سکھ یاتریوں کی بابا گرونانک کے جنم دن کی تقریبات میں شرکت

ملک اور بیرون ملک کے علاوہ بھارت سے آنے والے 600 سکھ یاتریوں نے بابا گرونانک کے 551ویں جنم دن کی تقریبات میں شرکت کی۔
سکھ عقیدے کے بانی بابا گرونانگ کے جنم دن کی 3 روزہ تقریبات کا آغاز ہفتے کے روز ننکانہ صاحب، حسن ابدال اور پاکستان میں دیگر مقامات پر ہوا تھا۔ تقریب میں شریک تمام افراد کے لیے لنگر کا انتظام کیا گیا تھا، درجنوں سکھ خواتین نے ننکانہ صاحب میں بھوکوں کو کھانا کھلانے کے لیے سبزیاں کاٹیں اور آٹا گوندھا، کار سیوا کو سکھ مذہب میں مذہبی فریضے کی حیثیت حاصل ہے۔ وفاقی وزیر برائے مذہبی امور اور بین المذاہب ہم آہنگی نورالحق قادری نے ننکانہ صاحب میں ہونے والی مرکزی تقریب سے خطاب کیا۔ان کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کے کیسز میں اضافے کے باوجود حکومت نے سخت ترین اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز کے تحت جنم دن کی تقریب کا انعقاد یقینی بنایا۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم کسی بھی مذہب کے ماننے والوں کے ساتھ کسی قسم کا امتیازی سلوک نہیں چاہتے۔وفاقی وزیر نے شرکا کو آگاہ کیا کہ باب گرونانک یونیورسٹی پر کام مقررہ وقت پر مکمل کرلیا جائے گا اور لاہور سیالکوٹ موٹروے کا ایک لنک روڈ کرتار پور راہداری کے لیے بھی تعمیر کیا جائے گا تا کہ گرونانک کے ماننے والے ننکانہ صاحب سے بآسانی کرتار پور پہنچ سکیں۔
پنجاب کے وزیر اقلیتی امور اعجاز عالم آگسٹائن، قومی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین چھیلا رام، رکن صوبائی اسمبلی مہندراپار اور بھارتی سکھ رہنماؤں کے علاوہ تقریباً 4 ہزار ملکی اور غیر ملکی یاتریوں سے ان تقریبات میں شرکت کی۔سکھ برادری کو مبارکباد دیتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ملک میں تمام اقلیتوں کے حقوق اور ان کے مذہبی مقامات کا تحفظ کیا جائے گا۔ایک ویڈیو پیغام میں انہوں نے حال ہی میں حسن ابدال کے دوبارہ تعمیر کردہ ریلوے اسٹیشن کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت سکھ برادری کو ہر ممکن سہولت فراہم کرے گی۔وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کی پالیسی پاکستان میں مذہبی اقلیتوں اور ان کے مقدس مقامات کی حفاظت کرنا ہے چاہے ہو گرجا گھر، مندر یا بودھ خانقاہیں ہوں۔
ہفتہ سے شروع ہونے والی بابا گرونانک کی سالگرہ کی تقریبات میں شرکت کے لیے 600 سے زائد یاتری بھارت سے بذریعہ واہگہ بارڈر پاکستان پہنچے تھے۔مرکزی تقریب ننکانہ صاحب میں گوردوارہ جنم استھان میں ہوئی، تقریبات میں نگر کرتان جلوس اور بھوگ رات بھی شامل تھی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button