کیا ڈسکہ دھاندلی کے اصل منصوبہ ساز بھی بے نقاب ہونے والے ہیں؟

الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے ڈسکہ کے دھاندلی زدہ حلقے این اے 75 میں دوبارہ الیکشن اور سینئر پولیس افسران اور بیوروکریٹس کے تبادلوں کے باوجود معاملہ ابھی ختم نہیں ہوا۔ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈسکہ الیکشن کپتان حکومت کے لیے ایک ڈراؤنا خواب بن سکتا ہے کیونکہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ابھی ان لوگوں کا تعین کرنا ہے جو الیکشن کے روز پیچھے بیٹھ کر پولیس اور بیوروکریسی کی ڈوریں کھینچ رہے تھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اسی بات کا تعین کرنے کے لئے 4 مارچ کو آئی جی پنجاب اور چیف سیکرٹری پنجاب کو طلب کر رکھا ہے کیونکہ یہ اطلاعات ہیں کہ وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کا قریبی پرنسپل سیکرٹری ذاتی طور پر الیکشن کے روز ڈسکہ میں سینئیر فیلڈ افسران سے رابطے میں تھا اور انکی ڈوریاں ہلا رہا تھا۔ اس کے علاوہ انٹیلی جنس بیورو اور اسپیشل برانچ کے سینئر افسران بھی حکومت کے امیدوار کی کامیابی کیلئے پورا زور لگائے ہوئے تھے اور پولنگ ختم ہونے کے بعد جن 23 پولنگ سٹیشنز کے سٹاف کو ووٹوں کے تھیلوں سمیت اغوا کیا گیا اس میں بھی یہی دو ایجنسیاں شامل تھی۔
لہذا ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن یہ سمجھتا ہے کہ آر پی او، ڈی پی او اور کمشنر لیول کے چھوٹے افسران کے خلاف کارروائی کے علاوہ اتنے بڑے پیمانے پر دھاندلی کے پیچھے موجود اصل اور طاقتور مجرمان کو بے نقاب کرنا اور ان کے خلاف ایکشن لینا ذیادہ ضروری ہے۔ ذرائع کہتے ہیں کہ 4 مارچ کو آئی جی پنجاب اور چیف سیکرٹری پنجاب کو الیکشن کمیشن میں طلب کرنے کا مقصد بھی یہی ہے کہ دھاندلی کے اصل منصوبہ سازوں تک پہنچا جا سکے۔ یاد رہے کہ اگرچہ الیکشن کمیشن نے ڈسکہ الیکشن دھاندلی میں ملوث انتخابی عملے اور فیلڈ افسران کے خلاف کارروائی تو کی یے لیکن پس پردہ جن طاقتور لوگوں نے اسلام آباد یا لاہور سے بیٹھ کر ان افسران کی ڈوریاں کھینچیں، وہ ابھی تک بچے ہوئے ہیں جن کا پتہ لگانا ضروری ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ الیکشن کے دن جب ڈسکہ میں مکمل طور پر لاقانونیت کا راج تھا اور سرکاری مشینری صرف خاموش تماشائی بنی ہوئی تھی تو وزیراعلی پنجاب کے پرنسپل سیکرٹری متعلقہ فیلڈ افسران کے ساتھ مستقل رابطے میں تھے جن کو اب ان کے عہدوں سے ہٹا دیا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کو اب تک موصول ہونے والی معلومات کے مطابق ان فیلڈ افسران کو الیکشن والے دن لمحہ بلمحہ ہدایات جاری کی جارہی تھیں اور اسی لیے انتظامیہ اور پولیس افسران نے اپنی آنکھیں ماتھے پر رکھی ہوئی تھیں اور الیکشن کمیشن کے احکامات پر بھی عمل کرنے سے انکاری رہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ دھاندلی میں وزیر اعظم کی زیر نگرانی کام کرنے والی سویلین ایجنسی انٹیلی جنس بیورو اور اسپیشل برانچ کے سینئر افسران نے بھرپور کردار ادا کیا۔ الیکشن کمیشن کو ملنے والی اب تک کی معلومات کے مطابق ڈسکہ دھاندلی کے مرتکب افراد کی ڈوریاں ہلانے والوں میں انٹیلی جنس بیورو اور سپیشل برانچ کے سربراہان کے علاوہ فردوس عاشق اعوان، عثمان ڈار، وزیر اعلی پنجاب کے پرنسپل سیکرٹری اور پولیس اور سول بیورو کریسی کے سینئر افسران شامل تھے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ 4 مارچ کے روز آئی جی پنجاب اور چیف سیکرٹری پنجاب سے ان لوگوں کے بارے میں معلومات حاصل کی جائیں گی جو کہ الیکشن والے روز افسران کی ڈوریاں ہلا رہے تھے۔
یاد رہے کہ آزاد اور شفاف الیکشن کروانے کے لئے الیکشن کمیشن آف پاکستان کے پاس الیکشن ایکٹ 2017 کے تحت وسیع تر اختیارات ہیں اور الیکشن کے عمل کے دوران تمام ایگزیکٹو عہدیدار اس بات کے پابند ہوتے ہیں کہ وہ الیکشن کمیشن کو اپنے فرائض کی انجام دہی میں مدد کریں۔ کوئی بھی حکومت یا انتظامیہ عہدیدار الیکشن کمیشن کے احکامات کی خلاف ورزی نہیں کر سکتا اور نہ ہی انہیں نظر انداز کر سکتا ہے۔ لیکن ڈسکہ الیکشن کے روز الیکشن کمیشن کے ساتھ انتظامیہ کے ٹیڑھے رویے سے ان الزامات کو تقویت ملتی ہے کہ این اے 75 میں وسیع پیمانے پر ہونے والی دھاندلی کے پیچھے حکومتی ہاتھ موجود تھا جسے بے نقاب کرنے کی کوشش کی جائے گی تا کہ آئندہ کے لئے اس طرح کی واقعات کا تدارک کیا جاسکے۔
دوسری طرف سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ ڈسکہ کے ضمنی انتخاب میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات 18 مارچ کو وہاں دوبارہ پولنگ کروانے سے کہیں زیادہ ضروری ہے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ویڈیو بیان میں نواز شریف نے کہا کہ ‘حال ہی میں ڈسکہ میں ہونے والے ضمنی انتخاب میں الیکشن کمیشن کی جانب سے ووٹ چوروں کی نشاندہی، سزاؤں کے تعین اور انصاف پر مبنی فیصلہ عین قانون کی پاسداری ہے۔’ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے جرات و بہادری کے ساتھ باکس چوروں کو سزائیں سنائیں، ہمارا مطالبہ ہے کہ قوم جلد از جلد ان سزاؤں پر عمل ہوتا دیکھے اور اس بات کا سراغ لگایا جانا چاہیے کہ یہ سازش کس نے کی، سازش کہاں اور کب تیار کی گئی؟ ان کا کہنا تھا کہ چیف سیکریٹری پنجاب، آئی جی پنجاب، کمشنر، آر پی او، ڈپٹی کمشنر، ڈی ایس پی، بریزائیڈنگ افسران اور دیگر سرکاری افسران کی فوج ظفر موج کو ایک ہی صف میں کس نے کھڑا کروایا؟ اس باجماعت گروہ کی کس نے سرپرستی کی اور ووٹ چوری کی کس نے نگرانی کی؟
نواز شریف نے کہا کہ یہ تحقیق 18 مارچ کو ڈسکہ میں دوبارہ پولنگ سے کہیں زیادہ ضروری ہے اور ڈسکہ کا انتخاب کئی رازوں سے پردہ اٹھاتا ہے، جس طرح یہاں چوری کی گئی 2018 کے عام انتخابات میں دھاندلی کا یہ کھلا ثبوت ہے، یہ انتخاب بتاتا ہے کہ دھاندلی ایسے ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ جب الیکشن کے نتائج آنا بند ہوجائے اور اس میں تاخیر شروع ہوجائے جیسا 2018 میں ہوا تھا تو یقین کرلیں کہ آپ کا ووٹ کہیں نہ کہیں چوری ہورہا ہے اور کوئی آپ کے ووٹ کو کسی اور کے باکس میں ڈال رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں ان تمام آئین شکن عناصر تک پہنچنا ہے جو قوم کے ووٹ اور مینڈیٹ پر ڈاکا ڈالتے ہیں، میرا قوم سے یہ وعدہ ہے کہ ان عناصر کا قلع قمع کرنے تک ہم چین سے نہیں بیٹھیں گے۔
واضح رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے-75 ڈسکہ میں 20 فروری کو ہونے والا ضمنی انتخاب کالعدم قرار دیتے ہوئے پورے حلقے میں دوبارہ الیکشن کروانے کا حکم دے دیا ہے۔
الیکشن کمیشن میں مذکورہ حلقے میں ضمنی انتخاب کے دوران مبینہ دھاندلی کے خلاف دائر کردہ درخواست میں مسلم لیگ (ن) کی اُمیدوار نوشین افتخار نے پورے حلقے میں دوبارہ انتخاب کا مطالبہ کیا تھا جبکہ تحریک انصاف نے ان 20 پولنگ اسٹیشنز پر دوبارہ پولنگ کی درخواست دی تھی جن کے نتائج روکے گئے تھے۔فیصلے میں الیکشن کمیشن نے کہا کہ ضمنی انتخاب کے دن پورے حلقے میں بدامنی پھیلائی گئی، پولنگ کے دوران فائرنگ کے واقعات رپورٹ ہوئے، جس کے نتیجے میں دو افراد بھی جاں بحق ہوئے۔
الیکشن کمیشن نے این اے 75 میں 18 مارچ کو دوبارہ ضمنی انتخاب کروانے کا بھی حکم دیا۔ ساتھ ہی الیکشن کمیشن نے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اور حکومت پنجاب کو حکم دیا تھا کہ ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ ذیشان جاوید لاشاری، ڈی پی او سیالکوٹ حسن اسد علوی، اسسٹنٹ کمشنر ڈسکہ آصف حسین اور ڈسکہ و سمبڑیال کے ڈی ایس پیز کو معطل کیا جائے اور انہیں کسی الیکشن ڈیوٹی پر مامور نہیں کیا جائے۔ اسکے علاوہ الیکشن کمیشن نے چیف سیکریٹری پنجاب اور آئی جی پنجاب کو ضمنی انتخابات کے دوران اپنے فرائض سے غفلت برتنے پر 4 مارچ کو ذاتی حیثیت میں طلب کر رکھا یے۔
