شاہ رخ خان کی فلم پٹھان کے بائیکاٹ کی مہم کیوں چل نکلی؟

بالی ووڈ کنگ شاہ رخ خان نے اپنی نئی فلم پٹھان کے گانے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر کیا شیئر کی، ہر جانب کہرام مچ گیا، اور ان پر تنقید شروع ہو گئی، فلم کے گیت ’’بے شرم رنگ‘‘ کی ویڈیو ریلیز ہوتے ہی ٹرینڈنگ میں آ گئی۔ مگر گانا ریلیز ہونے کے ساتھ ہی فلم کے بائیکاٹ کے ساتھ ’بے شرم رنگ‘ اور دیپکا ٹرینڈ کرنے لگے۔
ہوا کچھ یوں کہ جہاں بہت سے لوگ شاہ رخ خان اور اداکارہ دیپکا پڈوکون کی جوڑی پر فریفتہ نظر آئے، وہیں کچھ صارفین نے گانے کو مذہبی رنگ دے دیا اور یہ اعتراض کیا کہ اس میں دکھائے گئے رنگ خصوصاً کیسری ’بے شرم‘ ہرگز نہیں۔ فلم کے ایک گانے میں دیپکا پڈوکون نے زعفرانی رنگ کا لباس پہن رکھا ہے جسے کہ فحش قرار دیا جا رہا۔ اس رنگ کو ہندو مذہب میں مقدس سمجھا جاتا ہے لہذا آر ایس ایس اور بی جے پی کے حمایتیوں نے شاہ رخ خان کی فلم کا بائیکاٹ کرنے کی مہم چلا دی ہے۔
ایک کٹر ہندو صارف نے اپنے ٹویٹ میں لکھا کہ افغانستان کے پٹھان زعفرانی رنگ کے کپڑے میں ملبوس دیپکا کا جنسی استحصال کر رہے ہیں، ایک دوسرے منظر میں پٹھان نے سبز رنگ پہن رکھا ہے۔ سیفرن سینا نامی ایک ٹوئٹر ہینڈل سے ’بائیکاٹ پٹھان‘ کے ہیش ٹیگ کے ساتھ لکھا گیا کہ ’اداکارہ نے زعفرانی رنگ کی بکنی پہن رکھی ہے جو کہ توہین آمیز ہے۔ اس کے جواب میں مُنی نامی ایک صارف نے پٹھان ہیش ٹیگ کے ساتھ لکھا: ’کچھ بھی، کوئی رنگ کسی کی ذاتی ملکیت ہے کیا؟ رنگوں میں بھی دھرم ادھرم کا چھاپ لگاتے ہیں یہ لوگ۔
نیمو تائی نے ایک ٹویٹ میں لکھا: ’کرناٹک میں لڑکیوں کو حجاب پہننے پر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ دیپیکا پڈوکون کو بکنی پہننے کے لیے تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ بنیادی طور پر سنگھی کو ہر اس خاتون سے پریشانی ہے جو اپنی پسند پر عمل کرنا چاہتی ہے۔ سنگھی‘ بنیاد پرست ہندوؤں اور آر آر ایس کے فکری نظریات کے حاملین کے لیے انڈیا میں مستعمل لفظ ہے۔ ایک اور صارف نے لکھا کہ ’اب بائیکاٹ گینگ پٹھان کا بائیکاٹ کرنا چاہتا ہے کیونکہ دیپکا نے زعفرانی زیر جامہ پہنا۔ اس منطق کے تحت ہمیں سڑکوں پر برہنہ گھومنا چاہیے کیونکہ ہر رنگ کسی نہ کسی مذہب سے وابستہ ہے۔
