سعودی عرب کی جوبائیڈن کو کامیابی پر مبارکباد

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے بالآخر جو بائیڈن کی فتح کے 24 گھنٹوں بعد انہیں امریکی صدارتی انتخاب جیتنے پر مبارکباد دے دی۔
جہاں دیگر عرب ممالک کی جانب سے امریکی صدارتی انتخابات میں ڈیموکریٹ فاتح کو سراہنے میں جلدی کی گئی وہاں سلطنت حقیقی حکمران، ولی عہد محمد بن سلمان نے خاموشی اختیار کی حالانکہ انہوں نے تنزانیہ کے صدر کو دوبارہ صدر منتخب ہونے پر بھی والہانہ مبارکباد کا پیغام بھیجا۔ سعودی خبر رساں ادارے ‘ایس پی اے’ کے مطابق سعودی فرماں روا اور ان کے بیٹے ولی عہد محمد بن سلمان نے گرین وچ ٹائم کے مطابق رات 7:32 بجے جوبائیڈن اور امریکی نائب صدر منتخب ہونے والی کمالا ہیرس کو صدارتی انتخابات جیتنے پر مبارک باد دی۔ ‘سعودی بادشاہ محمد بن سلمان نے معززین کی تعریف کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان تاریخی دوستانہ قریبی تعلقات کو سراہا۔ شہزادہ محمد بن سلمان کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ قریبی تعلقات نے سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل، یمن جنگ میں کردار اور خواتین کارکنان کی نظر بندی کے معاملے پر سعودی عرب کو انسانی حقوق کے معاملات پر عالمی تنقید سے بچایا تھا۔ تاہم اب یہ معاملات جوبائیڈن اور سعودی عرب کے درمیان اختلافات کی وجہ بن سکتے ہیں جو تیل برآمد کرنے والا سب سے بڑا ملک اورامریکی اسلحے کا سب سے بڑا خریدار ہے۔ سعودی سیاسی ذرائع نے واشنگٹن اور ریاض کے درمیان تعلقات کی تاریخ کی نشاندہی کرتے ہوئے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات خراب ہونے کے خطرے کو رد کردیا۔ برطانوی تھنک ٹینک کیتھم سے وابستہ نیل قولیم کا کہنا تھا کہ ہوسکتا ہے کہ سلطنت کو شاید زیادہ انتظار نہ کرنا پڑے، جوبائیڈن انتظامیہ کی جانب سے جلد ہی سعودی عرب کے ساتھ اندرونی اور خارجہ پالیسیوں پرعدم اطمینان کا اظہار کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘سعودی قیادت اس بات پر فکر مند ہے کہ جوبائیڈن کی انتظامیہ اور کانگریس دونوں ممالک کے درمیان تعلقات پر مکمل طور پر نظر ثانی کرے گی، دفاعی تعلقات پر دوبارہ جائزہ لیا جا سکتا ہے جو ممکنہ طور پر یمن جنگ کو ختم کرنے کے لیے ایک مثبت قدم ثابت ہو’۔ سعودی عرب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اپنے علاقائی حریف ایران پر ڈالے جانے والے دباؤ کا بہت بڑا حامی تھا لیکن جوبائیڈن نےکہا تھا کہ وہ ایران اور عالمی طاقتوں کے ساتھ 2015 میں ہونے والے جوہری معاہدے میں واپس جائیں گے، مذکورہ معاہدے پر اس وقت بات چیت کی گئی تھی جب باراک اوباما صدر اور جوبائیڈن نائب صدر تھے۔
