سکروٹنی کمیٹی کا PTI کے مشکوک اکاؤنٹس کی تحقیقات سے انکار

تحریک انصاف کے غیر ملکی فنڈز کی تحقیقات کرنے والی الیکشن کمیشن کی اسکروٹنی کمیٹی نے اپنے حکومتی فریق ہونے کا تائثر مزید مضبوط کرتے ہوئے تحریک انصاف کے مرکزی دفتر کے ان چار ملازمین کے فرنٹ اکاؤنٹس کی تحقیقات کرنے سے بھی انکار کردیا جو اندرون اور بیرون ملک سے پارٹی کے نام پر چندہ جمع کر رہے تھے لیکن وہ عمران خان کی منظوری سے پارٹی کی بجائے ادھر ادھر استعمال ہو رہا تھا۔
اس حوالے سے اکبر ایس بابر کی جانب سے دائر کردہ درخواست کمیٹی نے مسترد کردی ہے۔ اس سے پہلے کپتان کے اتحادی کا کردار ادا کرنے والی سکروٹنی کمیٹی نے اکبر ایس بابر کو تحریک انصاف کی جمع کروائی گئی دستاویزات دینے سے بھی انکار کر دیا تھا حالانکہ فارن فنڈنگ کیس میں مرکزی پٹیشنر ہونے کی وجہ سے یہ ان کا حق بنتا ہے۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے پی ٹی آئی کے مرکزی سکریٹری خزانہ سراج احمد نے ریکارڈ پر اس بات کی تصدیق کی تھی کہ پی ٹی آئی کے چاروں ملازمین کو متحدہ عرب امارات سے چندہ وصول کرنے کا اختیار حاصل تھا۔ ای سی پی کے ڈائریکٹر جنرل قانون کی سربراہی میں اسکروٹنی کمیٹی نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ فرنٹ اکاؤنٹس میں اکٹھی کی گئی رقم پی ٹی آئی کے اکاؤنٹس میں منتقل نہیں ہوئی، یہ ثابت کرنا پی ٹی آئی کا کام ہے۔ کمیٹی کے ھکم میں کہا گیا کہ ‘تحریک انصاف نے اعتراف کیا ہے کہ مرکزی فنانس بورڈ نے ملازمین کو چندہ/عطیہ اکٹھا کرنے کا اختیار دیا تھا اور چندہ/عطیہ اکٹھا کرنا غیر قانونی نہیں، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ شکایت کنندہ اکبر ایس بابر ایسی کوئی دستاویز دینے میں ناکام رہے جو ثابت کرے کہ ان پارٹی ملازمین کو موصول کوئی رقم پارٹی کے اکاؤنٹس میں منتقل ہوئی۔
اکبر ایس بابر کی درخواست مسترد کرتے ہوئے سکروٹنی کمیٹی نے کہا ہے کہ چندہ/عطیہ لینے کے الزامات کے شواہد دینے کی ذمہ داری شکایت گزار پر ہے، شکایت کنندہ نے ملازم، محمد ارشاد کا صرف ایک اکاؤنٹ فراہم کیا ہے، تاہم ان کی جانب سے اکٹھا کیے گئے چندہ اور عطیات کی کوئی تفصیل فراہم نہیں کی گئی ہیں۔ احکامات میں کہا گیا کہ ‘کمیٹی کا یہ بھی موقف ہے کہ الیکشن کمیشن نے شکایت اور دستاویزات کی بنیاد پر ٹی او آرز تشکیل دیئے ہیں لیکن جواب دہندہ کے ملازمین کے ذاتی اکاؤنٹس کی جانچ پڑتال کے سلسلے میں کوئی ٹی او آر مرتب نہیں کیا گیا ہے، مذکورہ بالا کے پیش نظر جواب دہندہ کے ملازمین کے بینک اسٹیٹمنٹ طلب کرنے کے لیے شکایت کنندہ کی درخواست کو مسترد کردیا گیا ہے’۔ سکروٹنی کمیٹی نے پی ٹی آئی کے مرکزی سیکرٹری خزانہ کو طلب کرنے کی اکبر ایس بابر کی درخواست بھی خارج کردی۔
تاہم درخواست گزار اکبر ایس بابر نے دعویٰ کیا کہ سکروٹنی کمیٹی کے سامنے ‘ناقابل تردید ثبوت’ ہونے کے باوجود وہ ملازمین کے اکاؤنٹس کی چھان بین کرنے سے انکار کر رہی ہے جو منصفانہ اور شفاف تحقیقات پر سوالیہ نشانات ہے۔ اکبر بابر کا موقف تھا کہ پی ٹی آئی کے 4 ملازمین کا کیس تحریک انصاف کے خلاف الیکشن کمیشن میں دائر کردہ فارن فنڈنگ کیس میں انکے عائد کردہ منی لانڈرنگ کے الزامات کو تقویت پہنچاتا یے اور وزیراعظم عمران خان کے سیاسی مستقبل کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔
اس سے پہلے اکبر ایس بابر نے یہ انکشاف کیا تھا کہ تحریک انصاف کے متحدہ عرب عمارات آفس میں کام کرنے والے ٹیلی فون آپریٹر، کمپیوٹر آپریٹر، اکاونٹینٹ اور ہیلپر کے بینک اکاؤنٹس کو پارٹی فنڈز اکٹھے کرنے کے لئے استعمال کیا گیا جس کا بنیادی مقصد فراڈ کے علاوہ اور کچھ نہیں تھا۔ یہ فنڈ اکٹھا تو تحریک انصاف کے نام پر کیا جارہا تھا لیکن اسے پارٹی ملازمین کے اکاؤنٹس میں ڈالا جا رہا تھا تا کہ اس کو خرچ کرتے وقت کوئی قدغن عائد نہ ہو جیسا کہ پارٹی فنڈ کو استعمال کرتے وقت ہوتی ہے۔ انکا۔کہنا تھا کہ یہ غیر قانونی سرگرمی پی ٹی آئی اور اسکے چیئرمین عمران خان کے خلاف منی لانڈرنگ کے الزامات کا ثبوت بن سکتی ہے، کیونکہ یہ سب پی ٹی آئی کے چیئرمین کی ملی بھگت سے ہوتا رہا۔
اکبر ایس بابر نے اس حوالے سے پی ٹی آئی کے ملازمین کی ایک فہرست پیش کی تھی جنہیں کہ پاکستان کے اندر اور بیرونِ ملک سے پارٹی کے لیے فنڈز وصول کرنے کی اجازت دی گئی تھی. دستیاب دستاویز میں ان ملازمین کے نام بھی سامنے آئے جن میں پی ٹی آئی کے ٹیلی فون آپریٹر طاہر اقبال، کمپیوٹر آپریٹر محمد نعمان افضل، اکاؤنٹنٹ محمد ارشد اور پی ٹی آئی کے دفتر کے ہیلپر محمد رفیق شامل تھے۔ پی ٹی آئی ملازمین کو فنڈز اکٹھے کرنے کی اجازت دینے کا فیصلہ یکم جولائی 2011 کو ہونے والے پارٹی کے ایک اجلاس میں کیا گیا تھا جس میں پی ٹی آئی کے موجودہ چیف آرگنائزر سیف اللہ نیازی، موجودہ سیکریٹری جنرل عامر محمود کیانی، حال ہی میں تعینات ہونے والے پمز کے چیئرمین آف دی بورڈ آف ڈائریکٹرز، سردار اظہر طارق خان، پارٹی کے سابق سیکریٹری خزانہ اور پاکستان کے حالیہ سفیر برائے کرغزستان کرنل یونس علی رضا اور طارق آر شیخ شریک تھے۔
اس ضمن میں جب پی ٹی آئی کے مرکزی سیکریٹری خزانہ اور مشیر مالیات سراج احمد سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے تصدیق کی تھی کہ پی ٹی آئی کے مالیاتی بورڈ کی جانب سے ان چاروں ملازمین کو پارٹی کے لیے فنڈز اکٹھا کرنے کے لیے اجازت دی گئی تھی۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ متحدہ عرب امارات سے ویسٹرن یونین کے ذریعے آنے والی رقم بعد میں تحریک انصاف کے اکاؤنٹ میں ہی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ‘یہ یو اے ای سے ویسٹرن یونین کے ذریعے موصول شدہ عطیات پر اندرونی کنٹرول کے لیے ہمارا اندرونی ارینجمینٹ تھا کیوں کہ یو اے ای کے قوانین کسی بھی سیاسی پارٹی کو براہ راست فنڈز منتقل کرنے کی اجازت نہیں دیتے’۔
سراج احمد نے کہا کہ یو اے ای سے ان ملازمین کے اکاونٹس میں موجود تمام رقم پی ٹی آئی کے اکاؤنٹ میں ہی گئی تھی اور جسکی ایک آزادانہ طور پر جائزہ لینے والے آڈیٹر احسن اور احسن نے بھی تصدیق کی۔ تاہم ان کے پاس اس سوال کا کوئی جواب موجود نہیں تھا کہ تحریک انصاف کے لئے اکٹھے کیے گئے فنڈز کو اس کے چار ملازمین کے اکاؤنٹس میں کیوں ڈالا جاتا رہا اور پھر وہ فنڈز کہاں استعمال ہوئے۔
اس ضمن میں اکبر ایس بابر کا کہنا تھا کہ وہ یہ معاملہ خود 11 ستمبر 2011 کو ایک خط کے ذریعے پارٹی چیئرمین عمران خان کے علم میں لائے تھے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ لاکھوں روپے کے عطیات ان فرنٹ اکاؤنٹس میں عطیات دہندگان نے جمع کروائے اور پی ٹی آئی ملازمین سے نقد ادائیگی کے لیے چیکس پر دستخط کروا کر یہ رقوم نکالی گئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ غیر قانونی حرکت پی ٹی آئی اور اس کی قیادت کے خلاف منی لانڈرنگ کے الزامات کا ثبوت بن سکتی ہے، کیونکہ یہ سب پی ٹی آئی کی سینیئر قیادت کی ملی بھگت سے ہوتا رہا جو پارٹی کے سینٹرل سیکریٹریٹ کو چلا رہی تھی۔ فارن فنڈنگ کیس کے پٹیشنز اکبر ایس بابر کا کہنا ہے کہ اگر اس کیس کا فیصلہ میرٹ پر ہوں تو ان کے تمام تر الزامات ثابت ہو جائیں گے اور عمران خان نا اہل ہو سکتے ہیں۔
