وفاق کی سندھ میں تبدیلی کی کوشش کیوں ناکام ہے؟


اپنی تمام تر خواہش کے باوجود تحریک انصاف کی وفاقی حکومت سندھ میں گورنرراج لگانے یا اسمبلی کے اندر پیپلزپارٹی کے وزیر اعلیٰ کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔
آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت سندھ میں گورنر راج نافذ نہیں کر سکتی کیونکہ اس کے پاس ایسا فیصلہ کرنے کے لیے امن عامہ یا کسی اور حوالے سے فی الحال کوئی قانونی اور آئینی جواز موجود نہیں۔ اسی طرح تحریک انصاف اور اس کی اتحادی ایم کیو ایم اور گرینڈ نیشنل الائنس کے پاس سندھ اسمبلی میں اتنی عددی اکثریت نہیں کہ وہ وزیر اعلی مراد علی شاہ کو تحریک عدم اعتماد کے ذریعے فارغ کر سکیں۔
آج کل سندھ میں ایک بار پھر گورنر راج کے نفاذ کے حوالے سے بحث زوروں پر ہے لیکن اس بات کو سمجھتے ہوئے کہ وفاق عملی طور پر ایسا کرنے کی پوزیشن میں نہیں بالآخر فیصلہ یہی ہوا ہے کہ سندھ اور وفاق کے نمائندوں پر مبنی ایک 6 رکنی مشاورتی کمیٹی بنائی جائے جو سندھ کے معاملات کو افہام و تفہیم سے چلائے۔
سندھ حکومت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاق کے پاس صوبے میں مداخلت کے لئے گورنر راج اور مالی ہنگامی صورتحال نافذ کرنے سمیت کچھ آئینی اختیارات موجود ہیں تاہم ان کو استعمال کرنے کے حوالے سے آئین میں شرائط بھی واضح ہیں جن کی روشنی میں وفاق کا ایسا کوئی بھی غیر قانونی فیصلہ عدالتیں فوری طور پر ختم کر سکتی ہیں۔ ویسے بھی موجودہ صورتحال میں ان متنازعہ وفاقی اختیارات کا استعمال کرنے سے سندھ کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ ہو جائےگا۔ آئینی ماہرین کا بھی یہی کہنا ہے کہ مرکزی حکومت کو کراچی سے متعلق کوئی بھی قدم اٹھاتے ہوئے اضافی محتاط رہنے کی ضرورت ہے کیونکہ صوبائی انتظامیہ اس کو سخت چیلنج دے گی اور مخالفت کرے گی۔
واضح رہے کہ 12 اگست کو سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں تجاوزات سے متعلق تین رکنی بنچ کے روبرو کیس کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل آف پاکستان خالد جاوید خان نے سپریم کورٹ کے چیف جستس کو بتایا تھا کہ وفاقی حکومت کراچی کی بہتری کے لئے مختلف آئینی آپشنز پر غور کر رہی ہے اور انہوں نے ان آپشنز کے بارے میں وزیر اعظم عمران خان سے تفصیلی گفتگو کی ہے۔ اس بیان پر پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو اور وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ نے سخت ردعمل دیا تھا۔ اٹارنی جنرل کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ مرکزی انتظامیہ کو کسی بھی وفاقی اکائی کے خلاف کسی بھی ادارے کے کندھوں کا استعمال نہیں کرنا چاہئے۔
خیال رہے کہ تحریک انصاف کے مختلف رہنماؤں کی جانب سے صوبہ سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی کی منتخب حکومت ختم کرکے وہاں گورنر راج لگائے جانے کی بات پچھلے دو برسوں سے تواتر کے ساتھ کی جا رہی ہے۔ تاہم مستقبل قریب میں ایسا کوئی امکان اس لیے نہیں ہے کہ وفاقی حکومت کے پاس ایسا فیصلہ کرنے کے لیے امن عامہ یا کسی اور حوالے سے فی الحال کوئی قانونی اور آئینی جواز موجود نہیں ہے۔ تحریک انصاف کی مرکز میں حکومت کے قیام کے بعد سے ہی سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت کی تبدیلی کی بازگشت سنائی دے رہی ہےلیکن ہمیشہ تبدیلی حکومت کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ پیپلز پارٹی کی سندھ اسمبلی میں اکثریت کی وجہ سے وفاقی حکومت سندھ حکومت کو گرانے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔
قیام پاکستان سے لے کر حکومتیں گرانے اور بنانے کا سلسلہ جاری ہے ۔ ماضی میں بھی سندھ کی اکثریتی جماعت پیپلزپارٹی میں جوڑ توڑ کیساتھ سیاسی ’’اکثریت‘‘سے حکومت بنانے کی کوششیں کی جاتی رہی ہیں۔۔2018ء کے عام انتخابات کے بعد پیپلزپارٹی نے سندھ میں اکثریت حاصل کر کےحکومت بنائی۔ بعض وفاقی وزراء کے بیانات سے یہ بات سامنے آئی کہ سندھ میں سیاسی دائو پیچ کھیلنے کی تیاریاں کی جارہی ہیں لیکن کوششوں کے باوجود وفاق کو کامیابی حاصل نہ ہوئی۔تجزیہ کاروں کے مطابق پیپلز پارٹی کو سندھ اسمبلی میں حاصل اکثریت کی وجہ سے سندھ حکومت کی تبدیلی کی خبریں سچ ہوتی نظر نہیں آتیں۔
سندھ اسمبلی میں اس وقت حکومتی جماعت پیپلزپارٹی کو 168 اراکین پر مشتمل ایوان میں سے 99 نشستوں کیساتھ برتری حاصل ہے۔ اس کے مد مقابل تحریک انصاف 30 اراکین صوبائی اسمبلی کیساتھ دوسرے ،متحدہ قومی موومنٹ 21 نشستوں کیساتھ تیسرے جبکہ گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس 14ایم پی ایز کیساتھ چوتھے نمبر پر ہے۔ تحریک لبیک تین اور ایم ایم اے کا ایک ایم پی اے بھی اسمبلی اراکین میں شامل ہے۔ سندھ اسمبلی کے 168 اراکین پر مشتمل ایوان میں سے پیپلزپارٹی کی 99 نشستیں نکال دی جائیں تو باقی 69 نشستیں رہ جاتی ہیں اور اگر انہیں اپوزیشن اتحاد بھی سمجھ لیاجائے تو وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کے خلاف کسی بھی تحریک کی کامیابی کے لئے کم از کم 17ایم پی ایز کو پیپلز پارٹی سے ہٹ کر اپوزیشن کے نامزد وزیر اعلیٰ کو ووٹ دینا پڑے گا۔
ماضی کے برعکس اکثریتی جماعت کو حکومت سے نکالنے کیلئے فارورڈ بلاک تشکیل دینے کی کوئی آئینی گنجائش موجود نہیں کیونکہ آئین کے مطابق سیاسی جماعت میں فارورڈ بلاک بنانے والے اراکین اسمبلی اپنی نشستیں کھو بیٹھیں گے۔ آئین میں واضح کر دیا گیا ہے کہ کسی بھی پارٹی میں فارورڈ بلاک بنانے اور پارٹی قیادت کے فیصلوں سے انحراف ، وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ کے انتخاب میں پارٹی سربراہ کے فیصلے کے مطابق ووٹ نہ دینے یا وفاداری تبدیل کرنے کی صورت میں متعلقہ پارلیمینٹرین اپنی نشست سے ہاتھ دھو بیٹھے گا کیونکہ وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ کا انتخاب خفیہ رائے شماری کی بجائے اوپن ووٹنگ کے ذریعے ہوتا ہے جس کی وجہ سے پارٹی سربراہ کی ہدایت سے انحراف کرنے والے رکن کا سامنے آنا یقینی ہے جس بنا پرپارٹی کی طرف سے اس کی رکنیت منسوخ کی جا سکتی ہے۔ قانون کے مطابق پارٹی پالیسی سے روگردانی کرنے والے رکن کے خلاف آئینی کاروائی عمل میں لائی جا تی ہے اور اس کے خلاف الیکشن کمیشن کو ریفرنس بھجوایا جا سکتا ہے ،اسی طرح وفاداری تبدیل کرنے اور فارورڈ بلاک بنانے والوں کو آئینی کاروائی کا سامنا کرنا پڑتاہے۔پارٹی سربراہ کو آئین کے تحت یہ اختیار حاصل ہے کہ پارٹی فیصلوں کی خلاف ورزی کرنے والے اراکین اسمبلی کے خلاف ریفرنسز بھجوا سکتے ہیں۔ اس لئے مستقبل قریب میں گورنر راج کے ساتھ ساتھ اسمبلی کے اندر سے سندھ حکومت کی تبدیلی کے امکانات بھی معدوم نظر آتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button