سیاسی جماعتیں اسٹیبلشمنٹ کی توقیر کیلئے اتنی فکرمند کیوں؟

سینیٹ نے متفقہ طور پر پیپلزپارٹی کی جانب سے پیش کردہ ایک قرارداد منظور کی ہے جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ فوج کے خلاف منفی اور بدنیتی پہ مبنی پروپگینڈا کرنے والوں کو سخت سزائیں دی جائیں۔کئی حلقوں میں یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ فوج پر تنقید کم کرنے کے لیے بار بار قراردادوں اور قانون سازی کی ضرورت کیوں پڑتی ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ سیاسی جماعتیں اسٹیبلشمنٹ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے اس طرح کی قراردادیں لاتی ہیں یا قانون سازی کی باتیں کرتی ہیں تاکہ مقتدر اداروں کو اپنی وفاداری کا یقین دلایا جا سکے۔

کچھ سیاست دانوں کا خیال ہے کہ سیاسی جماعت اس طرح کی قرارداد یں یا قانون سازی اس لیے کرتی ہیں تاکہ انہیں جی ایچ کیو کی توجہ حاصل ہو سکے۔ معروف سیاست دان اور بلوچستان کے سابق وزیراعلی نواب اسلم رئیسانی کا کہنا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ قانون بنانے والوں نے آئین کو پڑھا ہی نہیں۔” ہمارے آئین میں واضح طور پہ اس مسئلے کا پہلے ہی حل دیا گیا ہے اور ہماری سول عدالتیں اس طرح کے منفی پروپیگنڈے یا بدنیتی پر مبنی مہم کو ڈیل کرنے کے لیے کافی ہیں۔‘‘نواب اسلم رئیسانی کے مطابق مسئلہ یہ ہے کہ سیاسی جماعتیں اس طرح کی قراردادیں پیش کر کے اسٹیبلشمنٹ کو خوش کرنا چاہتی ہیں یا اس کی توجہ حاصل کرنا چاہتی ہیں۔ ” اسی لیے وہ ایسی قراردادیں لے کر آتی ہیں یا ایسے قوانین بنانے کی کوشش کرتی ہیں، جو فوج پر تنقید کے حوالے سے ہوں۔‘‘

دوسری جانب ممتاز تجزیہ نگار سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان میں ساری سیاسی جماعتیں کٹھ پتلیاں ہیں۔”یقینا اس طرح کی قراردادوں کا مقصد کسی نہ کسی کو خوش کرنا ہوتا ہے یا اپنے مخالف کے خلاف اقدامات ان کا مطمع نظر ہوتا ہے اور موجودہ حالات میں پاکستان تحریک انصاف عتاب میں ہے تو اس طرح کی قراردادیں ان کے خلاف ایکشن کو مزید تیز کرنے کے لیے استعمال کی جا سکتی ہیں۔‘‘

سہیل وڑائچ کے مطابق بدقسمتی سے جب سیاسی جماعتیں اس طرح کی قراردادیں پیش کرتی ہیں اور اگے بڑھ کے قوانین بناتی ہیں تو وہ قوانین انہی کے خلاف استعمال ہوتے ہیں۔ ” یہ سب کچھ اس لیے ہو رہا ہے کیونکہ پاکستان میں آئین کی پاسداری نہیں کی جاتی۔ مارشل لا لگا دیا جاتا ہے۔ آئین کو معطل کر دیا جاتا ہے اورآئینی حدود سے تجاوز کیا جاتا ہے۔ اگر آئینی حدود سے تجاوز نہ کیا جائے تو نہ کسی قرارداد کی ضرورت پڑے اور نہ ایسے قوانین کو لانے کی ضرورت پڑے جس کا مقصد کسی ادارے پر تنقید کو کم کرنا یا ختم کرنا ہو۔‘‘

دوسری جانب بعض دیگر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس وقت پیپلز پارٹی اور نون لیگ میں اسٹیبلشمنٹ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے ریس چل رہی ہے اور پیپلز پارٹی کی طرف سے پیش کردہ یہ قرارداد جی ایچ کیو کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش ہے۔ ”اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اس وقت نون لیگ اسٹیبلشمنٹ کی لاڈلی بنی ہوئی ہے اور خود بلاول نے بھی نواز شریف کو سپر لاڈلہ قرار دیا لیکن اس کے ساتھ ساتھ پیپلز پارٹی بھی اپنا سی وی پیش کر رہی ہے۔‘‘

مبصرین کے مطابق سیاست میں اسٹیبلشمنٹ کی حمایت کے بغیر سیاست مشکل ہے۔ ” لیکن سیاسی جماعتوں کو اس اسٹیبلشمنٹ سے قربت رکھنے والی روش کو ترک کرنا پڑے گا ورنہ سیاسی جماعتوں کا وجود خطرے میں پڑ جائے گا۔ نون لیگ کا ابھی وجود خطرے میں ہے اور پیپلز پارٹی بھی اس طرح کے رویے کی وجہ سے سیاسی طور پر نقصانات اٹھائے گی۔‘‘

تاہم پاکستان پیپلز پارٹی اس تاثر کو غلط قرار دیتی ہے کہ پارٹی کسی بھی طرح سے اسٹیبلشمنٹ کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والی سابق سینیٹر سحر کامران کا کہنا ہے کہ پارٹی اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ کوئی بھی ادارہ اگر آئینی حدود سے تجاوز کرے، تو اس پر تنقید ہونی چاہیے لیکن ہماری پارٹی کسی بھی ادارے کے خلاف منفی پروپیگنڈے پہ یقین نہیں رکھتی۔ تاہم اگر پاکستان کا کوئی بھی ادارہ اپنی آئینی حدود سے تجاوز کرتا ہے یا سیاست میں مداخلت کرتا ہے تو اس پر تنقید ہونی چاہیے۔‘‘سحر کامران کا کہنا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کسی ادارے یا شخصیت پر نہیں صرف عوام کے ووٹ اور عوامی طاقت پر یقین رکھتی ہے کیونکہ ہمارے لیے طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں

Back to top button