مولانا کا استعفوں سمیت اگلے ماہ اسلام آباد لانگ مارچ کا اعلان

پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں آنے والے دنوں میں انارکی دیکھ رہا ہوں لیکن اس سے پہلے ہمیں حالات سنبھال لینا چاہیے۔ اس ناجائز حکومت کے لیے اسٹیبلشمنٹ نے جو دھاندلی کی گئی تھی، اب اس کے زخم اب گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ اب کہیں وہ دن نہ دیکھنے پڑیں کہ جہاں اسٹیبلشمنٹ بمقابلہ پاکستان کے عوام نہ ہوں۔
مینار پاکستان میں پی ڈی ایم کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ اس فقید المثال جلسے کے انعقاد پر پی ڈی ایم کے کارکنوں اور عوام کو مبارک باد پیش کرتا ہوں، آج مینار پاکستان کامیدان تنگی دامان کی شکایت کر رہا ہے،اس میدان کے باہر لاہور کی شاہراہیں عوامی سمندر سے محظوظ ہو رہی ہیں اورمیں آپ کے جلسے کو سلام پیش کرتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ 1940 کی قرار داد کے بعد آج اسی میدان میں مینار پاکستان کے سائے تلے جس عزم اور جس عہد کی تجدید کر رہے ہوں مستقبل کے لیے یہ سنگ میل ثابت ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی سیاست کی اس نزاکت کی طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں اور اس معاشرے میں اس احساس کو فروغ پاتے دیکھ رہا ہوں، گجرانوالہ کے جلسے سے لے کر ملک کے تمام بڑے شہروں میں عوام کی بے پناہ شرکت سے ہونے والے اجتماعات اور آج لاہور میں فقیدالمثال اجتماع سے مجھے محسوس ہوتا ہے کہ یہ سلسلہ جاری رہتا ہے اور پاکستان کے اوپر ناجائز حکومت کے لیے اسٹبلشمنٹ نے جو دھاندلی کی تھی اور ایک ناجائز، غیرآئینی اور گندا کردار ادا کیا تھا، اس کے زخم اب گہرے ہوتے جارہے ہیں۔
مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ میں خطرہ محسوس کر رہا ہوں کہ کہیں آنے والے دنوں میں ہمیں وہ حالات نہ دیکھنے پڑیں جہاں اسٹبلشمنٹ بمقابلہ پاکستان کے عوام نظر آئیں اور ایک دوسرے کے سامنے کھڑے ہوجائیں، یہ بڑے تشویش ناک حالات ہوں گے۔پی ڈی ایم کے صدر مولانا فضل الرحمان نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس ناجائز حکومت کے لیے سٹیبلشمنٹ نے جو دھاندلی کی گئی تھی، اب اس کے زخم اب گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ اب کہیں وہ دن نہ دیکھنے پڑیں کہ جہاں سٹیبلشمنٹ بمقابلہ پاکستان کے عوام نہ ہوں۔انھوں نے کہا میں آج اپنی دفاعی قوت اور سٹیبلشمنٹ کو متنبہ کرنا چاہتا ہوں کہ عوام کو راستہ دیں، عوام کو اسلام آباد پہنچنے دیں۔ حکومت عوام کی ہو گی، دھاندلی کا نظام نہیں چلے گا۔انھوں نے کہا کہ عوام کے حقوق پر ڈاکہ ڈالا جاتا ہے تو پھر قومی یکجہتی برقرار نہیں رکھیں جا سکتی۔ ہمیں انارکی کی طرف جانے سے قبل حالات کو سنبھال لینا چائیے۔
مولانا فضل الرحمان نے وزیر اعظم عمران خان کی کشمیر پالیسی پر کڑی تنقید کی۔ انھوں نے کہا ’آج ہندوستان نے کشمیر ہڑپ کر لیا ہے اور کشمیر پر قبضہ کر لیا ہے۔‘انھوں نے کہا اب قوم نے اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ان کے مطابق آج ہر طبقے سے تعلق رکھنے والا پریشان ہے۔ اگر ہم نے ہر شعبے اور طبقے سے تعلق رکھنے والے کو مطمئن کرنا ہے تو پھر آئیں انقلاب بھرپا کریں۔انھوں نے کہا ہم نے سربراہی اجلاس میں کچھ فیصلے کیے ہیں۔ پارلیمنٹ کی خود مختاری ہو گی، پارلیمنٹ کو یرغمال نہیں بننے دیا جائے گا۔ سیاست سے سٹیبلشمنٹ اور ایجنسیوں کے کردار کا خاتمہ کیا جائے گا اور ایک آزاد عدلہ کی تصور دیا جائے گا۔آزادانہ انتخاب کا انعقاد کرایا جائے گا۔ صوبوں کے حقوق اور اٹھارویں ترمیم کا تحفظ کیا جائے گا۔ناجائز حکومت کو نہیں چلنے دیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ جنوری کے آخر میں یا فروری کے اوائل میں اسلام آباد کی طرف پوری قوم مارچ کرے گی اور پارلیمنٹ کے استعفے ہم اپنے ساتھ لے کر جائیں گے، ہم ایسی پارلیمنٹ پر اعتماد کرنے کو تیار نہیں ہیں اور نہ ہی اس پارلیمنٹ کے ذریعے سے ناجائز حکومت کو چلنے دیں گے، اس کا خاتمہ کر کے دم لیں گے اور ووٹ کا مقدس امانت عوام کو واپس دلا کر دم لیں گے۔
