سٹیٹ بینک کی خود مختاری کی سزا بھی عوام بھگتیں گے

آئی ایم ایف کے دبائو پر سٹیٹ بینک کو لامتناہی خود مختاری کے فیصلے سے نہ صرف معیشت مکمل طور پر تباہ ہوجائے گی بلکہ غریب عوام کی زندگیاں بھی مزید اجیرن ہو جائیں گی کیونکہ اس فیصلے سے مہنگائی مادر پدر آزاد ہو جائے گی۔
معاشی ماہرین کے مطابق پاکستان میں مہنگائی یا قیمتوں کے بڑھنے کی دو وجوہات ہوتی ہیں۔ ایک سپلائی کے مسئلے جیسے گندم کی فصل خراب ہو جائے یا زرعی اجناس کی پیداوار میں کمی واقع ہو جائے تو انکی قیمت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ دوسرا انتظامی معاملات کی بنیاد پر قیمتیں بڑھتی ہیں جیسے پیٹرولیم، بجلی یا گیس وغیرہ کی قیمتیں بڑھنے سے مہنگائی میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ ان دونوں وجوہات کو وفاقی حکومت ڈیل کرتی ہے۔ لیکن اگر سٹیٹ بینک کو مہنگائی کنٹرول کرنے کی ڈومین بھی دے دی گئی تو معاشی ترقی بری طرح متاثر ہو گی اور عوام کی چیخیں نکل جائیں گی۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ سے نیا قرضہ لینے کی خاطر اسٹیٹ بینک کو مکمل خودمختاری دینے کا
قانون ملکی مفاد کے لیے شدید نقصان دہ ہے کیونکہ جب وفاقی حکومت قرضے کے لیے پرائیویٹ بینکوں کے پاس جائے گی تو وہ ان کے رحم و کرم پر ہو گی، اس طرح عام آدمی متاثر ہو گا۔
یاد رہے کہ حکومت کی جانب سے اسٹیٹ بینک کو مکمل خودمختاری دیے جانے کے بعد اب نیب اور ایف آئی اے وزیراعظم کو تو احتساب کے دائرے میں لا سکتے ہیں مگر سٹیٹ بینک اہلکاروں کے خلاف کچھ نہیں کر سکیں گے۔
وفاقی کابینہ نے حال ہی میں سٹیٹ بینک کے اختیارات میں اضافے کا جو مسودہ قانون منظور کیا ہے اسے منظوری کے لیے اب پارلیمنٹ میں پیش کیا جانا ہے۔ اپوزیشن کے علاوہ معاشی امور کے ماہرین بھی اس حکومتی مسودہ قانون پر شدید تنقید کر رہے ہیں اور اسے ملکی معیشت اور خود مختاری کے لیے نقصان دہ قرار دے رہے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ چونکہ یہ قانون آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت لایا گیا ہے، اس لیے یہ ملک کے لیے مسائل کا سبب بن سکتا ہے اور عام انسان کی زندگی کو مزید مشکل بنا سکتا ہے۔ عوامی نکتہ نظر اہم تبدیلی یہ ہے کہ سٹیٹ بینک کے بنیادی مقاصد میں تبدیلی کر دی گئی ہے اور اب اس کا کام ملک میں قیمتوں کو مستحکم کرنا اور معاشی استحکام پیدا کرنا ہوگا، حکومت پاکستان اب سٹیٹ بینک سے براہ راست قرض نہیں لے سکے گی۔
معاشی امور کے ماہر قیصر بنگالی کے مطابق نئے مسودہ قانون سے حکومت سٹیٹ بینک سے قرضہ نہیں لے سکے گی اور اسے کمرشل بینکوں سے قرضہ لینا پڑے گا۔ اس صورت میں چونکہ سٹیٹ بینک اپنی مرضی سے شرح سود مقرر کرے گا تو حکومت کو مہنگے قرضے لینا پڑیں گے جس کا بوجھ عام آدمی پر ٹیکسوں کی شکل میں پڑے گا۔
معاشی امور کے ماہرین کے مطابق کپتان حکومت نئے مسودے کے ذریعے سٹیٹ بینک کے 1956 کے ایکٹ میں ایسی ترامیم لا رہی ہے جو سینٹرل بینک کو ریاست کے اندر ریاست بنا دیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں سینٹرل بینکس جن کو سٹیٹ بینک بھی کہا جاتا ہے، کو خود مختاری دی جاتی ہے اور یہ بذات خود کوئی بری بات نہیں۔ تاہم پاکستان میں قانون میں سٹیٹ بینک کو دنیا کے کئی ممالک سے زیادہ ہی اختیارات دیے جا رہے ہیں۔ اس میں وزارت خزانہ کا کردار ختم کر رہے ہیں جو کہ ملک کے لیے اچھا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ جاپان، امریکہ کے سینٹرل بینکس کو بہت زیادہ خودمختاری حاصل ہے جبکہ تھائی لینڈ، برزایل کے مقابلے میں اب بھی پاکستان میں سٹیٹ بینک کو زیادہ خودمختاری حاصل ہے۔ ماہرین کے بقول پاکستان میں مانیٹری پالیسی یا زری پالیسی سٹیٹ بینک بناتا ہے اور فسکل پالیسی وزارت خزانہ سے آتی ہے۔ وزرات خزانہ کے ساتھ شراکت کار کا مقصد ہوتا ہے کہ ملک کی معیشت میں ہم آہنگی ہو۔ تاہم اگر سٹیٹ بینک وزارت خزانہ کے اختیار کار سے بالکل الگ ہو گیا تو پالیسیوں میں توازن بگڑ سکتا ہے۔
واضح رہے کہ وفاقی کابینہ کی جانب سے نو مارچ کو منظور ہونے والے مسودہ قانون کو سٹیٹ بینک آف پاکستان ترمیمی ایکٹ 2021 کا نام دیا گیا ہے۔اس ایکٹ میں گورنر سٹیٹ بینک کے اختیارات میں اضافہ کیا گیا ہے اور سٹیٹ بینک کے ملکی معیشت میں کردار کو بھی تبدیل کیا گیا ہے۔اس مسودہ قانون کے مطابق صدر مملکت کو حکومت کی سفارش پر گورنر سٹیٹ بینک کی تقرری کا اختیار حاصل ہوگا۔گورنر سٹیٹ بینک کی مدت ملازمت میں بھی توسیع کر دی جائے گی اور ان کی مدت ملازمت تین سال سے بڑھا کر پانچ سال کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جس میں مزید پانچ سال کی توسیع بھی دی جا سکے گی۔ گورنر سٹیٹ بینک کو حکومت برطرف نہیں کر سکے گی بلکہ صدر مملکت صرف عدالتی فیصلے کے تحت گورنر سٹیٹ بینک کو ہٹا سکیں گے۔اس ایکٹ کے مطابق اس کے علاوہ ڈپٹی گورنرز کی تعداد تین کرنے کی بھی تجویز ہے، جن کی مدت ملازمت میں مزید پانچ سال کی توسیع دی جا سکے گی۔ گورنر سٹیٹ بینک وزیرخزانہ کی مشاورت سے ڈپٹی گورنرز کے نام تجویز کریں گے۔گورنر سٹیٹ بینک اور ڈپٹی گورنرز کو ماضی اور مستقبل میں قانونی کارروائی سے استثنیٰ دے دیا گیا ہے اور ان کو اپنی پالیسیوں اور اقدامات پر نیب اور ایف آئی اے وغیرہ کی قانونی گرفت کا خدشہ نہیں ہوگا تاہم انہیں اپنی پالیسی پر پارلیمنٹ کو رپورٹ جمع کروانا ہو گی۔
