سر کیوں پنگے لیتے ہیں؟ ٹوئٹر پر ثناء بچہ اور آصف غفور کی جنگ

13 جنوری 2020 کے روز فوجی ترجمان میجر جنرل آصف غفور اور سینئر اینکر پرسن ثناء بچہ کے مابین ٹویٹر کے محاذ پر شدید گولہ باری شروع ہوگئی اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ ثنا بچہ نے ایک سخت ٹویٹ کرتے ہوئے آصف غفور کو یہ کہہ دیا کہ ‘سر آپ کیوں بلاوجہ پنگے لیتے ہیں۔ اب میں نے اپ کو مزید کوئی جواب دیا تو آئی ایس پی آر کے کرنل شفیق کا منت بھرا فون آ جائے گا کہ میڈم پلیز اپنی ٹویٹ ڈیلیٹ کردیں۔
ثنا بچہ نے آصف غفور کو مخاطب کر کے لکھا: ’آپ فوج کے ترجمان ہیں اس لیے ایسا آپ کو زیب نہیں دیتا۔ یہ آپ کا ذاتی فائٹ کلب نہیں ہے۔‘ یاد رہے کہ جون 2019 میں بھی ثنا بُچہ اور آصف غفور کے درمیان ٹوئٹر پر نوک جھونک کا اس قسم کا ایک دور دیکھنے میں آیا تھا۔

پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور ٹوئٹر پر اپنے ذاتی اکاؤنٹ سے بھی خاصے متحرک رہتے ہیں اور اکثر اوقات صحافیوں کی ٹویٹس کا حوالہ دیتے ہیں یا براہ راست ان کا جواب دے دیتے ہیں اور ایسا کرتے ہوئے بعض اوقات ان کا لہجہ بہت سخت اور کڑوا ہو جاتا ہے۔ 13 جنوری کو بھی انہوں نے ثنا بُچہ کی ایک ٹویٹ کا غیر ضروری طور پر جواب دیا تو دونوں کے درمیان بات بڑھ گئی اور ٹوئٹر پر ٹرینڈ شروع ہو گیا۔
یہ معاملہ ثنا بُچہ کی جانب سے کی جانے والی ایک ٹویٹ کے بعد شروع ہوا، جو انہوں نے 12 جنوری کے روز کی۔ اپنی ٹویٹ میں ثنا بُچہ نے ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کے ذاتی اکاؤنٹس سے کی جانے والی ٹویٹس اور آئی ایس پی آر کی جانب سے سیالکوٹ موٹروے منصوبے کے مکمل ہونے پر جاری کی جانے والی پریس ریلیز کو طنز کا نشانہ بنایا تھا۔ آصف غفور کی ٹویٹ کا مقصد فوج کے ذیلی ادارے فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن کی پرفارمنس کو اجاگر کرنا تھا جس نے لاہور سیالکوٹ موٹروے بنائی ہے۔ تاہم بہت سارے دیگر لوگوں کی طرح ثنا بچہ کا بھی شاید یہی خیال تھا کہ فوج کے ترجمان کو فوج کے معاملات کی تشہیر تک اپنا کردار محدود رکھنا چاہیے۔

چنانچہ آصف غفور کی موٹروے والی ٹویٹ کے جواب میں ثنا بچہ نے لکھا: ’یہاں دوپٹوں کی رنگائی کے ساتھ ساتھ پیکو کا کام بھی تسلی بخش کیا جاتا ہے، آئی ایس پی آر۔‘
ثنا کی اس ٹویٹ کے بعد ڈی جی آئی پی ایس آر نے اپنی جوابی ٹویٹ میں ثنا بُچہ کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ ’شاید یہ آپ کی جانب سے آئی ایس پی آر کے لیے کام کرنے کے دوران فائدہ اٹھانے کے لیے کیا گیا ہو گا۔ میں کسی دوپٹہ رنگائی یا پیکو سروس سے واقف نہیں۔ اگر آپ کے ہماری طرف کوئی بقایاجات رہتے ہیں تو آپ وہ حاصل کر سکتی ہیں’۔
تاہم ثنا بچہ اور آصف غفور کی ٹویٹر پر جنگ کی کہانی یہیں ختم نہیں ہوئی۔ ثنا بُچہ نے اپنی جوابی ٹویٹ میں لکھا کہ ’سر کیوں بلاوجہ کے پنگے لیتے ہیں آپ۔ اب میں نے کوئی جواب دیا تو آپ کے محکمے سے کرنل شفیق کا منت بھرا فون آ جائے گا کہ میڈم پلیز اپنی ٹویٹ ڈیلیٹ کردیں۔‘ انہوں نے میجر جنرل آصف غفور کو مخاطب کر کے لکھا: ’آپ فوج کے ترجمان ہیں اس لیے ایسا آپ کو زیب نہیں دیتا۔ یہ آپ کا ذاتی فائٹ کلب نہیں ہے۔‘
https://twitter.com/sanabucha/status/1216620874444480512?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1216658786007572481&ref_url=https%3A%2F%2Fwww.independenturdu.com%2Fnode%2F26426
تاہم کچھ دیر سوچ وبچار کے بعد آصف غفور نے اپنی ٹویٹ ڈیلیٹ کر دی۔ اس سے قبل ڈی جی آئی ایس پی آر گزشتہ دنوں اپنے اکاؤنٹ سے بالی وڈ ادکارہ دیپکا پاڈوکون کے بارے میں بھی ایک تحسین بھری ٹویٹ کرنے کے بعد ڈیلیٹ کر چکے ہیں۔ یاد رہے کہ جون 2019 میں بھی ثنا بُچہ اور میجر جنرل آصف غفور کے درمیان ٹوئٹر پر نوک جھونک کا اس قسم کا ایک دور دیکھنے میں آیا تھا۔ اس بحث کا اس وقت اختتام ہوگیا جب میجر جنرل آصف غفور نے ثنا بچہ کو مخاطب کرتے ہوئے ٹویٹ کی اور لکھا: ’بغیر کسی وجہ کے، میں نے کبھی کچھ شروع نہیں کیا۔ براہ کرم اپنے غیر اخلاقی تاثرات ملاحظہ کریں جس نے مجھے اور دیگر پاکستانیوں کی طرف سے ردعمل دینے پر اکسایا۔ میں صرف صحافتی اخلاقیات کا احترام کرتے ہوئے اپنے کل کے جوابات کو ڈیلیٹ کررہا ہوں۔‘
