پنجاب کے انتخابی دنگل کا اصل فاتح کون ہو گا؟

آئندہ عام انتخابات کے حوالے سے اصل دنگل پنجاب میں سجے گا۔ پنجاب کے انتخابی دنگل کا فاتح ہی مسند اقتدار پر براجمان ہونے کا اہل قرار پائے گا۔ الیکشن 2024 کی آمد سے پہلے ہی آئندہ حکومت سازی کے حوالے سے قیاس آرائیوں کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ کئی مبصرین اب تک تحریک انصاف کے مقبولیت کے گن گاتے دکھائے دیتے ہیں جبکہ بعض دیگر مبصرین نون لیگ کی قبولیت اور مقبولیت کا راگ الاپتے نظر آتے ہیں۔ تاہم یہ تو 8 فروری کا دن ہی بتائے گا کہ اصل مقبولیت اور قبولیت کس سیاسی جماعت کو حاصل ہے۔ تاہم دوسری طرف سینئیر صحافی انصار عباسی کے مطابق مختلف سیاسی رہنماؤں اور سیاسی جماعتوں کی مقبولیت کے حوالے سے زمینی جائزوں کے تازہ ترین اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ عمران خان اور پاکستان تحریک انصاف اب بھی ملک بھر میں سب سے زیادہ مقبول ہیں۔ تاہم پنجاب نے اپنا مزاج بدلنا شروع کر دیا ہے۔ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ پنجاب میں پی ٹی آئی اور نون لیگ کے درمیان مقبولیت کا فرق اب کم ہو رہا ہے۔ مقبولیت کے لحاظ سے یہ فرق چند ماہ قبل تک پی ٹی آئی کے حق میں 15؍ فیصد تک ز یادہ تھا جبکہ اب یہ صوبے بھر میں کم ہو کر 5؍ فیصد تک رہ گیا ہے۔
پاکستان بھر کے حوالے سے دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے درمیان مقبولیت کا فرق اب بھی یہ ظاہر کرتا ہے کہ نون لیگ کے مقابلے میں پی ٹی آئی نمایاں حد تک مقبول جماعت ہے۔ تاہم، پنجاب میں نون لیگ نے بہتری کا مظاہرہ کیا ہے اور صوبے میں عام انتخابات کے دوران پی ٹی آئی کو ٹکر دینے کیلئے پہلے سے بہتر پوزیشن میں نظر آتی ہے۔ حالیہ سروے کا حوالہ دیتے ہوئے ان ذرائع کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں پی ٹی آئی کی مقبولیت 2018ء میں ہونے والے عام انتخابات کے وقت سے زیادہ ہے۔ نون لیگ کے معاملے میں دیکھیں تو پارٹی کی مقبولیت 2018ء کی پوزیشن سے کم ہے۔
خیال کیا جاتا ہے کہ اپریل 2022ء کے بعد نون لیگ کی اپنے گڑھ پنجاب میں عدم مقبولیت کے بعد اب حالیہ مہینوں کے دوران اور نواز شریف کی جانب سے خود ساختہ جلاوطنی ختم کرکے واپس آنے کے بعد کچھ بہتری آئی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ 8؍ فروری کو عام انتخابات سے آئندہ پانچ ہفتے قبل کا عرصہ سیاسی جماعتوں اور ساتھ ہی ووٹرز کیلئے بیحد اہم ہے۔کہا جاتا ہے کہ جیسے جیسے سیاسی جماعتوں کی انتخابی مہم ہر گزرتے دن کے ساتھ زور پکڑتی جائے گی، ووٹرز کا رجحان بھی تبدیل ہوتا جائے گا۔
انصار عباسی کے مطابق انتخابی نتائج کے حوالے سے سروے اور جائزے اس وقت زیادہ اہمیت اختیار کر جائیں گے جب یہ الیکشن کے دن سے قریب ترین دنوں میں کرائے جائیں گے۔ گزشتہ سال جون اور جولائی میں کرائے جانے والے سروے سے معلوم ہوا تھا کہ 38؍ فیصد افراد پی ٹی آئی، 16؍ فیصد نون لیگ، 10؍ فیصد پیپلز پارٹی، 15؍ فیصد ٹی ایل پی، 9؍ فیصد جماعت اسلامی جبکہ 6؍ فیصد افراد ایم کیو ایم کو پسند کرتے ہیں۔
سیاست دانوں کے لحاظ سے دیکھیں تو گزشتہ سال کے سروے کے مطابق، عمران خان کیلئے مثبت ریٹنگ کی شرح 60؍ فیصد تھی جس کے بعد سعد رضوی اور پرویز الٰہی (ہر ایک کی مقبولیت کی شرح 38؍ فیصد)، شاہ محمود قریشی 37؍ فیصد، نواز شریف 36؍ فیصد، شہباز شریف 35؍ فیصد، مریم نواز 30؍ فیصد، شاہد خاقان عباسی اور دیگر کیلئے پسندیدگی کی شرح 28؍ فیصد تھی۔ پنجاب میں عمران خان کی مقبولیت کی شرح 58؍ فیصد تھی، سعد رضوی کیلئے 49؍ فیصد، پرویز الٰہی 49؍ فیصد، شاہ محمود قریشی 43؍ فیصد، شہباز شریف 43؍ فیصد، نواز شریف 41؍ فیصد، مریم نواز 37؍ فیصد، شاہد خاقان عباسی 33؍ فیصد اور دیگر شامل ہیں۔ فہرست میں بلاول بھٹو کا نام شامل نہیں کیونکہ سروے میں ان کا جائزہ نہیں لیا گیا تھا۔
