سلائی سکھانے والی امریکی ماڈل مس یونیورس بن گئی

امریکہ میں نئے سال کے مس یونیورس کے مقابلے میں امریکہ کی ہی بیوٹی کوئین اربانی نولا گیبریل نے میدان مارتے ہوئے 72ویں مس یونیورس کا تاج اپنے سر سجا لیا ہے۔ مس یونیورس مقابلے کا فائنل گزشتہ دنوں نیو اورلینز، امریکہ میں منعقد ہوا۔ مس یونیورس منتخب ہونے والی بونی نولا گیبریل کو وہیں کا رہائشی بتایا جاتا ہے۔ گیبریل گذشتہ سال مس امریکہ بننے والی پہلی فلپائنی امریکی تھی، انہوں نے وینزویلا سے تعلق رکھنے والی امانڈا ڈوڈیمیل اور ڈومینیکن ریپبلک سے تعلق رکھنے والی اینڈرینا مارٹنیز کے مقابلے میں یہ ٹائٹل جیتا تھا۔

مس یونیورس کے مقابلے میں دنیا بھر سے 84 خواتین نے حصہ لیا، فائنل سے قبل جب گیبریل اس مقابلے کے پہلے پانچ افراد کی فہرست میں شامل تھیں، اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے مس یونیورس نے کہا کہ وہ امید کرتی ہیں کہ امیدواروں کی عمر کی حد میں اضافہ کیا جائے گا، میری عمر 28 سال ہے، لیکن یہ اس مقابلے میں حصہ لینے کے لیے زیادہ سے زیادہ عمر ہے۔ گیبریل ایک ماڈل، فیشن ڈیزائنر اور سلائی انسٹرکٹر ہیں جنکی زندگی کی ترجیحات میں ماحولیاتی آلودگی کا خاتمہ سر فہرست ہے، مس یونیورس کے مقابلے کے آغاز میں انہوں نے نارنجی رنگ کا کیپ پہنا تھا جس میں ’اگر ابھی نہیں تو کب؟‘ لکھا ہوا تھا۔ یہ کیپ انہوں نے ری سائیکل شدہ مواد سے خود بنایا تھا اور اسےخود ہی رنگا بھی تھا۔

مس یونیورس کے فائنل میں جگہ بنانے والے تین افراد سے مقابلے کے آخری حصے میں جو سوالات پوچھے گئے ان میں سے ایک یہ تھا کہ اگر وہ یہ ٹائٹل جیتتی ہیں تو وہ اس پلیٹ فارم کو ایک ترقی پسند تنظیم کے طور پر دکھانے کے لیے کیسے کام کریں گے۔ گیبریل نے کہا کہ وہ اس پلیٹ فارم کو ’تبدیلی کا لیڈر‘ بننے کے لیے استعمال کریں گے تاکہ ماحولیاتی آلودگی کا خاتمہ کیا جاسکے۔ گیبریل نے کہا کہ وہ چاہتی ہیں کہ انسانی سمگلنگ اور گھریلو تشدد سے بچ جانے والی خواتین کو سلائی سکھاؤں تاکہ وہ اپنے پیروں پر کھڑی ہو سکیں۔ اس سال مس یونیورس کے مقابلے کا انعقاد پہلی بار تھائی لینڈ میں واقع میڈیا براڈکاسٹنگ کمپنی جی کے این گلوبل گروپ نے کیا تھا، کمپنی کی سی ای او، جاکاپونگ تھائی ٹرانس جینڈر حقوق کی کارکن ہیں جنہوں نے پچھلے سال اکتوبر میں 20 ملین ڈالرز میں کمپنی خریدی تھی، جاکاپونگ اس ٹورنامنٹ کی پہلی ٹرانس جینڈر خاتون مالک ہیں۔

Back to top button