سلیکٹرز سن لیں، ہم سلیکٹڈ کا استعفی لینے اسلام آباد آ رہے ہیں

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ سلیکٹرزسن لو آپ کو عوام کا فیصلہ ماننا پڑے گا، ہم اسلام آباد آرہے اور جعلی حکمران سے استعفیٰ لے لیں گے۔
مینار پاکستان میں پی ڈی ایم کے جلسے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ لاہور کے جیالوں نے جمہوریت کے لیےاپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے. انہوں نے کہا کہ سلیکٹرز کان کھول کر سن لو، آپ کو عوام کی آواز سننا پڑے گی، عوام کا فیصلہ ماننا پڑے گا، اب کوئی راستہ نہیں ہے، مذاکرات کا وقت گزر چکا ہے، اب لانگ مارچ ہوگا، اسلام آباد! ہم آرہے ہیں، اسلام آباد پہنچ کر نااہل، ناجائز اور سلیکٹڈ وزیراعظم کا استعفیٰ چھین کر رہیں گے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ ہم اسلام آباد پہنچ رہے ہیں، فون کرنا اور رابطہ کرنا بند کریں، ہمارے درمیان کوئی دراڑ نہیں ہوگی اور ہم سب مل کر آپ کی کٹھ پتلی کو بھگائیں گے، اس بھگا کر پھر بات ہوسکتی ہے، آپ کو عوام کا فیصلہ سننا پڑے گا، گلگت سے لے کر لاہور، لاہور سے کراچی، کراچی سے کوئٹہ اورکوئٹہ سے پشاور تک ایک آواز گونج رہی ہے کہ میرے ووٹ پر ڈاکا نامنظور، لاہور پر ڈاکا، پنجاب پر ڈاکا، پنجاب پر ڈاکا، جمہور پر ڈاکا، آئین پر ڈاکا نامنظور۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا اس شہر میں ان کے نانا ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی تھی۔ انھوں نے کہا فوجی آمر ضیاالحق کی آمریت کے خلاف جدوجہد کا آغاز لاہور سے کیا تھا۔انھوں نے کہا کہ لاہور کے جیالوں نے کوڑے کھائے مگر آمریت کے سامنے سر نہیں جھکایا۔ان کے مطابق لاہور جہانگیر بدر کو جانتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ لاہور کے شہید عثمان غنی، شہید ادریس بیگ نے جمہوریت کے لیے زندگیاں قربان کر دیں۔بلاول بھٹو کے مطابق آج ملک ایک بار پھر ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے۔انھوں نے کہا کہ نااہل اور جاہل حکمرانوں کے پاس عقل ہے اور نہ تاریخ کا علم ہے۔ انھوں نے کہا ہم کبھی کسی آمر اور غاصب سے نہیں ڈرے ہیں اور ہم کشتیاں جلا کر اترے ہیں۔ جب عوام اس مضبوطی کے ساتھ کسی تحریک کا ساتھ دیتی ہے تو پھر ظلم کی زنجیریں کٹ جاتی ہیں۔میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ یہ کٹھ پتلی حکمران یہ سیلیکٹڈ حکمران گھر جانے والا ہے۔
بلاول بھٹو کے مطابق آج پاکستان میں تاریخی مہنگائی، تاریخی غربت اور تاریخی بے روزگاری ہے۔ ان حکمرانوں کو درد محسوس نہیں ہوتا کیونکہ یہ آپ کے ووٹ کی طاقت سے اقتدار میں نہیں آئے بلکہ یہ کسی اور رستے سے آئے ہیں۔انھوں نے کہا کہ پنچاب کے ساتھ کیا مذاق کیا جا رہا ہے، جو پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے اس کے ساتھ مذاق کیا جا رہا ہے۔ اس کٹھ پتلی نے یہاں اپنا ایک کٹھ پتلی بٹھایا ہوا ہے۔’ہم نہ اِس کٹھ پتلی کو مانتے ہیں اور نہ اُس کٹھ پتلی کو مانتے ہیں۔‘پاکستان کے محنت کش اور مزدور بے سہارا نہیں ہیں، ہم ان کے ساتھ کھڑے ہیں اور کھڑے رہیں گے۔ ان کے مطابق ان حکمرانوں کو سننے کا حوصلہ نہیں ہے۔ حزب اختلاف شہباز شریف جیل میں ہیں، سابق حزب اختلاف خورشید شاہ جیل میں ہیں۔بلاول بھٹو نے دونوں رہنماؤں کی رہائی کے مطالبے سے متعلق نعرے بھی لگوائے۔
بلاول بھٹو کے مطابق کسان اب یہاں کس طرح اپنا حق مانگیں انھیں شہید کر دیا جاتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی پسے ہوئی طبقے کی جماعت ہے اور رہے گی۔بلاول بھٹو نے کہا ’ہم کٹھ پتلی کو للکار رہے ہیں، ہم اس کے سہولت کاروں کو للکا رہے ہیں۔ تا کہ ہم عوام کو ان کا حق اقتدار دلا سکیں۔‘اب کوئی اور رستہ نہیں، ڈائیلاگ شائیلاگ کا وقت گزر چکا اب لانگ مارچ ہو گا، اسلام آباد ہم آ رہے ہیں۔ بلاول بھٹوں نے کہا اب فون کرنا چھوڑ دو، اب ہم اسلام آباد پہنچ کر نالائق اور جعلی حکمران کا استعفی چھینیں گے۔آپ کو عوام کا فیصلہ ماننا پڑے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button