شرکت اقتدار کے ہائبرڈ نظام حکومت سے فوج کی ساکھ خطرے میں


2018 کے الیکشن کے بعد سے پاکستان میں نافذ ہائبرڈ نظام حکومت نے عمران خان کے اقتدار کو جلا تو بخشی ہے لیکن اس نے بلاشبہ فوج کے اہم ترین ادارے کی ساکھ کو مزید متنازعہ بھی کر دیا یے۔ کچھ سادہ لوح لوگ لوگ یہ سوال بھی کر سکتے ہیں کہ ہائبرڈ نظام حکومت آخر ہوتا کیا ہے؟ دراصل یہ ایسے طریقہ حکومت کا نام ہے جس میں لانے والا اور آنے والا، یعنی سلیکٹر اور سلیکٹڈ، سرپرست اور برخوردار، دونوں محمود و ایاز کی طرح ایک ہی صف میں کھڑے دکھائی دیتے ہیں جسکے نتیجے میں نہ تو اور کوئی بندہ رہتا یے اور نہ ہی کوئی بندہ نواز۔ اس نظام میں جمہوریت کا نام بھی اونچا رہتا ہے اور اسکے باوردی محافظوں کی عزت اور چودھراہٹ بھی بنی رہتی ہے۔ ہماری فوجی اسٹیبلشمنٹ نے اس ہائبرڈ نظام کو 73 برس کے جوکھم سے استوار کیا ہے۔ اس دوران چار مارشل لا لگائے گے، تین آئین بنائے گے اور متعدد وزرائے اعظم کو اقتدار سے ہٹایا اور پھانسی پر لٹکایا گیا۔ اس کشت کے بعد بالآخر اس ملے جلے ہائیبرڈ نظام حکومت کی داغ بیل ڈالی گئی جس میں جو ہوتا ہے وہ کسی کو دکھائی نہیں دیتا۔ اس نظام میں حاکم با اختیار نہیں ہوتا لیکن مکمل اختیار کے زعم میں یوں مبتلا ہوتا ہے کہ کسی کو خاطر میں نہیں لاتا۔ یہ ایسا دلکش نظام حکومت ہے جس میں جمہوریت کو ترک نہیں کیا جاتا لیکن اسے گلے سے بھی نہیں لگایا جاتا۔ سیاسی قیادت منتخب بھی ہوتی ہے اور نامزد بھی، نظام حکومت کا کنٹرول فوجی قیادت کے پاس ہوتا ہے لیکن نظام جمہوری اور حکومت منتخب کہلاتی ہے۔ اتنے پیچیدہ اور مشکل نظام کو کامیابی سے چلانے کے لئے اشارے ہی سمجھانے کا اہم ترین ذریعہ ہوتے ہیں۔ جو اشارہ سمجھنے سے چوکا، وہ میدان سے باہر ہو جاتا ہے۔
نومبر 2016 میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے مسند کمان سنبھالنے کے کچھ ہی عرصہ بعد ہی ایک اصطلاح تواتر سے سنائی دینے لگی جسے ’باجوہ ڈاکٹرائن‘ کا نام دیا گیا۔ پہلے نیشنل ایکشن پلان کے تحت شروع کیے گئے آپریشن ضرب عضب کا نام تبدیل کر کے اس کی جگہ آپریشن ردالفساد شروع کیا گیا اور پھر کچھ ہی دنوں بعد اس نئے ڈاکٹرائن کی بازگشت سنائی دینے لگی۔ اس ڈاکٹرائن کی غیر سرکاری تشریح کے مطابق اسے سویلین اور ملٹری تعلقات، پاکستان کو سفارتی تنہائی سے نکال کر عالمی سطح پر پاکستان کا تشخص بہتر کرنا، خصوصا انڈیا، افغانستان اور ایران کے ساتھ سفارتی مراسم جنرل باجوہ کے ویژن کے مطابق مزید کرنا بتایا گیا۔
چند ماہ پہلے موجودہ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے ایک پریس بریفنگ میں استدعا کی کہ فوج کو سیاست میں نہ ملوث کیا جائے اور دعوی کیا کہ فوج حکومت کا ماتحت ادارہ ہے جو ہمہ وقت حکومت کی معاونت کرتا ہے۔
تاہم یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ پاکستان میں فوجی اسٹیبلشمنٹ کی سیاست میں مداخلت اب کوئی راز نہیں۔ فوج کی سیاست میں مداخلت کی باتیں پہلے بند کمروں میں ہوتی تھیں مگر گزشتہ الیکشن کے بعد ایک جملہ زبان زدعام ہے ”فوج عمران خان کو اقتدار میں لائی ہے“۔ چوک چوراہوں میں ہوں یا کھیتوں کھلیانوں میں، رکشے ٹیکسی میں ہوں یا بسوں ویگنوں میں، چائے ڈھابوں پر ہوں یا ریستورانوں میں، حامی ہوں یا مخالف، اتفاق رائے سے سب ہی نہ صرف اس عمران حکومت کو کٹھ پتلی تسلیم کرتے ہیں بلکہ ببانگ دہل یہ جملہ کہتے ہیں ”فوج عمران خان کو برسر اقتدار لائی ہے“۔ مزید ستم ظریفی یہ ہے کہ اس حقیقت کے اظہار کے لئے حزب اختلاف ’سلیکٹرز‘ یا ’نکے کا ابا‘ جیسے استعارے استعمال کرتے تھے لیکن حکومتی اراکین ٹی وی ٹاک شوز میں کھلے عام تسلیم کرتے ہیں کہ فوج ہی عمران خان کو حکومت میں لائی ہے۔
ماضی قریب میں ایک ٹالک شو میں وزیراعلی پنجاب کے مشیر عبدالحئی دستی نے اقرار کیا کہ ”ہماری فوج بیچاری قربانی دے رہی ہے، وہ اس ملک کو بچانے کے لئے عمران خان کو لے کر آئی ہے، ان کی نیت ٹھیک تھی لیکن فوج بھی اب مایوس ہو گئی ہے“۔ ڈی جی آئی ایس پی آر بھلے کہیں کہ ہمیں سیاست میں ملوث نہ کریں لیکن حکومتی شخصیات کی جانب سے ایسے بیان فوج کی سیاست میں مداخلت کا اعلانیہ اعتراف ہے۔ اپنی
ایکسٹینشن کے بعد جنرل باجوہ کی دوسری مدت ملازمت جاری ہے۔ آرمی چیف بننے سے پہلے جنرل باجوہ کے بارے میں عمومی تاثر تھا کہ وہ ایک سخت گیر جنرل کی بجائے جمہوریت پسند شخص ہیں لیکن ان کے دور میں میڈیا اور جمہوریت بدترین سنسرشپ کی زد میں رہے ہیں۔ مثبت رپورٹنگ کے نام پر مخالفین کی آواز دبانے کے لئے اس دور میں جبر اور فسطائیت کے وہ تمام ہتھکنڈے استعمال کیے گئے جو صرف دور آمریت یا مطلق العنان حکمرانوں کا طریق ہوتا ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے سابق جج شوکت عزیز صدیقی اور احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کا ویڈیو اعتراف بھی موجود ہے کہ من پسند عدالتی فیصلوں کے لئے ایجنسیوں کے اہلکار مداخلت کرتے ہیں۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ایک مضبوط فوج ملکی سلامتی کی ضامن ہوتی ہے اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے اعتبار سے ہماری فوج بلاشبہ دنیا کی ایک بہترین فوج ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ اور بھارتی طیاروں کی تباہی ہمارے جوانوں کی صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے مگر آمرانہ ذہنیت کے ھامل چند مفاد پرست افسران کی وجہ سے پورے ادارے کی ساکھ داؤ پر لگ چکی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ باجوہ ڈاکٹرائن کے بیان کردہ مقاصد بہت اچھے تھے لیکن گزشتہ دور حکومت میں معیشت پر تشویش جیسے بیانات اندرونی سیاسی معاملات میں مداخلت قرار پائے۔ مقبوضہ کشمیر میں آرٹیکل 370 میں تبدیلی کے بعد کشمیری عوام پر بھارتی تسلط کے باوجود ہماری اسٹئبلشمنٹ کی خاموشی نے عوام میں بے چینی پیدا کی۔
گزشتہ انتخابات کو متحدہ اپوزیشن نے ’دھاندلی زدہ الیکشنز کی ماں‘ قرار دیا۔ جس طرح سے آر ٹی ایس بند کروا کر نتائج تیار کیے گئے اس نے عوام کے ذہنوں میں شکوک پیدا کیے۔ چیدہ چیدہ حلقوں میں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے دوبارہ گنتی کے عمل کو روک کر عوام کے ذہنوں میں اس یقین کو پختہ کر دیا کہ اس حکومت کو فوج ہی لائی ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا یے کہ ہمیں یہ تسلیم کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں ہونی چاہیے کہ عوام میں سیاسی شعور بہت بڑھ چکا ہے۔ مقتدرہ قوتوں سے حلف کی پاسداری اور آئین میں متعین کردار دائرہ کار میں رہنے کا مطالبہ بڑھتا جا رہا ہے۔ یہ حقیقت بھی روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جبری گمشدگیوں کے باوجود موجودہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کی سیاسی مداخلت پر تنقید بہت بڑھ چکی ہے۔ منتخب وزیر اعظم کے خلاف مقدمہ درج ہو تو کہا جاتا ہے بھلے آسمان ٹوٹ پڑے ہم فیصلہ ضرور دیں گے لیکن اگر جنرل عاصم سلیم باجوہ کی خفیہ جائیدادیں سامنے آئیں تو احتساب کے اداروں پر ہو کا عالم طاری ہو جاتا ہے۔ لہٰذا انصاف اور احتساب کا یہ دہرا معیار پاکستان کے نظام کو کمزور کر رہا ہے اور فوج کے اہم ترین ادارے کی ساکھ مجروح کر رہا ہے۔ اسی دھرے معیار کی وجہ سے اداروں کا احترام کم ہو رہا ہے۔ جمہوری اور غیر جمہوری قوتوں کے درمیان واضح لکیر لگ چکی ہے۔ جو سیاسی جماعت بھی اسٹیبلشمنٹ کے اشارہ ابرو پر اپنی پٹڑی بدلتی ہے وہ عوامی نظروں میں اپنی اہمیت کھو دیتی ہے۔ اب شمالی علاقہ جات میں سیر کے لئے لے جائیں یا غدار ٹھہرائیں، جیل میں ڈالیں یا جرمانے کریں لیکن جبر اور ڈنڈے کے زور ہر عزت حاصل نہیں کی جا سکتی۔ ان حالات میں اسٹیبلشمنٹ کو جلد یا بدیر یہ حقیقت تسلیم کرنی پڑے گی کہ وہ آئین میں متعین کردہ اپنے کردار پر اکتفا کرتے ہوئے سیاسی کھیل سے دوری اختیار کرے۔ تلخ سچائی سے چشم پوشی نہیں کی جا سکتی کہ عسکری قوتوں کو سیاسی نظام کی مضبوطی گوارا نہیں مگر اقتدار کا ہما کس کے سر پہ بٹھانا ہے یہ صرف عوام کا صوابدیدی اختیار ہے، فوج کا نہیں۔ موقع پرست جرنیلوں کے لیے یہ سمجھنا بھی ضروری یے کہ جمہوری نظام کی مضبوطی میں ہی ہماری بقا اور قومی مفاد پنہاں ہیں اور اسی راستے پر چلتے ہوئے پاکستان ترقی کی منازل طے کر سکتا ہے، وگرنہ اس یرغمال نظام کے تحت عمران خان کی جگہ کوئی اور آ بھی گیا تو یہی کہا جائے گا کہ ’اسے بھی فوج ہی اقتدار میں لائی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button