سینٹ الیکشن میں فوجی اسٹیبلشمنٹ کس کا ساتھ دے رہی ہے؟

موجودہ سیاسی حالات میں اگر سپریم کورٹ آئین کے مطابق سینیٹ کا الیکشن خفیہ رائے شماری کے تحت کروانے کا حکم جاری کر دے تب بھی طاقتور پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کبھی غیر جانبدار نہیں رہے گی کیونکہ اسکی غیر جانبداری اپوزیشن کے لیے جانبداری بن جائے گی۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے ڈسکہ میں دوبارہ الیکشن کروانے کے فیصلے اور حمزہ شہباز کی ضمانت سے حکومت کے خلاف ایک ارتعاش ضرور پیدا ہوا ہے، تاہم حکومت اور اسٹیبلشمنٹ ایک دوسرے سے پرے نہیں ہوئے کیونکہ موجودہ حکومت کا تحفظ دراصل اسٹیبلشمنٹ کا اپنا تحفظ ہے۔ لہذا جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ غیر جانبدار ہے یا ہوتی ہے، وہ شاید حقائق کا درست ادراک نہیں رکھتے۔ ایسا نہ تو کبھی ماضی میں ہوا ہے اور نہ ہی آئندہ کبھی ہوگا.
ان خیالات کا اظہار سینئر صحافی اعزاز سید نے اپنے تازہ ترین تجزیے میں کیا ہے۔ انکا کہنا یے کہ سسید یوسف رضا گیلانی نے بڑی سوچ بچار اور قریبی ساتھیوں سے مشورے کے بعد اسلام آباد سے سینیٹ الیکشن میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا ہے، اس دوران نون لیگ کے چیدہ رہنماؤں شاہد خاقان عباسی اور پرویز رشید کے ذریعے مریم نواز اور نواز شریف کو بھی اعتماد میں لیا گیا۔ اعزاز سید کے مطابق اس بار یوسف رضاگیلانی سینیٹ انتخابات میں حصہ نہیں لے رہے تھے بلکہ ان کے بیٹے حیدرگیلانی اور قاسم گیلانی نے سینیٹ کی نشست پر پنجاب سے نظریں جما رکھی تھیں۔ لیکن پیپلز پارٹی کی طرف سے یوسف رضا گیلانی کو اسلام آباد سے سینیٹ انتخابات لڑوانے کی تجویز نے سارا سیاسی منظر نامہ ہی بدل ڈالا۔ یوسف رضاگیلانی ملک کے سابق وزیراعظم ہی نہیں بلکہ وہ ملکی سیاست کا خوشگوار چہرہ ہیں، ان کا یہی پس منظر سینیٹ میں اسلام آباد کی نشست سے انہیں ایک طاقتور امیدوار بناتا ہے۔ مگر یہ سوال ابھی برقرار ہے کہ آیا وہ سینیٹ الیکشن جیتیں گے یا نہیں؟
اعزاز کے مطابق سینیٹ کا اسلام آباد سے رکن منتخب ہونے کے لیے اس وقت قومی اسمبلی کے 342 ارکان اسمبلی نے ووٹ ڈالنا ہے۔ سرکاری طور پرحکومت کے پاس تمام اتحادیوں کو شامل کرکے 180ووٹ ہیں جبکہ اپوزیشن 160ووٹوں کی حامل ہے۔اپوزیشن کے متفقہ امیدوار یوسف رضا گیلانی کو سینیٹر بننے کیلیے اپنے مدمقابل پر برتری کیلیے مجموعی طورپر 11 ووٹ درکار ہیں۔ اپوزیشن کا خیال ہے کہ وہ حکومت میں شامل جی ڈی اے کے تین اراکین قومی اسمبلی ، 2 آزاد اراکین، جمہوری وطن پارٹی کے شاہ زین بگٹی اور 12 کے قریب ان حکومتی ارکان قومی اسمبلی کی حمایت حاصل کرلے گی جو وزیراعظم سے نالاں ہیں۔ انکا کہنا یے کہ بلاول بھٹو اور یوسف رضاگیلانی کی 25 فروری کو لاہور میں مریم نواز سے ملاقات کے دوران لیگی قیادت کو 9 کے قریب حکومتی ارکان قومی اسمبلی کی لسٹ بھی دی گئی۔ یہ وہ حکومتی ارکان ہیں جو آئندہ الیکشن میں ن لیگ کی طرف سے ٹکٹ کی یقین دہانی پر سینیٹ میں اپنا ووٹ اپوزیشن کو دینے کیلئے تیار ہیں۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ نواز لیگ کا ساتھ تحریک انصاف کے بعض ارکان براہ راست بھی رابطے میں ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ن لیگ واقعی پیپلزپارٹی کے سابق وزیراعظم کے لیے قومی اسمبلی کی اتنی نشستوں کی قربانی دے گی؟ بظاہر تو ایسا ہی نظر آتا ہے کیونکہ سینیٹ الیکشن میں یوسف رضا گیلانی کی کامیابی عمران حکومت کے خاتمے کی طرف پہلا قدم ثابت ہو سکتی ہے۔
دوسری طرف یوسف رضا گیلانی کا جہانگیر خان ترین سے بھی گہرا تعلق ہے۔ جہانگیر ترین کی اہلیہ آمنہ ترین یوسف رضا گیلانی کی ماموں زاد ہیں، اس لیے جہانگیر ترین اس موقع پر یوسف رضا گیلانی کی مدد کرکے عمران خان سے اپنی بے عزتی اور بیوفسئی کا بدلہ بھی لے سکتے ہیں۔ اعزاز سید کہتے ہیں کہ مجھے نہیں لگتا کہ جہانگیر ترین اتنا بڑا رسک کسی کوارٹر کی ہلہ شیری کے بغیر لے سکتے ہیں۔ ایسی بھی اطلاعات ہیں کہ اگر یوسف رضا گیلانی سینیٹ کا انتخاب جیت گئے تو اسکے فوری بعد اپوزیشن جماعتیں وزیراعظم عمران خان کے خلاف قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد لائیں گی۔ تو کیا موجودہ نظام ایسی اپوزیشن کے ہاتھ میں دینے کا رسک لیا جا سکتا ہے جس پر بظاہر ابھی فوجی اسٹیبلشمنٹ اعتبار کرنے کے لیے تیار نہیں؟ اعزاز کہتے ہیں کہ ایسا ابھی نہیں ہوسکتا کیونکہ اسٹیبلشمنٹ کے بڑوں کا مستقبل بھی اسی حکومت کے فیصلہ سازوں سے جڑا ہوا ہے۔
یاد رہے کہ یوسف رضا گیلانی کے مدمقابل سندھ سے تعلق رکھنے والے امپورٹڈ مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ ہیں جن کا اسٹیبلشمنٹ سے بڑا گہرا تعلق ہے۔ اسی تعلق کے باعث انہیں موجودہ حکومت میں وزارت خزانہ کی کنجی دی گئی اور اب وہ سینیٹ کے میدان میں بھی اتارے گئے ہیں۔
اعزاز کہتے ہیں کہ شیخ صاحب کو انتخابی دنگل میں اتارنے والے پوری سپورٹ فراہم کررہے ہیں اور اپوزیشن کے بعض ارکان سے بھی رابطے کیے گئے ہیں، اصل ڈر تو یہ ہے کہ حکومت کی بجائے اس بار بھی اپوزیشن کے ووٹ کم نہ ہوجائیں۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے ڈسکہ میں عام انتخابات ملتوی کرنے کے فیصلے اور حمزہ شہباز کی ضمانت سے ماحول میں حکومت کے خلاف ایک ارتعاش ضرور پیدا ہوا ہے تاہم حکومت اور اسٹیبلشمنٹ ایک دوسرے سے پرے نہیں ہوئے۔ اعزاز سید کا دعوی یے کہ کپتان حکومت کا تحفظ دراصل اسٹیبلشمنٹ کا اپنا تحفظ ہے اور جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ غیر جانبدار ہے یا ہوتی ہے وہ شاید حقائق کا درست ادراک نہیں رکھتے۔ ایسا ماضی میں بھی کبھی نہیں ہوا اور آئندہ بھی نہیں ہوگا.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button