سوشل میڈیا کا گلہ گھونٹنے کے لئے حکومتی پھندا تیار


مین سٹریم میڈیا کو خصی کرنے کے بعد کپتان حکومت نے سوشل میڈیا کا گلا دبانے کے لیے نئے جابرانہ قوانین متعارف کرا دئیے ہیں جن کی اس وقت ہر سطح پر مذمت جاری ہے۔ صحافتی تنظیموں، وکلا اور سول سوسائٹی کے دباؤ پر پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی جیسے کالے قانون کے اجراء سے وقتی طور پر پیچھے ہٹ جانے والی تحریک انصاف حکومت نے اب ایک عدالتی حکم کو جواز بناتے ہوئے سوشل میڈیا کو لگام ڈالنے کے لیے ایسے ڈریکونین قوانین متعارف کروائے ہیں کہ جن کے نفاذ کے بعد سوشل میڈیا پر بھی کڑی سینسر شپ عائد ہوجائے گی۔
حکومت پاکستان کی جانب سے جاری کردہ نئے قواعد پر صارفین کے ڈیجیٹل رائٹس کے تحفظ کے لیے سرگرم ماہرین شدید تنقید کرتے نظرآ رہے ہیں۔ اگرچہ حکومت کا وہی گھسا پٹا مؤقف ہے کہ ان قوانین کے نفاذ سے ملک میں آئین کے تحت صارفین کو آزادیٴ اظہارِ رائے حاصل ہو گی تاہم ڈیجیٹل رائٹس کے ماہرین نئے قوانین کو حکومت کی سینسر شپ کے نفاذ کا ایک حربہ قرار دے رہے ہیں۔ ان قواعد کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے ان احکامات کے تحت ترتیب دیا گیا ہے جس میں عدالت نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی یا پی ٹی اے کو سوشل میڈیا کے قواعد کا دوبارہ سے جائزہ لینے کا حکم دیا تھا۔ یاد رہے کہ اس سے قبل بنائے گئے قواعد پر انٹرنیٹ صارفین کے حقوق کا تحفظ کرنے والی تنظیموں اور پاکستان بار کونسل کے شدید تحفظات سامنے آئے تھے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے تھے کہ سوشل میڈیا کے قواعد بظاہر آئین کے آرٹیکل 19 یعنی آزادیٴ اظہارِ رائے اور آرٹیکل 19-اے یعنی جاننے کا حق سے مطابقت نہیں رکھتے جس کے بعد اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے حکومت کی جانب سے ان قواعد پر نظرِ ثانی کی رضامندی کا اظہار کیا تھا۔
عدالتی احکامات کی روشنی میں مختلف اسٹیک ہولڈرز سے ہونے والی بات چیت کے بعد ان قواعد کا اعلامیہ جاری کیا گیا ہے البتہ اعتراضات کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ پاکستان میں انٹرنیٹ، سینسر شپ اور پرائیویسی پر تحقیق سے منسلک تنظیم ‘بولو بھی’ کے ڈائریکٹر اُسامہ خلجی نے بتایا کہ درحقیقت یہ قواعد انسداد الیکٹرانک کرائمز ایکٹ یعنی ‘پیکا’ کے قانون کی سیکشن 37 کے تحت بنائے گئے ہیں۔ قانون کی اس سیکشن کے تحت پی ٹی اے کو یہ اختیار حاصل ہے کہ کسی بھی ایسے مواد کو ہٹانے یا بلاک کرنے کا حکم جاری کر سکتی ہے جو دینِ اسلام کی عظمت، پاکستان کی سالمیت اور دفاع، امنِ عامہ اور اخلاقیات کے خلاف ہو یا ایسا مواد جو توہینِ عدالت کے زمرے میں آتا ہو۔ تاہم اسامہ خلجی کے خیال میں ان قواعد کے نفاذ کی بالکل ضرورت ہی نہیں تھی کیونکہ اس سیکشن کے تحت ریاست کو قدغنیں عائد کرنے کا حربہ مل جاتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسلام کی عظمت میں توہین مذہب سے متعلق قوانین کو ڈال دیا گیا ہے حالانکہ ہم بخوبی جانتے ہیں کہ ان قوانین کا کس طرح غلط استعمال کیا جاتا ہے۔ان کے بقول اسی طرح پاکستان کی سالمیت اور دفاع کی بھی مبہم تعریف کی گئی ہے اور یہ ہم بخوبی جانتے ہیں کہ ملک میں قومی سلامتی کا بیانیہ مخالف آوازوں کو دبانے کے لیے کس طرح استعمال کیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسی طرح شائستگی اور اخلاقیات کو بھی ‘پاکستان پینل کوڈ’ کی سیکشنز سے منسلک کیا گیا ہے۔ اسامہ خلجی نے کہا کہ ان سب پر کارروائی کا اختیار پی ٹی اے کو دیا گیا ہے۔ ان کے خیال میں بنیادی انسانی حقوق سے متعلق ثالثی کے لیے اعلیٰ عدالتوں کو استعمال کرنا چاہیے اس کے لیے کسی ریگولیٹری اتھارٹی کو استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ اسامہ خلجی نے بتایا کہ نئے قواعد کے تحت پی ٹی اے ایسے کسی بھی متنازع مواد پر سوشل میڈیا کمپنی کو اسے ہٹانے کا حکم دے سکتی ہے اور ایسا نہ کرنے پر 50 کروڑ روپے تک جرمانہ بھی عائدکر سکتی ہے اور ان کو پاکستان میں بلاک بھی کیا جا سکتا ہے ۔اسامہ خلجی کے خیال میں اس کا حل ہے کہ پیکا کے قانون میں ترمیم کے ذریعے اس متعلق پی ٹی اے کو دیے گئے وسیع اختیارات کو واپس لیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ پیکا قانون کی سیکشن 37 کو ختم کرنے کے لیے قومی اسمبلی کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے انسانی حقوق میں بھی آواز اٹھائی گئی تھی جو اب تک اس کمیٹی کے ایجنڈے میں شامل ہے۔
ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ پیکا قانون کی دیگر دفعات میں فحش تصاویر اور ویڈیوز، کسی بھی انسان کی عزت و تکریم کے خلاف مواد، نفرت آمیز اور دہشت گردی پر مبنی تقاریر کا مواد اور دیگر کو پہلے ہی جرم تصور کیا جاتا ہے لیکن اس سیکشن کے تحت بنائے گئے قواعد میں سوشل میڈیا کمپنی کو پابند کیا جارہا ہے کہ اس متعلق مواد کسی بھی مواد کو حکومت کے کہنے پر ہٹا دیا جائے۔ ان کے خیال میں اس عمل سے سینسر شپ لاگو کی جاسکے گی۔ ڈیجیٹل حقوق پر کام کرنے والی ایک اور تنظیم ‘میڈیا میٹرز فار ڈیمو کریسی کی سینئر پروگرام مینیجر حجا کامران کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے نافذ کیے گئے قواعد اور اس سے پہلے لائے گئے قواعد میں کوئی خاص فرق ہی نہیں اور یہی وجہ ہے کہ سول سوسائٹی، صحافیوں اور ٹیک انڈسٹری کے تحفظات اب بھی موجود ہیں۔ حجا کامران کا کہنا ہے کہ نئے قواعد میں ایک اہم تبدیلی یہ دیکھی گئی ہے کہ سوشل میڈیا کمپنیوں پر جو کہ سروس پروائیڈرز بھی ہیں، ان پر قواعد کی خلاف ورزی اور مواد نہ ہٹائے جانے پر جرمانے کی رقم 50 کروڑ روپے کردی گئی ہے۔ یہی نہیں بلکہ اگر ان سوشل میڈیا کمپنیوں نے پاکستان میں اپنا دفتر نہ کھولا تو بھی ان پر مزید 50 کروڑ روپے تک جرمانہ عائد کیا جاسکے گا۔ جبکہ پیکا قانون جس کے تحت یہ قواعد بنائے گئے ہیں، اس قانون میں زیادہ سے زیادہ جرمانہ پانچ کروڑ روپے ہے۔ حجا کامران کے مطابق ان قواعد کی رُو سے پی ٹی اے یا وفاقی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن یا وفاقی حکومت کہیں، ان کو یہ جرمانہ عائد کرنے کا اختیار دیا گیا ہے جبکہ پیکا قانون کے تحت جرم ہونے پر یہ معاملہ عدالت میں جائے گا اور وہاں طے ہوگا کہ اس جرم کی کس قدر سزا یا جرمانہ بھرنا ہوگا۔ ان کے بقول اس طرح یہ قواعد خود پیکا قانون کی بھی نفی کرتے نظر آتے ہیں جب کہ ان قواعد ان میں ابہام بھی رکھا گیا ہے جس کی وجہ سے اس پر تنقید اب بھی اپنی جگہ موجود ہے۔

Back to top button