لگا کر چند منٹ دیکھتا ہو کیونکہ اس پر سرکار کی مدح سرائی کے علاوہ اور کچھ نہیں ہوتا۔
تاہم حکومت نے مالی خسارے کے حل کے لیے پی ٹی وی کی فیس بڑھانے اور ملازمین کی ریٹائرمنٹ کی عمر کم کرنے کے اقدام تجویز کیے ہیں۔ ایسا کرنے والوں کو امید ہے کہ بجلی کے بلوں میں وصول کی جانے والی پی ٹی وی کی فیس بڑھانے سے خسارے کا معاملہ بہتر ہو سکے گا۔ تاہم سوشل میڈیا صارفین نے اس فیصلے پر ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مالی وسائل کی قلت کا شکار پی ٹی وی کے ڈوبنے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اس کو کمرشل بنیادوں پر چلانے کی بجائے سرکار کا ماؤتھ پیس بنا دیا گیا ہے. لوگ ناکام سرکار سے الرجک ہیں لہذا وہ پی ٹی وی سے بھی اکتا ہو چکے ہیں۔
ٹی وی فیس میں یکلخت 200 فیصد اضافے کی اطلاع کے بعد سرکاری ٹیلی ویژن پر پیش کیے جانے والے مواد کا معیار سوشل میڈیا صارفین کی بحث کا مرکز بنا ہوا ہے۔ زیادہ تر لوگوں کا یہ ماننا ہے کہ پی ٹی وی پاکستان کے کسی چھوٹے سے چھوٹے اور تھکے سے تھکے پرائیویٹ ٹی وی چینل سے بھی گیا گزرا چینل بن چکا ہے۔
ایک صارف نے پی ٹی وی کو ’سفید ہاتھی‘ قرار دیتے ہوئے پیش کردہ مواد پر سوال اٹھایا کہ سینکڑوں افراد پر مشتمل ٹیم ہمیں صرف یہ بتاتی ہے کہ آرمی چیف، صدر اور وزیراعظم نے آج کیا کہا؟
ریڈیو پاکستان کے سابق ڈائریکٹر جنرل اور تجزیہ کار مرتضی سولنگی نے فیس اضافے پر تعجب کا اظہار کرتے ہوئے حکومتی ترجیحات کو موضوع بنایا۔ انہوں نے لکھا کہ پی ٹی آئی نے اپنے انتخابی منشور میں پی ٹی وی کو آزاد و خودمختار میڈیا ہاؤس بنانے کا اعلان کیا تھا تاہم وہ ایسا نہیں کر سکی اور اسے سرکار کا ٹٹو بنا کر رکھ دیا گیا ہے جس کی کوئی ساکھ نہیں یے۔
یاد رہے کہ پاکستان میں سنہ 2007 سے بجلی بلوں کے ذریعے پی ٹی وی لائسنس فیس وصول کرنے کا آغاز کیا گیا تھا۔ ابتدا میں 25 روپے فی کنکشن کے حساب سے یہ رقم تقریبا تین ارب روپے تھی جو بجلی صارفین میں اضافے سے بڑھ کر سات ارب روپے ہو گئی تھی۔تاہم پی ٹی وی فیس پر ماضی میں بھی یہ کہہ کر تنقید کی جاتی رہی ہے کہ بلاامیتاز ہر کسی خصوصا مساجد و نادار افراد سے یہ فیس وصول کرنا ناقابل فہم اقدام ہےجبکہ ابتدا میں 25 روپے وصول کی جانے والی فیس بڑھا کر 35 روپے کر دی گئی تھی۔
دوسری جانب پی ٹی وی کے حالیہ بورڈ اجلاس میں فیس بڑھانے کی تجویز کا جواز پیش کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ گزشتہ دس برسوں میں تمام اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہوا لیکن ٹی وی فیس نہیں بڑھائی گئی ، لیکن سچ تو یہی ہے کہ مقابلے کے اس دور میں کمزور مواد سے ناظرین کو اپنی طرف متوجہ کرنے میں ناکامی پر مالی مسائل کے شکار پی ٹی وی کے خسارے کا بوجھ بھی عوام کے کاندھوں پر منتقل کرنے کا نیا منصوبہ بنایا جا رہا ہے حالانکہ پاکستان کی بیس کروڑ کی آبادی میں سے شاید بیس ہزار لوگ بھی پی ٹی وی کے مستقل ناظرین نہ ہوں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button