فرانزک رپورٹ: ترین، شہبازشریف، مونس الہی، عمر شہریار ذمہ دارقرار

حکومت چینی بحران پر وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کی تحقیقاتی رپورٹ کا فرانزک کرنے والے کمیشن کی حتمی رپورٹ منظر عام پر لے آئی جس کے تحت جہانگیر ترین، مونس الٰہی، اومنی گروپ اور عمرشہریار چینی بحران کے ذمے دار قرار دیے گئے ہیں۔فرانزک آڈٹ رپورٹ میں چینی اسیکنڈل میں ملوث افراد کےخلاف فوجداری مقدمات درج کرنے اور ریکوری کرنےکی سفارش کی گئی ہے جبکہ رپورٹ میں تجویز دی گئی ہے کہ ریکوری کی رقم گنےکےمتاثرہ کسانوں میں تقسیم کردی جائے۔ اس کے علاوہ کابینہ نے مفادات کے ٹکراؤ کا قانون جلد نافذ کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔
شوگر انکوائری کمیشن کے سربراہ اور ڈی جی ایف آئی اے واجد ضیاء نے کمیشن کی رپورٹ وزیراعظم کو پیش کی . کمیشن نے تحقیقاتی رپورٹ میں حکومت اوراپوزیشن شوگرملز مالکان میں سے بیشترکوقصوروار ٹھہرادیا ہے. رپورٹ میں جہانگیر ترین، خسرو بختیار، وفاقی وزیر اسدعمر،رزاق داود، پنجاب کابینہ،مونس الٰہی، اومنی گروپ اور عمرشہریار کو قصور وار قرار دیا گیا ہے. اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کے بیٹے سلمان شہباز کی شوگر مل کو بھی قصور وار ٹھہرایا گیا ہے. ذرائع کے مطابق رپورٹ میں مجموعی طور پر 9 ملوں کو چینی بحران کا ذمہ دار قراردیا گیا ہے. رپورٹ کے مطابق شوگرملز مالکان سیلزٹیکس چوری اورجعلی فروخت میں ملوث نکلے. رپورٹ کے مطابق چینی کی ایکسپورٹ کی اجازت اور سبسڈی دینا غلط فیصلہ تھا، رپورٹ میں ای سی سی اورکابینہ کے فیصلوں پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے. کمیشن کی رپورٹ میں ایس ای سی پی سمیت دیگر ریگولیٹرز کو بھی ذمہ دار قرار دیا گیا ہے، تحقیقاتی کمیشن نے 9 شوگر ملز کا آڈٹ کیا. رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مسابقتی کمیشن چینی کی قیمتیں ریگولیٹ کرنے میں ناکام رہا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جے ڈی ڈبلیو شوگر مل جہانگیر ترین کی ملکیت ہے۔جہانگیر ترین نے 56 کروڑ روپے سبسڈی لی۔المعیز اور تھل شمیم احمد خان کی ملکیت جس نے 40 کروڑ کی سبسڈی لی۔ آر وائے کے اتحاد اور ٹو سٹار شوگر ملز مخدوم عمر شہریار کی ملکیت ہیں ۔یہ مخدوم خسرو بختیار کے قریبی عزیز ہیں۔چوہدری اور مونس الہی مخدوم عمر شہریار کے پارٹنر ہیں۔اس گروپ نے 45 کروڑ روپے کی سبسڈی لی۔انڈس شوگر مل غلام دستگیر کی ملکیت ہے جس نے 14 کروڑ کی سبسڈی حاصل کی۔ پنجاب حکومت نے چینی ایکسپورٹ پر اس وقت سبسڈی دی جب مقامی مارکیٹ میں چینی کی قیمتیں بڑھ رہی تھیں۔ 7 لاکھ 62 ہزار ٹن چینی میں سے 4 لاکھ 74 ہزار ٹن چینی اس وقت تک ایکسپورٹ ہو چکی تھی جب سبسڈی واپس لی گئی۔ پنجاب حکومت کی جانب سے 3 ارب روپے کی سبسڈی دی گئی۔سبسڈی سے 15 شوگر ملز نے فائدہ اٹھایا۔
وفاقی حکومت نے چینی فرانزک رپورٹ پبلک کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کو ذمہ دارافراد کیخلاف کریمنل کیسزدائر کرنے کا اختیار دے دیا ہے. وفاقی کابینہ نے چینی بحران کے ذمہ داروں کے خلاف کیسز نیب اور ایف آئی اے کو بھجوانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق کابینہ نے ٹیکس چوری میں ملوث شوگر ملز کے خلاف فوجداری مقدمات قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور آٹا بحران رپورٹ پر بھی مزید تحقیقات کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق کابینہ ارکان نے کہا کہ حکومت میں شامل شخصیات کے کاروبار سے مفادات کا ٹکراؤ آتا ہے جس پر وزیر فوڈ سیکیورٹی سید فخر امام نے مفادات کے ٹکراؤ کا قانون نافذ کرنے کی تجویز دی، فخر امام کی تجویز پر کابینہ کا مفادات کے ٹکراؤ کا قانون فوری نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے کابینہ میں شامل مشیران اور معاونین خصوصی کو اثاثے ظاہر کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ تمام مشیران اور معاونین خصوصی اپنے اثاثے فوری طور پر کابینہ ڈویژن میں ڈیکلیئر کریں۔
واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا خصوصی اجلاس ہوا جس میں چینی بحران پر تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ پیش کی گئی، اجلاس میں کابینہ نے شوگر انکوائری کمیشن کی رپورٹ پبلک کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے رپورٹ میں ذمہ قرار دیے جانے والوں کے خلاف کیسز نیب اور ایف آئی اے کو بھجوانے کا فیصلہ کیا ہے، اس کے علاوہ کابینہ نے مفادات کے ٹکراؤ کا قانون جلد نافذ کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔وزیراعظم کے معاون خصوصی شہباز گل نے ٹوئٹ میں کہا کہ کابینہ اجلاس میں طے ہوگیا ہے کہ جب تک عمران خان وزیراعظم ہیں کوئی عوام کو لوٹ نہیں سکتا، وہ وقت گیا جب وزیراعظم اور کابینہ مل کر غریب دشمن اقدامات کرتے تھے، سخت ترین دباؤ کے باوجود کپتان آج غریب کے لیے ڈٹ کر کھڑا ہوا۔
واضح رہے کہ ایف آئی اے نے چینی اسکینڈل کا فرانزک آڈٹ مکمل کیا ہے جس میں ٹیکسوں کی مد میں اربوں روپے کے فراڈ کا انکشاف ہوا ہے اور بتایا گیا ہے کہ شوگر مافیا کا تعلق تمام بڑی سیاسی جماعتوں کے ساتھ ہے۔ذرائع کے مطابق شوگر انکوائری کمیشن کے سربراہ واجد ضیاء نے آج صبح وزیراعظم کے معاون خصوصی احتساب شہزاد اکبر کے ہمراہ وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی جس میں انہوں نے شوگر انکوائری کمیشن کی رپورٹ پیش کی۔ذرائع نےبتایا کہ 346 صفحات پر مبنی شوگر کمیشن کی حتمی رپورٹ میں شوگر ملز مالکان پر ٹیکس چوری کا الزام عائد کیا گیا ہے اور 200 سے زائد صفحات کی رپورٹ کے ساتھ شوگر ملز مالکان کے بیانات بھی لگائےگئے ہیں۔ذرائع کے مطابق فرانزک آڈٹ شوگر ملز کی پیداوار اور فروخت کے حوالے سے بھی تفصیلات شامل ہیں جب کہ چینی کے بے نامی خریدواروں کا ذکر اور ای سی سی کے فیصلے سے متعلق امور بھی شامل ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ رپورٹ میں وفاقی حکومت کی جانب سے چینی برآمد کرنے کی اجازت کا ریکارڈ بھی شامل ہے۔ ذرائع کے مطابق فرانزک آڈٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہےکہ چینی مافیا کی جانب سے سٹہ کیسےکھیلا گیا۔
واضح رہے کہ شوگر انکوائری کمیشن 10 مارچ کو تشکیل دیا گیا۔شوگر کمیشن انکوائری ایکٹ 2017 کے تحت قائم کیا گیا۔شوگر کمیشن ڈی جی ایف آئی اے کی سربراہی میں 6 رکنی ممبران پر مشتمل تھا۔کمیشن میں ڈی جی اینٹی کرپشن گوہر نفیس۔ ڈپٹی ڈی جی آئی بی احمد کمال، ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ایس ای سی پی بلال رسول۔ جوائنٹ ڈائرکٹر سٹیٹ بینک ماجد حسین چوہدری سمیت ڈی جی ایف بی آر انٹیلیجنس ڈائریکٹوریٹ ڈاکٹر بشیر اللہ خان بھی کمیشن کا حصہ تھا۔انکوائری کمیشن نے 63 دنوں میں رپورٹ تیار کی۔ تحقیقات کے دوران 220 مختلف افراد سے پوچھ گچھ کی گئی۔ رپورٹ میں 600 ارب روپے سے زائد مالیت کے بے نامی کاروبار کا آڈٹ کیا گیا۔کمیشن نے اسد عمر۔ خرم دستگیر اور شاہد خاقان عباسی کے بیانات ریکارڈ کیے۔وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار اور رزاق داود بھی کمیشن کے سامنے پیش ہوئے تاہم وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ طلبی کے باوجود کمیشن کے سامنے پیش نہ ہوئے۔
خیال رہے کہ وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کی تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ ملک میں چینی بحران کاسب سے زیادہ فائدہ حکمران جماعت کے اہم رہنما جہانگیر ترین نے اٹھایا، دوسرے نمبر پر وفاقی وزیر خسرو بختیار کے بھائی اور تیسرے نمبر پر حکمران اتحاد میں شامل مونس الٰہی کی کمپنیوں نے فائدہ اٹھایا۔اس حوالے سے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ وہ اعلیٰ سطح کے کمیشن کی جانب سے مفصل فرانزک آڈٹ کا انتظار کررہے ہیں جو 25 اپریل تک کرلیا جائے گا تاہم بعد ازاں کمیشن کو رپورٹ پیش کرنے کے لیے مزید 3 ہفتوں کی مہلت دی گئی تھی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button