آزاد کشمیر میں پولیس والے اغوا، حکومتی رٹ خاک میں اڑ گئی

آزاد کشمیر میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے مشتعل مظاہرین کی جانب سے 8 پولیس اہلکاروں کے اغوا کے بعد علاقے میں صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے اور وہاں تعینات سکیورٹی فورسز کی رٹ مکمل طور پر خاک میں مل گئی ہے۔
اگلے روز آزاد جموں و کشمیر پولیس کے ترجمان ایس ایس پی خاور علی شوکت نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت کی جانب سے کالعدم قرار دی جانے والی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے الیکشن ڈیوٹی پر مامور ہائی وے پولیس کے 8 اہلکاروں کو اغوا کیا اور انہیں تشدد کا نشانہ بھی بنایا۔ پولیس کے مطابق اہلکار تاحال کمیٹی کی تحویل میں ہیں اور ان کی رہائی کے لیے مطالبہ کیا گیا ہے، جبکہ اہلکاروں کو نقصان پہنچنے کی صورت میں سنگین نتائج کی وارننگ بھی دی گئی ہے۔ ایس ایس پی نے راولاکوٹ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ عوامی ایکشن کمیٹی کے کارکنوں نے 8 ہائی وے پولیس اہلکاروں کو اس وقت اغوا کیا جب وہ انتخابات کے دوران ڈیوٹی پر مامور تھے۔ ان کے مطابق مغوی اہلکاروں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ پولیس ترجمان نے اپنے اہلکاروں کی رہائی کے لیے کوئی ایکشن لینے کی بجائے جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے مطالبہ کیا کہ تمام اہلکاروں کو فوری طور پر رہا کیا جائے ورنہ ریاست سخت ردعمل دے گی۔
یاد رہے کہ راولاکوٹ میں کئی ہفتوں سے جاری کشیدگی کے باعث عام شہریوں کی زندگی اجیرن ہوچکی ہے، جبکہ خواتین اور بچوں کو احتجاج میں ڈھال کے طور پر استعمال کیا گیا۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ آزاد کشمیر کے عوام کی ایک بڑی تعداد پرتشدد احتجاج سے تنگ آچکی ہے اور اس نے عوامی ایکشن کمیٹی سے رابطے منقطع کرلیے ہیں۔ تاہم دوسری جانب جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی خود اپنے احتجاج کو عوام کے بنیادی، معاشی، سیاسی اور آئینی حقوق کی تحریک قرار دیتی ہے، اس لیے موجودہ بحران میں دونوں فریقوں کے بیانیے میں شدید تضاد موجود ہے۔ یاد رہے کہ آزاد کشمیر میں موجودہ بحران اچانک شروع نہیں ہوا بلکہ اس کی جڑیں کئی ماہ پر محیط احتجاجی تحریک میں پیوست ہیں۔ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے ابتدا میں بجلی کی قیمتوں، آٹے پر سبسڈی، حکومتی اخراجات میں کمی، مراعات یافتہ طبقے کے خاتمے، سرکاری اداروں میں اصلاحات اور عوامی نمائندگی سمیت متعدد معاشی و انتظامی مطالبات اٹھائے تھے۔ حکومت کا مؤقف رہا ہے کہ 38 میں سے 35 مطالبات تسلیم کیے جاچکے تھے اور متعدد نکات پر عملی پیش رفت بھی ہوئی، مگر احتجاجی تحریک کا کہنا ہے کہ اہم مطالبات پر مکمل اور قابلِ اطمینان عملدرآمد نہیں ہوا۔
بعدازاں تنازع کا سب سے حساس پہلو آزاد کشمیر اسمبلی کی پاکستان میں مقیم جموں و کشمیر کے مہاجرین کے لیے مختص 12 نشستیں بن گیا۔ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی ان نشستوں کے خاتمے کا مطالبہ کرتی رہی ہے اور اس کا مؤقف ہے کہ ان نشستوں کے ذریعے خطے کے سیاسی فیصلوں پر بیرونی اثر و رسوخ پیدا ہوتا ہے۔ حکومت اس مطالبے کو مسئلہ کشمیر اور نمائندگی کے موجودہ آئینی ڈھانچے سے جوڑتے ہوئے اسے تسلیم کرنے سے گریز کرتی رہی۔ یہی معاملہ بالآخر مذاکرات میں سب سے بڑی رکاوٹ بن گیا اور احتجاج کو معاشی مطالبات سے آگے سیاسی اور آئینی بحران میں تبدیل کر گیا۔
آزاد کشمیر میں کشیدگی تب مزید سنگین ہو گئئی جب حکومت نے جون 2026 میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پر پابندی عائد کردی۔ حکومت کا مؤقف تھا کہ تنظیم امن و سلامتی کو نقصان پہنچانے، انتشار اور عوام میں خوف و ہراس پھیلانے میں ملوث ہے، جبکہ کمیٹی نے پابندی کو عوامی احتجاج اور اختلافِ رائے کو دبانے کی کوشش قرار دیا۔ اس کے بعد مذاکرات کے بجائے ریاستی اقدامات، گرفتاریوں، احتجاج، ہڑتالوں، سڑکوں کی بندش اور مختلف علاقوں میں جھڑپوں کا سلسلہ مزید شدت اختیار کرتا گیا۔
جون کے پہلے ہفتے میں راولاکوٹ میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان خونریز جھڑپ ہوئی جس میں سرکاری اعداد کے مطابق کم از کم 7 شہری جاں بحق جبکہ 4 قانون نافذ کرنے والے اہلکار مارے گئے۔ اس واقعے کے بعد حالات مزید خراب ہوگئے اور راولاکوٹ کئی ہفتوں تک کرفیو اور شدید سکیورٹی پابندیوں کی زد میں رہا۔ بعد کے ہفتوں میں مختلف شہروں میں ہونے والی جھڑپوں نے صورتحال کو مزید پیچیدہ کردیا۔
جولائی 2026 کے آخری ہفتے میں بحران نے خطرناک رخ اختیار کیا جب جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ہزاروں کارکن راولاکوٹ سے مظفرآباد کی جانب مارچ کرنے کے لیے جمع ہوئے۔ راولاکوٹ میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان دوبارہ شدید جھڑپیں ہوئیں، جبکہ میرپور سمیت دیگر علاقوں میں بھی کشیدگی پھیل گئی۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جولائی کے آخر میں راولاکوٹ کے تصادم میں 30 سے زائد افراد کی ہلاکت کی اطلاعات سامنے آئیں، اگرچہ ہلاکتوں کی تعداد اور ذمہ داری کے بارے میں حکومت اور احتجاجی قیادت کے دعوے مختلف ہیں۔ ہلاکتوں کے مجموعی اعداد و شمار پر بھی شدید اختلاف پایا جاتا ہے۔ 29 جولائی کو آزاد کشمیر پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ 2026 کے دوران بدامنی کے مختلف واقعات میں اس کے 26 اہلکار جاں بحق، 157 شدید زخمی اور 629 معمولی زخمی ہوئے۔ دوسری طرف احتجاجی حلقے شہری ہلاکتوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ بتاتے ہیں۔ اس لیے یہ کہنا زیادہ محتاط ہوگا کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران درجنوں افراد مارے جاچکے ہیں، جبکہ مختلف ذرائع میں مجموعی تعداد 30 سے 40 سے زائد تک بتائی گئی ہے؛ حتمی اور متفقہ تعداد ابھی سامنے نہیں آئی۔
مظاہرین کے پیچھے نہ ہٹنے کی ایک بڑی وجہ یہی ہلاکتیں اور ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا غصہ ہے۔ احتجاجی قیادت کا کہنا ہے کہ جب تک گزشتہ جھڑپوں میں ہونے والی ہلاکتوں کی غیر جانب دارانہ تحقیقات، ذمہ داروں کا تعین، گرفتار کارکنوں کی رہائی اور ان کے سیاسی و آئینی مطالبات پر قابلِ اعتماد پیش رفت نہیں ہوتی، تحریک ختم نہیں کی جاسکتی۔ انسانی حقوق کمیشن پاکستان اور ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی راولاکوٹ کے واقعات کی فوری اور آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
دوسری طرف حکومت اور پولیس کا مؤقف اس کے بالکل برعکس ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ احتجاج محض پُرامن شہری تحریک نہیں رہا بلکہ اس میں ایسے عناصر شامل ہوچکے ہیں جنہوں نے قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں، سرکاری املاک اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا۔ پولیس پہلے ہی 26 اہلکاروں کی ہلاکت اور سینکڑوں کے زخمی ہونے کے اعداد و شمار پیش کرچکی ہے۔ حکومت بعض عناصر پر بیرونی ایجنڈے اور بھارتی حمایت کے الزامات بھی عائد کرتی رہی ہے، تاہم ان الزامات کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
بحران نے آزاد کشمیر کے انتخابی عمل کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے۔ جولائی کے آخر میں شروع ہونے والے انتخابات کے بعد بدامنی کے باعث سات حلقوں میں پولنگ مؤخر کرنا پڑی، جبکہ بعض علاقوں میں سڑکیں بند اور انٹرنیٹ و مواصلاتی سہولتیں معطل رہیں۔ اس طرح ایک ایسا خطہ جہاں انتخابات کے ذریعے سیاسی تبدیلی کی امید کی جارہی تھی، دوبارہ احتجاج، تصادم اور ریاستی و عوامی قوت کے براہِ راست ٹکراؤ کا مرکز بن گیا ہے۔ ایسے ماحول میں 8 پولیس اہلکاروں کا مبینہ اغوا بحران کی سنگینی کو ایک نئی سطح پر لے گیا ہے۔ اگر پولیس کا دعویٰ درست ثابت ہوتا ہے تو یہ محض احتجاج یا سڑکوں کی بندش کا معاملہ نہیں رہے گا بلکہ ریاستی اہلکاروں کو مسلح یا منظم انداز میں تحویل میں لینے کا واقعہ بن جائے گا، جس کے بعد حکومت پر بھی سخت کارروائی کے لیے دباؤ بڑھے گا۔ دوسری طرف اگر حکومت طاقت کے ذریعے اہلکاروں کی بازیابی کی کوشش کرتی ہے تو مزید خونریزی کا خدشہ موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ صورتحال میں آٹھ اہلکاروں کی بحفاظت رہائی سب سے فوری اور حساس مسئلہ بن چکی ہے۔
