شاہی قلعہ میں‌ دریافت سرنگوں میں کیا راز چھپے ہیں؟

لاہور کا تاریخی شاہی قلعہ اپنے دامن میں کئی خفیہ آثار چھپائے ہوئے ہے ۔جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سامنے آرہے ہیں۔شاہی قلعہ میں خفیہ سرنگوں اور تہہ خانوں کا ایک جال بچھا ہے اور ان کے بارے کئی افسانوی قصے کہانیاں بھی مشہور ہیں لیکن یہ پوشیدہ آثار برسوں بعد بھی عام انسانوں کی آنکھوں سے اوجھل ہیں ۔۔ لاہور والڈسٹی اتھارٹی نے حال ہی میں یہاں خفیہ سرنگوں کا ایک سلسلہ دریافت کیا ہے۔جس میں دو سرنگیں اور ایک بارود خانے کی تعمیرات سامنے آئی ہیں . سرنگوں کا یہ سلسلہ شاہی قلعہ کے اندر تک ہی محدود ہے جبکہ ایک سرنگ سے قلعہ سے باہر جانے کے آثار بھی پائے گئے ہیں۔ ان خفیہ سرنگوں اور تہہ خانوں سے منسوب قصے کہانیوں کی حقیقت جاننے کے لئے یہاں آنے والے سیاح بیتاب ہیں۔
ماہرین آثار قدیمہ کے مطابق یہاں پر بہت ساری سرنگیں اور تہہ خانے موجود ہیں اور وہ یہ جاننے کے لئے بے چین ہیں کہ یہ سرنگیں کتنی طویل تھیں اور کہاں جاتی تھیں ؟جبکہ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے ان سرنگوں کے بارے سن رکھا ہے کہ یہاں سے کئی سرنگیں شالامار باغ اوردلی تک جاتی تھیں ۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ایک سرنگ قلعہ سے مقبرہ جہانگیر تک جاتی تھی ، مغل شہزادے اور شہزادیاں ان سرنگوں کو آمدورفت کے لئے استعمال کرتے تھے۔تاہم ماہرآثار قدیمہ کا کہنا ہے کہ یہ سب قصے کہانیاں ہیں ۔ لاہورکا یہ شاہی قلعہ اتنا بڑا اور وسیع ہے کہ آج تک اس کا بہت کم حصہ عوام کے لئے کھولا جاسکا ہے، قلعہ کا بڑاحصہ اتنے برس گزر جانے کے باوجود بھی پوشیدہ ہے، لیکن اب آثار قدیمہ کو ایسی سرنگ کے آثار ملے ہیں جو قلعہ سے باہر کسی دوسرے علاقے میں جاتی تھی اب تک جو سرنگیں دریافت ہوئی ہیں وہ سب قلعہ کے اندر ہی ختم ہوجاتی تھیں ،جبکہ ان کا تہہ خانوں کے متعلق مزید کہنا تھا کہ ہوسکتا ہے جس دورمیں یہ قلعہ تعمیرہوا اس وقت یہ تہہ خانے نہ ہوں، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہاں تبدیلیاں آتی رہیں ، سکھ اور برطانوی دور میں یہاں کافی تبدیلیاں کی گئیں جس کی وجہ سے کچھ حصے سطح زمین سے بلند ہوگئے اور یہ کمرے زمین دوز ہوتے گئے۔ جبکہ حال ہی میں بارود خانہ کے قریب دریافت ہونے والی سرنگ کے متعلق ماہرین آثار قدیمہ کا کہنا ہے کہ یہ سرنگ قلعہ سے ہنگامی اخراج اور حکمرانوں کی نقل وحمل کو صیغہ راز میں رکھنے کیلئے بنائی گئی تھی اس سرنگ کے ساتھ ایک اور تہہ خانہ ہو سکتا ہے۔ تا ہم یاد رہے کہ شاہی قلعہ میں دریافت ہونے والی یہ سرنگ دوسری سرنگوں سے علیحدہ اس لیے ہے کہ یہ واحد سرنگ ہے جو شاہی قلعہ سے باہر جا رہی ہے۔ والڈ سٹی اتھارٹی نے بارود خانہ کے پاس دریافت ہونے والی اس سرنگ کو مغل بادشاہ شاہجہاں کے دور کی تعمیر قرار دیا ہے۔ شاہی قلعہ کی بحالی کے کام کیلئے کی گئی کھدائی کے دوران دریافت ہونیوالی سرنگ کے خدوخال سے پتہ چلتا ہے کہ یہ شاہجہاں کے دور حکمرانی کی تعمیر ہے جس کو 400 سال کا عرصہ بیت چکا ہے۔ماہرین کے مطابق بارود خانہ کے قریب واقع یہ سرنگ عالمگیری دروازہ کو دیوان خاص اور شیش محل سے باہم متصل کرنے کیلئے استعمال کی جاتی ہو گی۔مغلیہ دور کی اس سرنگ کے بارے میں اندازہ ہے کہ یہ قلعہ سے ہنگامی اخراج اور حکمرانوں کی نقل وحمل کو صیغہ راز میں رکھنے کیلئے بنائی گئی تھی۔سرنگ پر بھرپور تحقیق کی جارہی ہے جس کا ایک مقصد سرنگ کی تاریخی اور حقیقی صورت بحال کرکے اسے عوام کیلئے کھولنا بھی ہے ۔ مذکورہ سرنگ آثار قدیمہ کے ماہرین کیلئے بھی سنسنی خیز دلچسپی کا باعث بنی ہوئی ہے۔جبکہ آرکیالوجی ماہرین کا کہنا ہے کہ شاہی قلعہ کے نیچے ایک اور تہہ خانہ ہو سکتا ہے۔جن کی کھوج کے لیے کام جاری ہے۔خفیہ سرنگوں کے علاوہ یہاں کھدائی کے دوران برطانوی دورکا بارود خانہ بھی سامنے آیا تھا ، اس عمارت پر لکھی تحریرکے مطابق یہ حصہ 1857 میں تعمیر کیا گیا تھا اور اسے بارود خانہ کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا، اب لاہور والڈ سٹی اتھارٹی اس حصے کی بحالی میں مصروف ہے تاکہ اسے سیاحوں کے لئے کھولا جاسکے، کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ وہ ان خفیہ سرنگوں اور تہہ خانوں کے جال کوتلاش کرنا چاہتے ہیں اور یہ کھوج لگائی جارہی ہے کہ انہیں کن مقاصد کے لئے استعمال کیا جاتا تھا، کئی برسوں کی کھوج اور کھدائی سے بہت کم سرنگیں اور تہہ خانے دریافت ہوسکے اور ان تک رسائی ممکن ہوسکی ہے۔ دریافت ہونے والی ان سرنگوں نے ماضی کے کئی رازوں سے پردہ اٹھایا ہے لیکن ایسے کئی راز ہیں جن کو صدیوں سے کھوجا نہیں جا سکا ۔اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ نئی دریافت ہونے والی سرنگیں مستقبل میں کن نئے رازوں سے پردہ اٹھا نے میں کتنی مدد دیں گی ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button