سکندر بخت کے ریمارکس پر عالیہ رشید نے کھری کھری سنادیں

پاکستان میں اگرچہ کرکٹ قیام پاکستان سے مقبول ہے لیکن خواتین کو کرکٹ کمنٹری، تجزیہ کاری اور تبصروں کے میدان میں اب جگہ بنانے کو مل رہی ہے لیکن یہ چیز کچھ لوگوں کو ہضم نہیں ہورہی۔ اس کی ایک مثال عالیہ رشید ہیں۔ عالیہ رشید، زینب عباس، سویرا پاشا نے کرکٹ تبصروں اور کمنٹری میں نام کمایا۔ عالیہ رشید ٹی وی اسکرینز پر اب نظر آرہی ہیں لیکن عالیہ رشید نے اپنے کرکٹ صحافتی کیرئیر کا آغاز معروف کرکٹ جریدے "اخباروطن” سے کیا جو الیکٹرانک میڈیا آنے سے پہلے بہت مقبول تھا۔
اس جریدے میں کرکٹرز کے کیریئر، کرکٹ سےمتعلق معلومات، پاکستانی اور غیر ملکی کرکٹرز کے انٹرویوز اور تجزئیے شامل ہوتے تھے۔ عالیہ رشید اخباروطن میں کام کرنے کے ساتھ ساتھ ساتھ ڈومیسٹک اور فرسٹ کلاس کرکٹ کور کرتی رہیں۔ عالیہ رشید نے نجی ٹی وی کے شو میں پاک انگلینڈ کرکٹ سیریز پر اپنا تجزیہ پیش کیا، کچھ روز قبل عالیہ رشید نے محمد رضوان کی وکٹ کیپنگ اور بیٹنگ کی تعریف کی تو سکند بخت غصے سے آگ بگولہ ہوگئے اور پورے شو میں عالیہ رشید سے الجھتے رہے۔ یہ معاملہ اس حد تک بڑھ گیا کہ ایک پروگرام میں سکند بخت نے عالیہ رشید اور سویرا پاشا کو نشانہ بناتے ہوئے کچھ ایسے جملے کہہ ڈالے جنہیں تعصب پر مبنی قرار دیا جاسکتا ہے۔ پروگرام میں عالیہ اور سویرا پاشا کے تبصرے کے بعد سکندر بخت نے کہا کہ جنہوں نے کبھی کرکٹ کا بلا نہ پکڑا ہو، جنہوں نے کبھی زندگی میں بیٹنگ پیڈز نہ پہنے ہوں، وہ ہمیں بتائیں گے کہ فٹ ورک کیا ہوتا ہے؟ عالیہ نے پروگرام کا ایک کلپ سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے لکھا ’مجھے آج بتایا گیا ہے کہ کرکٹ پر میرا ٹیکنیکل بات کرنا ’جرم‘ ہے کیوں کہ میں ٹیسٹ کرکٹر نہیں ہوں۔ ساتھ ہی انہوں نے سوال کیا کہ بتائیے کرکٹ کے متعلق شو میں اور کس چیز پر بات ہونی چاہیے؟ اس کلپ میں عالیہ رشید نے سوال اٹھایا کہ چلیں میں نے تو کرکٹ نہیں کھیلی لیکن عبدالماجد بھٹی اور سید یحییٰ حسینی نے کتنی کرکٹ کھیلی؟ یہ لوگ کس لئے یہاں پر ہیں ؟ کیا اس لئے کہ یہ بتائیں کہ سمیع کی تنخواہ کتنی ہے، وسیم خان کو سر پر لاکر بٹھادیا گیا ہے، روزانہ ادھیڑ رہے ہیں کرکٹ بورڈ کو۔
Mujhay aaj GeoSuper per bataya gia kay mera cricket per technical baat karna ‘Crime’ hai kyunkay main Test cricketer nahi hoon. My reaction👇 Plz guide cricket show main kis per baat honi chahyey? pic.twitter.com/U7IWJW7CpO
— Aalia Rasheed (@aaliaaaliya) August 15, 2020
آپ اپنے کولیگ پر اس طرح تنقید نہیں کرسکتے، آپ کو انہیں عزت دینا ہوگی۔ سارے پینل جو یہاں موجود ہیں وہ جیو کی ایڈمنسٹریشن سے پوچھیں کہ ہم یہاں کیوں موجود ہیں؟ آپ کی اپنی Credentials کیا ہیں؟ میں نے تو 30، 32 سال رگڑے کھائے ہیں کرکٹ کور کرکے۔ گراؤنڈ پر جاکر، میں نے فرسٹ کلاس، دومیسٹک کرکٹ کور کی ہے، اب آپ ٹی وی اینکر بن گئے ہیں تو کیا آپ اپنے آپ کو خدا سمجھنے لگ گئے ہیں؟ آپ کی کیا ویلیو ہے؟آپ نے کیا کیا ہے؟ کیا یہ کہ روزانہ ٹی وی پر بیٹھ کر لوگوں کی ماں بہن برابر کریں؟ جیو اس قسم کے فضول پروگرام کیوں کررہا ہے؟ عالیہ رشید اس قدر غصے میں تھی کہ اینکر کو بریک لینا پڑگئی۔
یہ لڑائی کی بنیاد یہ کلپ بنا جس میں کرکٹ اینالسٹ عالیہ رشید کی جانب سے محمد رضوان کی تعریف کرنے پر سکندر بخت غصہ میں آگئے تھے اور عالیہ رشید سے الجھ پڑے تھے۔ سکندربخت نے سرفرازاحمد کو نہ کھلانے اور انہیں بارہویں کھلاڑی کے طور پر بھیجنے کا غصہ نکالا تو عالیہ رشید نے سکندر بخت سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ آپ محمد رضوان کی تعریف کرنے کی بجائے سرفراز احمد پر پروگرام کرتے رہتے ہیں جس پر سکندر بخت نے پوچھا کہ رضوان نے کیا پرفارمنس دی ہے؟ جس پر عالیہ رشید نے کہا کہ محمدرضوان نے وکٹ کیپنگ بہت اچھی کی ہے۔
دنیا کے بڑے بڑے کمنٹیٹرز ان کی تعریفیں کررہے ہیں، اس پر سکندر بخت نے کہا کہ تعریفیں تو بابر اعظم کی بھی ہورہی ہیں، ناصر حسین بھی تعریفیں کررہا ہے، میں نے اس وقت کہا تھا کہ بابر اعظم پہلے رنز کرے پھر بات کریں۔ وہ پچاس، 100 رنز تو کرتا نہیں ہے، میں بابراعظم کی تب تعریف کروں گا جب وہ 50 سے 100 اور 100 سے 150 کرے گا۔ عالیہ رشید نے کہا کہ آپ روز سرفرازاحمد کو لیکر بیٹھ جاتے ہیں، سرفراز قومی ٹیم کے کپتان رہے ہیں، انہوں نے اپنا وقت انجوائے کیا ہے لیکن رضوان جو اچھی پرفارمنس دے رہا ہے اسے کسی نے ہائی لائٹ نہیں کیا۔ اگر آپ کو پلیٹ فارم ملا ہے تو آپ ایمانداری سے بات کریں جس پر سکندر بخت غصے میں آگئے اور کہا کہ کیا میں بے ایمانی کررہا ہوں؟ آپ اپنے الفاظ واپس لیں۔
اس کلپ سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ہمارا میڈیا کیسے نان ایشوز کو ایشو بنا دیتا ہے. عالیہ رشید صاحبہ نے آئینہ دکھایا تو سکندر بخت صاحب نے چِلانا شروع کر دیا. سیکو بھائی نے سراسر زیادتی کی ہے شو میں، دلیل کے بجائے بحث برائے بحث pic.twitter.com/xd8DeXMqvU
— Ahmer Najeeb Satti (@AhmerNajeeb) August 9, 2020
