سعودی عرب: رمضان کے دوران مساجد میں تراویح پر پابندی

تاریخ میں پہلی مرتبہ سعودی حکومت نے کرونا وائرس کا پھیلاو روکنے کے لیے اس برس رمضان المبارک کے دوران ملک بھر کی مساجد میں نماز تراویح ادا کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔
مساجد میں نماز تراویح کی ادائیگی کو ممنوع قرار دیتے ہوئے سعودی عرب کی وزارت مذہبی امور نے لوگوں کو نماز تراویح گھروں میں ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ملک کی مساجد میں نماز کی ادائیگی اس وقت تک معطل رہے گی جب تک کورونا وائرس کی وبا کا مکمل خاتمہ نہیں ہوجاتا۔ سعودی وزیر برائے مذہبی امور ڈاکٹر عبداللطیف الشیخ نے کہا ہے کہ ‘مساجد میں روزانہ 5 وقت نماز پر پابندی نماز تراویح پر پابندی سے زیادہ اہم ہے، نماز تراویح کو گھر میں پڑھا جائے یا مسجد میں، اللہ تعالیٰ اسے قبول کرلیں گے، ہمارے خیال میں لوگوں کی صحت اہمیت رکھتی ہے، ہم اللہ تعالیٰ سے التجا کریں گے کہ ہماری نمازوں کو قبول فرمائے اور انسانیت کو اس وبا سے بچائے جو پوری دنیا میں پھیل چکی ہے’۔
اس سے پہلے سعودی عرب کی وزارت مذہبی امور نے مرنے والوں کی نماز جنازہ میں صرف پانچ سے چھ افراد کی شرکت کی پابندی عائد کی تھی جس پر تنقید کی جا رہی ہے۔ سعودی وزارت صحت اور متعلقہ حکام کی جانب سے نماز جنازہ کے لیے مرحومین کے خاندان کے 5 سے 6 افراد کو ہی شرکت کرنے کی ہدایات اور احتیاطی تدابیر کے حوالے سے سعودی وزیر برائے مذہبی امور ڈاکٹر عبداللطیف نے کہا کہ ‘یہ اجتماع کی روک تھام کی ایک تدبیر ہے، تاکہ قبرستانوں میں نماز جنازہ کے دوران مرحومین کے 5 یا 6 رشتے داروں سے زیادہ اکٹھے نہ ہوسکیں جبکہ باقی گھروں میں ایصال ثواب کے لیے دعا کریں’۔
ان کا کہنا تھا کہ نماز جنازہ فرض نمازوں سے زیادہ اہم نہیں، تو یہ ممکن ہے کہ انفرادی طور پر اسے ادا کیا جاسکے، یہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ کسی ایک مقام پر زیادہ تعداد میں لوگ اکٹھے نہ ہوسکیں اور وائرس کے پھیلنے کا خطرہ کم ہوسکے۔ واضح رہے کہ سعودی عرب اور مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک میں رمضان المبارک کا آغاز 24 اپریل کو ہونے کا امکان ہے۔ سعودی عرب کے علاوہ دیگر مسلمان ممالک میں بھی نماز تراویح کی مساجد میں ادائیگی پر پابندی عائد کی جاسکتی ہے، تاہم فی الحال کسی اور ملک نے ابھی ایسا کوئی اعلان نہیں کیا۔ سعودی عرب میں اب تک نئے کرونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 کے نتیجے میں 4462 افراد متاثر جبکہ 59 اموات ہوچکی ہیں جبکہ 761 افراد صحتیاب بھی ہوچکے ہیں۔ اس وبا کے نتیجے میں سعودی عرب کے مختلف حصوں میں کرفیو نافذ ہے جس کا دورانیہ مزید بڑھا دیا گیا ہے۔
2 مارچ کو مختلف حصوں میں کرفیو کا 21 دن تک نفاذ کیا گیا تھا جس کے دورانیے میں 12 اپریل کو مزید اضافے کا اعلان کیا گیا۔ پہلے کرفیو کا دورانیہ شام 7 بجے سے صبح 6 بجے تک تھا، بعد میں اسے دوپہر 3 بجے سے صبح 6 بجے تک کردیا گیا۔ مگر گزشتہ ہفتے کے بیشتر اہم شہروں میں کرفیو کا دورانیہ 24 گھنٹے کردیا گیا تھا کیونکہ لوگوں کی جانب سے سماجی فاصلے کے اقدامات کو نظرانداز کیا جارہا تھا جبکہ 11 اپریل کو کرفیو کی خلاف ورزی پر گرفتاریوں کا آغاز بھی کیا گیا۔
