سیریل کلر جاوید اقبال پر بنی فلم برلن میں دکھائی جائے گی


پاکستان میں پابندی کا شکار ایک سیریل کلر پر بنائی گئی یاسر حسین اور عائشہ عمر کی فلم ’جاوید اقبال: دی اَن ٹولڈ اسٹوری آف آ سیریل کلر’ کو دنیا کے معروف ترین فلم فیسٹیول ’برلن‘ میں پیش کرنے کے لیے منتخب کرلیا گیا ہے۔ جاوید اقبال نامی فلم کی کہانی لاہور کے بدنام سیریل کلر ’جاوید اقبال مغل‘ کے جرائم اور اسکے عدالتی ٹرائل کے گرد گھومتی ہے۔ جاوید اقبال مغل‘ 100 بچوں کے قتل اور ان کے ’ریپ‘کا مجرم تھا۔ 1999 میں جاوید اقبال نے پولیس کو ایک خط لکھا تھا جس میں انہوں نے 100 بچوں کے قتل کا اعتراف کیا تھا جن کی عمریں 6 سے 16 سال کے درمیان تھیں، اس نے ساتھ میں یہ بھی اعتراف کیا تھا کہ اس نے زیادہ تر بچوں بچوں کو گلا گھونٹ کر مارا اور ان کے جسم کے کئی ٹکڑے بھی کیے۔ جاوید اقبال مغل نے 2001 اکتوبر میں لاہور کی جیل میں خودکشی کرلی تھی۔
’جاوید اقبال: دی اَن ٹولڈ اسٹوری آف آ سیریل کلر’ کو قابل اعتراض مواد کی وجہ سے پاکستان میں تاحال ریلیز نہیں کیا گیا، لیکن اسے غیر ملکی فلمی میلوں میں پیش کیے جانے کا سلسلہ جاری ہے، گزشتہ ماہ مئی میں اسی فلم نے برطانوی فلم میلے میں دو ایوارڈز بھی حاصل کیے تھے۔اب اسی فلم کو جرمنی میں ہونے والے دنیا کے قدیم ترین اور بڑے فلمی میلوں میں شمار ہونے والے ’برلن فلم فیسٹیول‘ کے لیے بھی منتخب کیا گیا ہے، جہاں اسے 29 جون سے قبل ہی پیش کردیا جائے گا۔
’جاوید اقبال: دی اَن ٹولڈ اسٹوری آف آ سیریل کلر’ کے ہدایت کار ابو علیحہ نے اپنی ٹوئٹ میں بتایا کہ ان کی فلم کو ’برلن فیسٹیول‘ کے لیے منتخب کرلیا گیا جہاں اسے نمائش کے لیے پیش کردیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں فلم پر مواد کی وجہ سے پابندی کے بعد انہوں نے اپنی فلم کو 10 مختلف فلم فیسٹیول میں پیش کرنے کی درخواست بھیجی تھی، جس میں سے چند فیسٹیولز نے ان کی درخواست قبول کرلی۔ انہوں نے وضاحت کی کہ بعض فلم فیسٹیول ایسی کسی فلم کو منتخب نہیں کرتے، جس کا ورلڈ پریمیئر نہیں ہوتا اور چوں کہ ان کی فلم کا کوئی عالمی پریمیئر نہیں ہوا، اس لیے ان کی فلم متعدد فیسٹیولز میں پیش نہیں ہو سکے گی۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے کانز اور وینس فلم فیسٹیول کے لیے اپنی فلم کو نہیں بھیجا تھا، تاہم ان کی فلم نیویارک فیسٹیول میں بھی پیش ہوگی جب ک انہوں نے ٹورنٹو فلم فیسٹیول انتظامیہ کو بھی اسکریننگ کے لیے درخواست بھیج رکھی ہے۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ انہوں نے فلم کو او ٹی ٹی پلیٹ فارم پر ریلیز کرنے کا منصوبہ بھی بنا لیا ہے اور اس وہ اس ضمن میں مزید کام کرنے میں مصروف ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں متعدد او ٹی ٹی پلیٹ فارمز موجود ہیں، جو کسی بھی مواد کو سینسر کیے بغیر ریلیز کرتے ہیں۔
ابو علیحہ نے یہ انکشاف بھی کیا کہ ان کی فلم کی نمائش کی مخالفت فلم سینسر بورڈز کی جانب سے نہیں بلکہ ایک طاقتور شخص کی جانب سے کی جا رہی ہے، جو نہیں چاہتا کہ ’جاوید اقبال‘ ریلیز ہو۔ انہوں نے کہا کہ وہ شخص سینسر بورڈز کے محکموں سے بھی زیادہ طاقتور ہے، تاہم انہوں نے اس شخص کا نام نہیں بتایا۔ فلم ساز نے یہ بھی کہا کہ وہ ’جاوید اقبال: دی اَن ٹولڈ اسٹوری آف آ سیریل کلر’ کے سیکوئل پر کام کر رہے ہیں اور سیریز کی دوسری فلم پہلی فلم سے بھی زیادہ بولڈ اور خطرناک ہوگی، تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ سیکوئل فلم کو کب تک ریلیز کیا جائے گا؟
خیال رہے کہ اس فلم کو مئی 2020 میں یوکے ایشین فلم فیسٹیول میں دکھایا گیا تھا، جہاں انہیں دو ایوارڈز کے لیے منتخب کیا گیا تھا۔

Back to top button