چین میں کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کیلئے شہر کا لاک ڈاؤن کردیا گیا

چین میں نئے کورونا وائرس نمونیا بیماری سے متاثرہ افراد کی تعداد 5 سو 71 تک جا پہنچی جس میں سے 95 کی حالت تشویشناک ہے جبکہ اب تک 17 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔تاہم مزید وبا کا پھیلاؤ روکنے کیلئے شہر کا لاک ڈاؤن کر دیا گیا۔
ذرائع کے مطابق ووہان حکومت نے وبائی مرض کے گڑھ اس شہر کا لاک ڈاؤن کردیا جس میں بسز، سب وے کشتیوں سمیت تمام پبلک ٹراسپورٹ معطل، جبکہ ایئر پورٹ اور ریلوے اسٹیشنز سے باہر جانے پر پابندی لگادی تا کہ اس بیماری کے پھیلاؤ کو روکا جاسکے۔اس کے علاوہ ووہان حکومت نے تمام افراد کو عوامی مقامات مثلاً ہوٹلوں، ریسٹورنٹس، سنیما، پارکس، شاپنگ سینٹر اور عوامی ذرائع آمدو رفت میں ماسک پہننے کی ہدایت کی ہے تا کہ یہ بیماری پھیلنے سے روکی جاسکے۔وائرس کی موثر طریقے سے روک تھام کیلئے ہوبے کی صوبائی حکومت نے ایمرجنسی پبلک ہیلتھ ریسپانس میکانزم کو فعال کرنے کا اعلان کردیا۔حکام تمام مصدقہ اور مشتبہ مریضوں کو الگ تھلک کرنے کے لیے سخت اقدامات اٹھا رہے ہیں۔اس مقصد کے لیے ایئرپورٹس، ریلوے اسٹیشنز اور بندرگاہوں پر جسم کا درجہ حرارت چیک کرنے کے پوائنٹس بنا دیے گئے جس سے تمام مسافروں کو گزرنا ہوگا۔
دوسری جانب مقامی حکام نے بیرونی سرگرمیوں جیسا کہ کانفرنسز، ٹورز، دورے اور بڑے عوامی اجتماعات وغیرہ کو سختی سے محدود کردیا ہے۔ووہان کی اتنظامیہ نے اعلان کیا کہ سیاحت کی مقامی ایجنسیاں شہر سے باہر اپنا کاروبار معطل کردیں گی اور 8 فروری تک کوئی ٹور نہیں کروایا جائے گا جبکہ 30 جنوری کے بعد طے شدہ ٹورز کو منسوخ کرنے کا آغاز کردیا گیا۔شہری حکومت نے رہائشیوں کو ووہان سے باہر نہ جانے اور غیر مقامی افراد کو بلا اشد ضرورت شہر میں نہ آنے کی ہدایت کی ہے تاکہ وائرس پھلنے کے خطرے کو کم سے کم کیا جاسکے۔
رواں ہفتے نئے قمری سال کی چھٹیوں کے لیے لاکھوں افراد چین کا سفر کررہے ہیں جس کے لیے نیشنل ہیلتھ کمیشن نے اس وبا کو روکنے کے اقدامات کا اعلان کیا تھا جس میں ایئرپورٹ، بس اسٹیشنز کے ساتھ ساتھ طیاروں اور ٹرینوں کو اندر سے جراثیم سے پاک کرنا اور ہوادار بنانا شامل ہے۔اس وبا سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے شہر ووہان میں بڑے عوامی اجتماعات منسوخ اور بین الاقوامی فٹبال میچز نئی جگہ منتقل کردیے گئے اس کے ساتھ سیر کے لیے آنے والوں کو روکنے جبکہ رہائشیوں کو مرکزی شہر سے باہر نہ جانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
خیال رہے کہ ووہان شہر کی آبادی ایک کروڑ 10 لاکھ نفوس پر مشتمل ہے۔شہر کے میئر ژو زیان وانگ نے سرکاری نشریاتی ادارے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ’ہم لوگوں کو یہی مشورہ دیں گے کہ اگر بہت ضروری نہیں تو ووہان نہیں آئیں۔
